Columns of Attaul-Haq Qasmi 103

پروفیسر جنید اکرم…الوداع!

ہمارے ہاں مادری زبانوں میں کام کرنے والے اکثر گمنام رہتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مادری زبانوں میں لکھنے والے عموماً درویش منش ہوتے ہیں۔ پروفیسر جنید اکرم بھی انہی میں سے تھے۔ پنجابی سے اُنہیں عشق تھا اور تمام تر نقصان کے باوجود سہ ماہی رسالہ ’پنجابی‘ شائع کرتے رہے اور اُردو میں لکھنے والے پنجابی ادیبوں کو مسلسل قائل کرتے رہے کہ آپ پنجابی میں بھی لکھا کریں۔جنید اکرم معروف پنجابی شاعر فقیر محمد فقیر کے نواسے تھے جنہیں بابائے پنجابی بھی کہا جاتاہے۔گوجرانوالہ سے تعلق ہونے کی وجہ سے جنید اکرم خوش خوراک ہونے کے ساتھ ساتھ خوش مزاجی کی نعمت سے بھی مالا مال تھے۔ ہر سال اپنے گردے فیل ہونے کی سالگرہ منایا کرتے تھے اور باقاعدہ کیک کاٹا کرتے تھے۔ جنید اکرم کو فقیر محمد فقیر کا نواسہ ہونے کا شرف تو حاصل ہی تھا اس کے ساتھ ساتھ وہ معروف اداکار سہیل احمد عرف عزیزی اور پروفیسر اورنگزیب کے بھائی بھی تھے۔ میں نے بہت کم ایسے پڑھے لکھے، دین دار اور سراپا انکسار لوگ دیکھے ہیں۔ پنجابی کے ساتھ جنید اکرم کی محبت لازوال تھی۔ احباب کئی دفعہ انہیں مذاق میں کہا کرتے تھے کہ آپ کے اختیار میں ہو تو آپ پنجابی کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دے دیں۔ جواب میں جنید اکرم قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے کہ میرے اختیار میں ہو تو پنجابی کو عالمی زبان قرار دے دوں۔ جنید اکرم نے متعدد کتابیں تالیف اور تحریر کیں جن کی تعداد 70سے زیادہ ہے۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اُن کے اندر تخلیقی جوہر کس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جنید اکرم کا ایک بہت بڑا کام جو ذاتی طور پر کچھ زیادہ ہی پسند آیا وہ علامہ اقبال کی کچھ نظموں کا پنجابی ترجمہ تھا۔ اپنے ادبی کام کے علاوہ وہ عام زندگی میں ایک ملنسارا ور عاجزانہ طبیعت کے مالک تھے۔ ناممکن تھا کہ اُن کی سنگت میں بیٹھنے والا اُن کی محبت سے سرشار نہ ہو۔ شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اِن بیماریوں کو اپنے سر پر سوار نہیں کیا۔ 2006میں جب اُن کے گردے فیل ہوئے تو وہ یکدم قومہ میں چلے گئے۔ادبی حلقوں میں ایک کہرام سا مچ گیا لیکن پھر معجزہ ہوا اور وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ اب ان کی زندگی ڈائلسز کی محتاج ہوکر رہ گئی تھی۔ اس کے باوجود وہ سوشل میڈیا پر متحرک رہے۔ سولہ سال باقاعدگی سے ڈائلسز اور بدپرہیزی کا سلسلہ جاری رکھا۔ نہ خوش خوراکی میں کمی آنے دی نہ بیماری کو سر پر سوار کیا۔ فیس بک پر ان کی پوسٹس دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ بندہ جسمانی طور پر اتنے خطرناک حالات سے گزر رہا ہے۔ مجھے ایسے زندہ دل لوگ پسند ہیں جو موت آنے سے پہلے نہیں مرتے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی سخت بیماری کے باوجود وہ اپنے سرکاری فرائض نمٹاتے رہے اور 2019میں گورنمنٹ کامرس کالج اقبال ٹاؤن کے وائس پرنسپل مقرر ہوگئے۔ عشقِ رسولﷺ ان کی ذات کا خاصا تھا۔ سو عمرہ کرنا چاہتے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ ڈائلسز پر تھے۔ اس کا حل انہوں نے یوں نکالا کہ اپنے ایک دوست کی وساطت سے مکہ مکرمہ میں ہی ڈائلسز کا بندوبست کیا اور پوری عقیدت و احترام کے ساتھ عمرہ کے فرائض سر انجام دیے۔جرات کا یہ عالم کہ گزشتہ سال انتہائی نقاہت میں ہونے کے باوجود رمضان میں روزے بھی رکھتے رہے۔شاید جانتے تھے کہ یہ ان کی زندگی کے آخری روزے ہیں۔ احباب گواہ ہیں کہ اُن کی زبان پر ہمیشہ درود پاک رواں رہا۔ عشقِ رسولﷺ اور عشقِ انسانیت ان کا طرہ امتیاز رہا۔میں نے کبھی ان کی زبان سے کسی کے لئے کوئی برا کلمہ نہیں سنا۔ ان کے ساتھ بہت سے لوگوں نے ہاتھ کیے لیکن طاقت ہوتے ہوئے بھی انہوں نے کسی سے مڑ کر بدلہ نہیں لیا۔انہوں نے ساری زندگی ایک عجیب سی سرشاری کے عالم میں بسر کی۔ شعر کہے، کتابیں لکھیں، رسالہ نکالا، درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیے اور خلقِ خدا کی آسانی کے لئے راہیں تلاش کیں۔ آپ جنید اکرم کے جاننے والے کسی بھی شخص سے مل کر دیکھ لیجئے، کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو ان کی رحلت سے آزردہ نہ ہو۔ میں نے زندگی میں بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو آخری وقت میں اچانک نیک ہوجاتے ہیں،معافیاں مانگنے پر اتر آتے ہیں اور دُنیا داری سے یکدم کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔ جنید اکرم ایسے نہیں تھے۔وہ اپنی موت تک وہی تھے جو زندگی میں تھے۔ اونچا لمبا بھرپور جسم کا مالک انسان جس کے اندر صرف اور صرف انکساری بھری ہوئی تھی۔ اپنے ماتحتوں اور ملازمین کے ساتھ اُن کا رویہ ہمیشہ دوستانہ رہا۔ اُن کی شفقت اور انسان دوستی کے قصے آپ ان کے ماتحتوں سے پوچھ کر دیکھئے۔ سچی بات ہے کہ جنید اکرم کی صورت میں ہمیں ایک ایسا انسان میسر تھا جو دل کا بادشاہ تھا۔ اپنی گرجدار آواز کے باوجود اُس کے اندر محبت کا سمندر موجزن تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ دُنیا ایسے شاندار لوگوں سے کیوں خالی ہوئی جاتی ہے؟ وہ لوگ کیوں نہیں مرتے جو دن رات صرف نفرتیں اور کدورتیں پھیلانے میں لگے رہتے ہیں۔ پھر خود سے ہی جواب ملتا ہے کہ شاید جنت میں جنید اکرم جیسے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے جو خوبصورتی کے تمام تقاضوں پر پورے اترتے ہوں۔ میں پوری کوشش کے باوجود جنید اکرم کو مرحوم لکھنے سے قاصر ہوں۔ ایسے شخص سے صرف ہم ’محروم‘ ہوئے ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنید اکرم کو اپنے سایہ عافیت میں پناہ دے، ان کی مغفرت فرمائے اوران کے لگائے ہوئے پنجابی کے پودوں کو تناور درخت بنائے۔ آمین …ثم آمین!

یہ بھی پڑھیں: -   کیا امریکا بکھر رہا ہے ؟ ( دوسرا حصہ )
Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں