Columns of Ansar Abbasi 111

کیا EU پاکستان میں انتشار چاہتا ہے؟

گزشتہ دنوں یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے پاکستان کے خلاف ایک قرارداد پاس کی جس میں رُکن ملکوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان توہین کے قانون (Blasphemy Law) کو ختم نہیں کرتا تو وہ پاکستان کے ساتھ GSP Plusتجارتی معاہدہ ختم کردیں۔ مطلب یہ مغرب بالخصوص یورپی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں بھی کوئی توہینِ مذہب یا گستاخی کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اُسے جرم نہ سمجھا جائے بلکہ آزادیٔ رائے کے طور پر برداشت کر لینا چاہئے۔ یورپی یونین پارلیمنٹ کی اِس قرداد سے کچھ دن پہلے گزشتہ ماہ اپریل 2021میں امریکہ کی مذہبی آزادی کی متعلقہ تنظیم United States Commission on International Religious Freedomنے اپنی تازہ رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کو پاکستان کے متعلق یہ سفارش کی کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون کے ساتھ ساتھ یہاں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دی جانے والی آئینی شق کو ختم کروانے کے لئے امریکہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ یورپی یونین کے پارلیمنٹ کی قرارداد کی طرح اِس رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جو لوگ پاکستان میں گستاخی کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں اُنہیں رہا کیا جائے۔ اب اس پر امریکی حکومت اور یورپی ممالک کیا عملی اقدامات کرتے ہیں، یہ ابھی دیکھنا ہے لیکن امریکہ و یورپ کا ایجنڈا ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ آزادیٔ رائے کے نام پر پاکستان میں ایک ایسے انتشار اور شر کے راستے کو کھولنا چاہتے ہیں جسے یہاں کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ جس جرم پر پوری دنیا کے مسلمان تڑپ اٹھتے ہیں اور جو گستاخانہ عمل آئے دن مغربی ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں بار بار دہرایا جاتا ہے، کوشش یہ ہے کہ وہی کچھ نام نہاد آزادیٔ رائے اور آزادیٔ اظہار کے نام پر پاکستان میں اگر کوئی چاہے تو کرے لیکن اُسے نہ پکڑا جائے، نہ سزا دی جائے بلکہ ایسا عمل کرنا اُس کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ کہا جاتا ہے یورپی یونین، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں توہینِ مذہب کے عمل کا آزادیٔ رائے کے نام پر دفاع کرنے والے دراصل مسلمانوں کے جذبات اور اُن کی اپنے دین اور مذہب سے جڑی پاک ہستیوں سے محبت سے آگاہ نہیں۔ میں یہ بات تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ میرا یقین ہے کہ مغرب میں ایک مخصوص طبقہ بار بار اسلام دشمنی اور مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لئے جان بوجھ کر گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہ اسلام دشمنی ہے جو بار بار اُن کے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ جو مغرب امن، برداشت، تہذیب اور بین المذاہب روا داری کے راگ الاپتا ہے مگر حقیقت میں جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، جہاں مسلمانوں کے خلاف آئے دن نئی نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اُن کی مذہبی آزادیاں چھینی جا رہی ہیں، وہ آزادیٔ رائے کے نام پر مسلمان ممالک کے عوام پر بھی اپنی مرضی کے قوانین اور اپنی مرضی کی تہذیب مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اہلِ مغرب چاہتے ہیں کہ یہاں توہینِ مذہب کا قانون ختم ہو، وہ چاہتے ہیں کہ قادیانیوں کے غیرمسلم قرار دیے جانے والی آئینی شق کو ختم کیا جائے، وہ چاہتے ہیں کہ یہاں موت کی سزا کو ختم کر دیا جائے، وہ چاہتے ہیں کہ یہاں اسلامی قوانین کی بجائے اُن قوانین اور اُس ثقافت کو رواج دیا جائے جو مغرب میں لاگو ہے، وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی انسانی حقوق کے نام پر ہم جنس پرستی کو جرم نہ سمجھا جائے، وہ چاہتے ہیں کہ مغرب کی طرح یہاں مرد اور عورت بغیر شادی کے ایک ساتھ رہ سکیں۔ گویا وہ ہمیں اُس طرح چلانا چاہتے ہیں جو اُن کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہو اور جو سراسر اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہمارے ہاں مغرب زدہ ایک طبقہ مغرب کے ان مطالبات سے اتفاق کرتا ہے لیکن یقین کریں جیسا کہ اسلام کہتا ہے کہ اگر ہم غیرمسلموں کے اشاروں پر چلے اور اُن کی خواہش پر اپنے آپ کو بدلنا شروع کر دیا تو یاد رکھیں کہ وہ اُس وقت تک ہم سے خوش یا راضی نہ ہوں گے جب تک کہ ہم اپنے دین کو چھوڑ کو اُن کے مذہب میں شامل نہیں ہو جاتے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یورپی یونین نے اگر GSP Plusکی سہولت واپس لے لی تو پاکستان کو چھ ارب ڈالر کی برآمدات کا نقصان سالانہ اُٹھانا پڑے گا۔ نقصان چھ ارب ڈالر کی برآمدات کا ہو یا چھ کھرب ڈالر کی، جن معاملات کا تعلق اسلام اور مسلمانوں کے ایمان سے ہو اُنہیں مغرب کی خواہش پر بدلا نہیں جا سکتا۔ کیا پاکستان میں کوئی یہ سوچ بھی سکتا ہے کہ یہاں توہینِ مذہب کے قانون کو ختم کر دیا جائے یا قادیانیوں کے متعلق قوانین کو ریورس کر دیا جائے؟ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں بالکل درست کہا کہ ختمِ نبوتؐ کے قانون پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی آزادیٔ اظہار کی آڑ میں مذہبی ہستیوں کو نشانہ بنانے کا عمل کسی صورت میں برداشت کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ اسلامو فوبیا ہے جس کے خلاف او آئی سی اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو مل کر ایک حکمت عملی بنانی ہوگی تاکہ مغرب میں بھی کسی بھی گستاخانہ عمل کو جرم تسلیم کیا جائے اور توہینِ اسلام کے بار بار دہرائے جانے والے واقعات کو روکا جا سکے۔ ایسا ممکن ہے کہ نہیں اس بحث میں پڑے بغیر وزیراعظم کی اس کوشش کو سپورٹ کیا جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں: -   تیرہ انچ کا بونا!
Columns of Ansar Abbasi
انصار عباسی

کس سے منصفی چاہیں

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں