Columns of Saadullah jaan barq 142

میگا، میگے، مگہ اورمیگی پراجیکٹس

سناہے ایک اورمیگاپراجیکٹ کاافتتاح ہوگیاہے کیوں کہ آج عام پراجیکٹس نے پیداہونابندکردیاہے اورجب بھی پیداہوتاہے میگاپراجیکٹ ہی پیداہوتا ہے،دراصل یہ زمانہ ہی غیرمعمولی ہے اس لیے معمولی چیزیں اب پیدا نہیں ہوتیں، سب خاص یعنی میگا ہی پیدا ہوتی ہیں مثلاً اب کسی بھی پارٹی میں کوئی لیڈر یا رہنما۔

صرف لیڈر یا رہنما پیدا نہیں ہوتا بلکہ ممتاز رہنما پیداہوتا ہے،اداکاروں میں بھی سب سپراسٹارپیداہوتے ہیں، علماء سارے کرام پیداہوتے اورمشائخ بھی سب کے سب عظام پیداہوتے ہیں، مطلب کہ ہٹی کو دکان یا اسٹورہی کہاجائے گا،چاہے اس میں ایک گاہک کا سودا ہی کیوں نہ ہو بلکہ اب تو ایک قدم آگے بڑھ کر ’’ز‘‘ یا ایس بھی لگایاجاتاہے،اسٹورز، کنٹریکٹرز، انجینئرز، ڈاکٹرز، اسکولزکالجز وغیرہ۔

چنانچہ پراجیکٹ بھی سارے ’’میگا‘‘ہی پیدا ہوتے ہیں حالانکہ ہم اس ’’میگا‘‘کے معنی نہیں جانتے کہ میگاکی باتیں میگا لوگ ہی جانیں۔
کشتگان غرورکی باتیں
صاحبان غرورکی باتیں
اورغفورے پہ جو گزری ہے
سیٹھ عبدالغفور کیا جانیں

پھر بھی تجسس تو ہے کہ آخر یہ ’’میگا‘‘ کیاہوتاہے، کہاں ہوتاہے اورکیسے ہوتاہے اورآپ کو تو یہ بھی پتہ ہے کہ تجسس اورتحقیق ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اس لیے یہ معلوم کرناضروری ہے کہ میگاکامطلب کیاہے، جہاں تک ہمیں یادہے ،ایک لفظ’’اومیگا‘‘ یونانی ہے اور اس کامطلب شاید’’صفر‘‘ہے۔اصل ہندیورپی لفظ ’’اوم‘‘ ہے جو ہندی دھرم میں بھی بھگوان یاابتداکو کہتے ہیں لیکن بنیادی طورپر یہ لفظ پشتومیں اب بھی اپنے صحیح معنی میں کثیرالاستعمال ہے ’’اوم‘‘ ہر اس چیزکو کہتے ہیں جو نہ کچا ہونہ پکا یاآدھا کچاآدھاپکا۔یعنی نیم پختہ ہو یا، یہ بھی ہو اوروہ بھی ہو۔یاپورایہ بھی نہ ہواوروہ بھی نہ ہو۔اومہ روٹی،اومہ بیرہ،اومہ خولہ،اوم تار۔

یہ بھی پڑھیں: -   چینی ذہنیت چینی ناولوں کی روشنی میں

یوں اوم یااومیگاابتدابھی ہے اورانتہابھی یعنی اول بھی آخر بھی اب اس ’’میگا‘‘ کے ساتھ اور تو ہے نہیں ،صرف میگاہے اس لیے سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کیاسمجھیں۔اول آخر،سیت یانیست۔

اب لازماً دوسراآپشن ڈھونڈناپڑے گا۔ پشتو میں چیونٹی کو میگے کیاجاتاہے اوراگرکوئی غیرپشتون بولے تو ’’میگہ‘‘ کہے گا،ظاہرہے کہ میگہ یامیگے کی رفتارخاصی مشہورہے بلکہ اس میں گرنے اٹھنے پھر گرنے کامفہوم بھی شامل ہے ۔تفصیل کے لیے لنگڑے تیمورکی تاریخ دیکھیے۔اس کامعلم بھی ایک چیونٹاہی تھا یاشاید چیونٹی ہو کہ چیونٹی بھی چیونٹے سے برابری کاحق ر کھتی ہے تو اس میگہ یامیگی نے لنگڑے تیمورکو اکساکر قہرعالم بنایاورنہ وہ تو سمرقندمیں کسی چوک پر کٹورا لے کر بھیک مانگنے کے بارے میں سوچ رہاتھا ،اس سے ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ یہ میگامیگے وغیرہ حکومتوں کا ’’سہارا‘‘ہوتے ہیں اورشاید میگاپراجیکٹس بھی کیوں کہ میگے اپنی رفتار تو نہیں بدل سکتاہے اورنہ ہی دیوار سے گرنے کاعمل روک سکتا ہے۔

ابھی ہم میگامیگے کے آپسی تعلق کے بار ے میں سوچ ہی رہے تھے کہ پھروہی ہوا ایک اوردم ہلنا شروع ہوگئی اوریہ ’’دم‘‘بہت تیزی سے ہل رہی تھی دیکھا تو وہ ’’مگہ‘‘کی دم تھی جو چوہے کاپشتو نام ہے مگہ واحد ہے۔مگے جمع ہے اورشاید ’’مگا‘‘مذکرہو۔

غورکیا تو اس مگہ کا تعلق بھی میگا سے بنتاہے بلکہ بہت گہرا بنتاہے کیوں کہ پہاڑ کھودنے پر یہی کم بخت ’’مگہ‘‘ ہی نکلتا ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ میگا پراجیکٹ میں مگوں یعنی چوہوں کابھی کوئی کردار ہو کیوں کہ ۔اگرچہ چھوٹی ہے ذات چوہے گی۔دل کو لگتی ہے بات چوہے کی۔یہ چھوٹی سی آفت اگرچاہے تو بڑے بڑے پراجیکٹوں کابھی دام نام ست کرسکتی ہے بلکہ کرچکی ہے کیوں کہ گزشتہ زمانوں میں جہاں بھی میگا پراجیکٹ چلے انھیں ’’مگے‘‘ نگل گئے۔

یہ بھی پڑھیں: -   خلا

مگہ کاعلاج بھی تقریباً مقفود ہے کیوں کہ ان کا علاج صرف بلی کے پاس ہے اوربلیاں آج کل گوشت کی چوکیداری میں مصروف ہیں تو پھر چوہوں کاعلاج کون کرے۔

یہ ہے شیطان اک زمانے کا
اب اسے بندیوان کون کرے

لگتاہے یہ ’’میگا‘‘ کالفظ بڑا دمدار ہے ہرطرف سے دمیں ہی دمیں ہل رہی ہیں، اب یہ سامنے اس قبیلے کاایک اورلفظ دم ہلارہاہے یہ لفظ ہے ’’میگی‘‘ یہ پشتو کا نہیں بلکہ قدیم پارسی کاہے ،پارسی مذہب کے بزرگوں اوررہنمائوں کو’’میگی‘‘کہاکرتے جو بعد میں ’’مغ‘‘ بھی کہلانے لگے اورپھر اس سے اردو فارسی شاعری کامغان اورپیرمغان ۔

گرپیرمغان مرشدمن شدچہ تفاوت
دربیج سرے نسبت کہ سرزخدانیست

اس پارسی میگی کی پہنچ بہت دوردورتک ہے اس سے لفظ میگوس یامجوس بھی بنا ہے اورپھر اس سے ’’میجک‘‘ بھی ۔کیوں کہ یہ لوگ جادوٹونابہت کرتے تھے،ٹھیک سیاسی لیڈروں کی طرح۔چٹکیوں میں روٹی کپڑامکان بھی دلاتے تھے ،نوے دن میں تبدیلی لاکر نیاملک بھی بنالیتے تھے اورلوگوں کی دہلیزپرانصاف اورنہ جانے کیا کیاکرتے تھے لیکن اصل میں سب کچھ آنکھوں اور کانوں کادھوکا ہوتاتھا۔جنت بھی بنالیتے تھے ،کنوئیں سے چاند بھی نکال دیتے تھے،سبز،سرخ ،کالے، نیلے،پیلے باغ بھی اگا لیتے تھے۔لیکن صرف یہ ہی نہیں،یہ لفظ میگی جب ہمارے ہاں پہنچا تو ’’میاں جی ‘‘اورمیاں گان بھی بن گیا۔اورسرکار بابا کے مزارکے متولی اورمجاور بھی بن گئے۔

اس لیے ہماراشک اسی میگی پر ہے کہ شاید میگا بھی اس کاکوئی روپ یارشتہ دار ہو۔ورنہ جو قرض کے مارے دربدر کشکول لیے پھر رہے ہوں وہ میگا، میگا کیسے کھیل سکتے ہیں۔یایہ بھی ممکن ہے کہ یہ میگا ایک ملٹی پرپزیعنی کثیرالمقاصد ،کثیرالمعنی اورکثیرالتاویل لفظ ہو۔اوراس چیونٹی (میگے) چوہا (مگہ) اورمیگی (جادوگر) سب کے سب برابر کے پارٹنر ہوں کیوں کہ ’’اتفاق‘‘ میں برکت اورساجھے داری میں سہولت بھی تو بہت ہوتی ہے اورایک دوسرے پر الزام دھرنے کی گنجائش بھی۔ جیسے کہ اس سے پہلے میاں جی گھرانے کے ’’میانگان‘‘ کے ساتھ ہوا وہ بھی تو میاں جی تھے لیکن اب میگی،میگے اورمگہ بنا دیے گئے ہیں اوریہ تو ابھی ہم نے ہندی میگھ اورمیگھاکو چھیڑا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   بسوزعقل زحیرت…
Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں