Columns of Attaul-Haq Qasmi 128

جمہوریت کی جنگ اور مومنانہ حکمت ِعملی!

کل ایک دوست سے گفتگو ہو رہی تھی، گفتگو تو میں کر رہا تھا، وہ مجھے مسلسل پریشان کرنے میں لگا ہوا تھا، یار ہمارے ملک کا کیا بنے گا، وہ سحر تو آئی ہی نہیں جس کا خواب اقبال سے فیض تک ہمیں دکھاتے رہے، ملک میں جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت نافذ ہے، سویلینز کی اسامیاں نان سویلینز سے پُر کی جا رہی ہیں، اس طرح کے معاملات پر کوئی بات کرے تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے یا اس پر حملہ کر دیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے ہر جملے کے بعد سخت پریشانی کے عالم میں وہ کہتا تھا ’’پاکستان کا کیا بنے گا؟‘‘

یہ تو اس کی پریشانی کا احوال تھا، اس کے جواب میں، میں جو گفتگو کر رہا تھا وہ کچھ اس طرح کی تھی کہ برادر تمہارے ذہن میں اس وقت جو مغربی جمہوری ممالک ہیں کبھی ان کی تاریخ پڑھو، یہاں کے لوگ صدیوں ہم سے سو گنا بدترین حالات سے گزرے ہیں مگر اس دوران دانشور اپنا پیغام اپنی کتابوں کے ذریعے عوام تک پہنچاتے رہے اور تبدیلی کے بیج ذہنوں میں بوتے رہے، کئی ایک نے چوراہوں میں کھڑے ہو کر ’’باغیانہ‘‘ نوعیت کی تقریریں بھی کیں جس کے نتیجے میں ان کے بال بچے کولہو میں پسوا دیے گئے۔ پھر کچھ انقلابی جماعتوں نے جنم لیا، زور آوروں کے سامنے ان کی طاقت کا ریشو دو فیصد بھی نہیں تھا، عوام گھر بیٹھے ان کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ زور آوروں اور کمزوروں کے درمیان بھی یہ جنگ قدرے زور پکڑتی تھی مگر پھر دبا دی جاتی تھی ، ایک روز جمہوری قوتیں تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور اس کے نتیجے میں پہلے نمبر پر خونی انقلاب آیا کہ موقع سے فائدہ اٹھا کر لوٹ مار کرنے والا طبقہ بھی میدان میں آ گیا، انہوں نے اپنا کام کرنا شروع کر دیااور اپنا دیکھا نہ غیر، قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا مگر بالآخر جمہوری قوتوں کو فتح نصیب ہوئی۔ ویسے بھی دو عظیم جنگوں نے زور آوروں کو کمزور کر دیا تھا، کمیونسٹ انقلاب نے یورپ کے سرمایہ دار گروپوں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے بادلِ نخواستہ ہی سہی کچھ نہ کچھ کریں، اگر مزدوروں کو روٹی کا چوتھائی حصہ بھی نہ دیا تو پوری روٹی ان سے چھن جائے گی اور صدیوں کی مزاحمت کے بعد بالآخر دنیا میں وہ جمہوری اور فلاحی حکومتیں وجود میں آئیں، وہ نظام وجود میں آیا جس کا خواب ہم سوتے میں دیکھتے ہیں اور آنکھ کھلنے پر صرف یہی کہتے ہیں کہ ’’یار پاکستان کا کیا بنے گا؟‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   ایک بستی امیروں اور ایک غریبوں کی!

اس وقت پاکستان جس مرحلے سے گزر رہا ہے، اس کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت سے ہوتا ہے، جب عوام کی بڑی تعداد اٹھ کھڑی ہوئی، بھٹو پھانسی چڑھ گیا اور پھر ’’باغیانہ‘‘ آوازیں آہستہ آہستہ مدھم ہوتی چلی گئیں۔ ان آوازوں نے ایک دفعہ پھر زور پکڑا جب نواز شریف نے دوسری دفعہ اور تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کے بعد پہلے آہستہ سروں میں اور پھر بلند آہنگ کے ساتھ نظام کی تبدیلی کا منشور پیش کیا، ان کے بیانیے کو بہت پذیرائی ملی مگر ان کا پورا گھرانہ اور ان کی جماعت کے فعال رہنمائوں کو بدترین حالات سے گزرنا پڑا۔ بھٹو کے بعد نواز شریف جمہوری تاریخ میں امر ہو گیا۔ ان کی آواز پر ایک بار پھر دانشوروں کی ایک تعداد اپنی تحریروں اور زیادہ تر سوشل میڈیا پر ان کے بیانیے کے حق میں فعال نظر آئی جس کا خمیازہ ان کی اکثریت کو بھگتنا پڑا۔

اب جو بات میں کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے۔۔۔ مگر پہلے اس کی مثال سن لیں۔ میں چونکہ کشمیری نژاد ہوں، چنانچہ مثال بھی ’’کھابے‘‘ کی دوں گا، یعنی اگر ہمارے سامنے پورا دستر خوان انواع و اقسام کے کھانوں سے بھرا ہو، تو ہمیں سلگتا ہوا گرم گرم نوالہ منہ میں نہیں ڈالنا چاہئے کہ اس سے منہ میں چھالے پڑ جائیں گے اور اس کے بعد دوسرا نوالہ منہ میں ڈالنے کی نوبت مشکل ہی سے آئے گی، چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم جمہوریت کا سفر بھی اتنی ہی رفتار سے طے کریں کہ آدھے راستے ہی میں تھک کر گر نہ جائیں۔ پاک فوج ہماری اپنی ہے، کوئی غیر نہیں ہے، اس میں شہیدوں کے خون کی خوشبو بھی رچی بسی ہے، اس کے کچھ بڑوں سے بہت بلنڈر بھی ہوئے ہیں مگر اس میں پاکستان کی سلامتی کو مدنظر رکھنے والے کردار بھی ہمیں نظر آتے رہے ہیں، چنانچہ ہم اپنی بات کہتے رہیں۔ انہیں بات سمجھانے کی ضرورت ہے نیچا دکھانے کی نہیں۔ دو فوجیں بھی جب آمنے سامنے ہوتی ہیں، تو بوقت ضرورت بلکہ اسٹرٹیجی کے طور پر ان میں سے ایک کو وقتی طور پر پسپائی بھی اختیار کرنا پڑتی ہے اس کے بعد تازہ دم ہو کر وہ دوبارہ محاذ پر آ جاتی ہے اور اپنی چھینی ہوئی چوکی واپس لے لیتی ہے۔ اس وقت ضرورت یہ ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر چلیں، کسی ایک نکتے پر اتفاق کریں تاکہ جمہوری منزل مزید دور نہ ہونے پائے، مگر اس کے لئے زور آوروں اور جمہوری قوتوں دونوں کو اپنی اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنا ہو گا ورنہ قائداعظم کے خواب کی تعبیر کم از کم میری عمر کے لوگ نہیں دیکھ سکیں گے۔ ہمیں دیوار سے ٹکریں نہیں مارنی، صرف اپنے حوصلے بلند رکھنا ہیں اور حکمتِ مومنانہ سے جمہوریت کے سفر کی پُرخار راہیں طے کرنا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   آخری وارث
Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں