Columns of Amjad Islam Amjad 105

زندگی اور یادیں اور عمرِ رواں

یہ عنوان ہیں اُن دوخودنوشت سوانح عمریوں کے جو ان دنوں میرے مطالعے سے گزری ہیںاب یہ زندگی کی رنگا رنگی کا کمال ہے کہ دونوں متعلقہ شخصیات جیومیٹری کی زبان میں ایک دوسرے سے 180ڈگری زاویے پر مختلف ہیں اور دونوں کتابوں کا ماحول بھی ایک دوسرے سے بالکل جداگانہ ہیں مگر اس کے باوجود اپنی اپنی جگہ پر دونوں دلچسپ بھی ہیں معلومات افزا بھی اوربصیرت آمیز بھی کہ چاہے ’’زندگی اوریادیں‘‘ کے ڈاکٹر راشد لطیف ہوں یا ’’عمرِ رواں‘‘ کے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ہر دو حضرات نے اپنی زندگی کے تجربات، مشاہدات اور حاصل کردہ اسباق کوبہت دیانتداری اور بے تکلفی سے ان کتابوں میں محفوظ کر دیا ہے۔

فرید پراچہ صاحب کا ادب،قانون، اسلامیات، جماعت اسلامی اورملکی سیاست سے تعلق ایک عالمانہ اور مضبوط نثرکا آئینہ دار ہے، وہیں ڈاکٹر راشد لطیف کی اپنے پیشے میں غیرمعمولی مہارت، کامیابی ، طبیعت کی اثباتیت اور خوش مزاجی قاری کا دھیان کسی اور طرف جانے ہی نہیں دیتیں۔ واقعات کی تکرارہو یا واقعاتی تسلسل کی کمی اُن کی تحریر کی روانی اور بے ساختگی کے سامنے سب کچھ ماندپڑجاتاہے اور جس طرح وہ ہر کردار یا واقعے میں سے بیان کے آخر میں کچھ نتائج اخذ کرتے اور انھیں اپنے قارئین سے شیئر کرتے ہیں اس کا اپنا ہی مزا ہے کہ عام طور پر بہت کم سوانح عمریاں اسی طرح اپنے قارئین سے براہ راست باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔

ڈاکٹر راشد لطیف اپنے مخصوص شعبے گائناکالوجی میں بلاشبہ اُستادوں کے اُستاد ہیں کہ اُن کی اس موضوع پر لکھی ہوئی کتابیں پڑھ کر ہی وہ ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرتے ہیں ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بے شمار انتظامی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنی پریکٹس کے لیے بھی کچھ وقت نکالتے ہیں، عام طور پر اُن کی سطح کے ماہرین اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث مریضوں سے زیادہ لمبی بات نہیں کرسکتے مگر ڈاکٹر راشد لطیف کی مسکراہٹ اور بذلہ سنجی ایسی ہے اور وہ مریضوں سمیت ہر ملنے والے سے اتنی اپنائیت سے بات کرتے ہیں جیسے اُن کے پاس وقت ہی وقت ہو۔
اتنے برسوں کی ملاقات میں، میں نے انھیں کبھی کسی پر ناراض ہوتے نہیں دیکھا اور اُن کی آواز کی خوشگوار کھنک ایسی ہے کہ آپ فاصلے سے بھی اسے محسوس کرسکتے ہیں کچھ عرصہ قبل انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی جمع اور تحریر شدہ یادداشتوں کو شائع کروانا چاہتے ہیں لیکن چونکہ یہ اُن کا میدان نہیں اس لیے وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   اشرافیہ پاکستان کو کھا گئی

میں نے ان کے تیار کردہ مسودے کو دیکھا تو مجھے ان کا بے ساختہ اور غیر روایتی انداز اچھا لگا مسئلہ صرف یہ تھا کہ یہ یادداشتیں بغیر کسی پلاننگ کے مختلف انداز میں Randomیادوں کے حوالے سے تحریر کی گئی تھیں جس کی وجہ سے اُن میں کہیں کہیں یا تو تکرار در آئی تھی یا زمانی ، مکانی اور واقعاتی تسلسل کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تھا، اسی طرح کہیں کہیں جملوں کی ترتیب یا املا کے حوالے سے کچھ باتیں محلِ نظر تھیں جو اس اعتبار سے بہت معمولی تھیں کہ لکھنے والا نہ تو کوئی باقاعدہ ادیب تھا اور نہ ہی اُسے زندگی میں اس طرف توجہ دینے کا مناسب موقع مل سکا تھا۔

سو میں نے اُن کو یہی مشورہ دیا کہ وہ ان تینوں معاملات کی درستی پر توجہ ضرور دیں اور سارے مواد کو ایک بار ایڈیٹر کی آنکھ سے بھی دیکھیں مگر اسے باقاعدہ ادب پارہ بنانے کی کوشش نہ کریں کہ اس کی یہ جزوی بے ربطی اور اظہار کی بے تکلفی ہی اس کا اصل حسن ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور یوں اب یہ کتاب ہمیں کہنے کو تو اُن بہت سے لوگوں کی وہ تصویر دکھاتی ہے جو راشد لطیف صاحب کی آنکھوں اور حافظے میں محفوظ تھی لیکن اُن کے بارے میں جو رواں تبصرہ کیا گیا ہے۔

اس کی وجہ سے اب وہ ہمیں بھی دیکھے دیکھے اور جانے پہچانے سے لگتے ہیں اور جس طرح سے مختلف کرداروں اور واقعات کے حوالے سے وہ آخرمیں کچھ نتائج نہ صرف نکالتے ہیں بلکہ انھیں اپنے قارئین سے بھی شیئر کرتے ہیں اس میں اُن کی دانش، تجربے اور پروفیسرانہ انداز کی جو جھلک نظر آتی ہے اس کا مزا ہی کچھ اور ہے، اس کتاب کو انھوں نے بہت سلیقے اور خوبصورتی سے شائع کیاہے ایک بہت خوبصورت انداز کی پیکنگ میں ایک طرف یہ کتاب ہے اور دوسری طرف انھوں نے اپنی بیگم طلعت راشد کے ساتھ مل کر اپنے بچوں اور نئی نسل کے لیے بزبانِ انگریزی بہت خوبصورت اور بامعنی اقوالِ زریں ایک دوسری کتاب کی شکل میں جمع کردیئے ہیں،اسی کتاب کی معرفت پتہ چلا کہ اُن کے قائم کردہ ’’حمید لطیف‘‘ اسپتال میں حمید اُن کے سسر اور لطیف والد صاحب کا نام ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   اولاد کی تربیت

برادرم ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سے تعلق اور تعارف کا آغاز تو پنجاب یونیورسٹی کی طالب علمی کے دنوں سے ہوا مگرگزشتہ 50برس میں اس کا گراف ہمیشہ اُوپر ہی کی طرف رہا ہے کہ مختلف حوالوں سے اُن سے ملاقات ہوتی رہتی ہے اور ہمارے بہت سے مشترک دوست بھی اس تعلق کو مزید مضبوط کرنے میں اپنا رول ادا کرتے رہے ہیں۔

قلم فاؤنڈیشن کے عبدالستار عاصم کی معرفت اُن کی خود نوشت سوانح ’’عمرِ رواں‘‘ ملی تو بہت سے احباب اور واقعات کی یاد پھر سے تازہ ہوگئی، اُن کے بڑے بھائی حسین احمد پراچہ اور بھتیجے ڈاکٹر بلال پراچہ کے ساتھ چند برس قبل امریکا میں بھی کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا، ان کی جماعت اسلامی سے گہری وابستگی کا علم بھی تھا مگر اس بات کا پتہ مجھے اس کتاب کے مطالعے سے چلا کہ اُن کے والد مولانا گلزار احمد مظاہری تھے جن کا شمار مولانا مودودی کے بہت قریبی رفقا میں ہوتا تھا، اسی طرح اُن کے آبائی قصبے بھیرہ اور میانوالی میں گزارے ہوئے بچپن کے بارے میں بھی اس کتاب نے بہت رہنمائی کی۔

پنجاب یونیورسٹی کی سیاست کے بعد اُن کو زندگی میںکیا مراحل اور مسائل پیش آئے اور کاروبار، سیاست اور ازدواجی زندگی کو انھوں نے کس طرح کامیابی سے نبھایا، کب کب اور کتنی قیدیں کاٹیں اور بعض تاریخی نوعیت کے واقعات میں اُن کا کیا کردار رہا اس کی روداد انھوں نے جس سادگی اور سچائی سے درج کی ہے وہ اس لیے بھی بہت حیران کُن ہے کہ کئی واقعات مثلاً لاہور میں واجپائی کی آمد اور اس کے خلاف جماعت اسلامی کے مظاہروں کی جو تصویر ’’عمرِ رواں‘‘ میں دکھائی دیتی ہے وہ اس سے بہت مختلف ہے جو عام طور پر پیش کی جاتی ہے، ان کی سیاسی تگ و دو ، صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی اور اس دوران میں عالمی سطح کے دوروں اور تقریبات میں شرکت اور اپنی جماعت کے نظریات کی پاسداری اور اُس کی ادا کردہ قیمت کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں، اُن کی پوری زندگی ایک ایسی جدوجہد کی علامت ہے جس کے بعض حصوں سے آپ اتفاق نہ بھی کریں تب بھی فرید پراچہ کا کردار آپ کو ہر صورتِ حال میں جراّت مندانہ اور مستحکم نظرآتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   افغانستان… کس کا قبرستان؟

اس کتاب کے ذریعے پاکستان کے گزشتہ پچاس سال کی تاریخ کے اہم ترین واقعات کا ایک ایسا بیان نظر آتا ہے جس سے کئی غلط فہمیاں دور اور اُلجھنیں واضح ہوتی نظر آتی ہیں۔فرید پراچہ لکھنے اور بولنے میں مہارت رکھتے ہیں چنانچہ اس کتاب میں ہر جگہ انھوں نے توازن اوردلچسپی کا خیال رکھا ہے اور یوں اس کتاب کو ہر طرح کے قاری کے لیے لائقِ مطالعہ بنا دیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں