Columns of Attaul-Haq Qasmi 152

گوگی، اب ہمارے ساتھ نہیں!

جو اس سے دو چار بار مل لیتا تھا پھر وہ بار بار اسے ملنے کی خواہش کرتا تھا۔ وہ بہت زندہ دل تھا، بہت درد مند تھا اور بہت اختراعی ذہن کا مالک تھا۔

میں مبین پیرزادہ، جسے خاندان میں گوگی کے نام سے پکارا جاتا تھا، کا ذکر کر رہا ہوں۔ وہ میری بڑی بہن ماجدہ آپی کا بیٹا اور مرحوم بھائی جان ضیاء الحق قاسمی کی بیٹی صباحت قاسمی کا شوہر تھا۔ یوں وہ میرا بھانجا بھی تھا اور داماد بھی مگر ان دونوں رشتوں کے علاوہ وہ میرا بہت پیارا دوست بھی تھا۔ وہ ماموں جی ماموں جی کہتا جاتا اور پورا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے ہلکی پھلکی شرارتیں بھی کرتا چلا جاتا تھا۔ وہ کراچی میں مقیم تھا مگر اس کا شہزادوں جیسا نوجوان بیٹا ایک حادثے میں معذور ہو گیا اور اس کا نچلا دھڑ بہت بری طرح مجروح ہونے کی وجہ سے اسے علاج کے لئے کینیڈا لے جانا پڑا تو کچھ عرصے بعد وہ فیملی کے باقی افراد کو بھی کینیڈا لے گیا اور پھر یہ لوگ وہیں آباد ہو گئے۔ گوگی چند ہفتے قبل اپنے کاروبار کے سلسلے میں کراچی آیا تو اسے کورونا ہو گیا جو جان لیوا ثابت ہوا اور یوں سارے خاندان کی آنکھوں کا تارا ہم سب کو روتا چھوڑ کر وہاں چلا گیا جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ میرا تیسرا بھانجا تھا جس نے جدائی کا زخم دیا۔ میرے بھائی جان ضیاء الحق قاسمی مرحوم و مغفور کے بیٹے ظفر قاسمی کی اچانک وفات کا صدمہ اِس کے علاوہ تھا جو میرے پھپھی زاد بھائی سید عزیر شاہ اور چھوٹی بہن راشدہ کا داماد بھی تھا۔ انہی دنوں میرے بےحد بذلہ سنج بھانجے مظہر بخاری کو بھی اجل نے اپنا شکار بنایا۔ مظہر بخاری کو میں نے اپنے پی ٹی وی کے ایک ڈرامے میں معمولی سا کردار بھی دیا تھا جس پر وہ بہت خوش تھا۔ ان اموات سے قبل سب سے بڑی بہن سعادت آپی کے دو بیٹے خلیق میر جسے اس کے دفتر میں صدیق میر کے نام سے پکارا جاتا تھا اور عثمان میر فوت ہوئے تھے۔ یہ پے در پے صدمات تھے جن کی وجہ سے میرا دنیا سے جی اچاٹ ہو گیا۔ دو ماہ قبل خود مجھے بھی شدید نوعیت کا کورونا ہوا مگر قدرت کو مجھ پر رحم آیا یا مزید زندگی کی سزا دینا مقصود تھا کہ اس نے مجھے موت کے منہ میں جانے سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   پنجاب حکومت کے چوچے

گوگی بہت اختراعی ذہن کا مالک تھا، اسے نئے نئے خیالات سوجھتے رہتے تھے اور وہ انہیں عملی شکل دینے میں لگا رہتا تھا مگر اس کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو اپنوں اور غیروں کے لئے اس کی دریا دلی کے علاوہ اپنے 9بھائیوں اور بہنوں میں محبت کا رشتہ برقرار رہنے پر ہی مرکوز رہتا تھا۔ اس نے ضرورت مندوں کے لئے مکانات تعمیر کرکے دیے۔ بھائیوں میں والد مرحوم کی چھوڑی ہوئی جائیداد کے حوالے سے اس نے محسوس کیا کہ کوئی تنازع پیدا ہو سکتا ہے تو اس نے اپنی جیب سے کمی بیشی پوری کر دی۔ اس کے کزن کی طرف اس کی خاصی بڑی رقم واجب الادا تھی، جس کا فیصلہ عزیز و اقربا نے ایک جگہ جمع ہو کر، محض جھگڑا ختم کرنے کے لئے اس کے کزن (اور وہ بھی میرا بھانجا ہے اور مجھے بہت عزیز ہے) کے ذمہ بہت کم رقم نکالی مگر وہ بھی اسے نہ ملی۔ میرے اس سخی بادشاہ نے وفات سے پہلے اپنی وصیت میں کہا کہ میں نے اپنے اس کزن کو معاف کر دیا اور اس کے لئے دعائیہ کلمات بھی کہے۔ گوگی بہت زندہ دل تھا، جس محفل میں بیٹھتا اسے محفل زعفران بنا دیتا۔ خاندان میں ہونے والے خوشیوں کے مواقع پر سب سے زیادہ رونق وہی لگاتا تھا۔

گوگی نے اپنے کراچی کے فارم ہائوس میں ایک بس خرید کر رکھ دی، جس کی سیٹوں میں رد و بدل کیا، اس میں ایک کچن اور باتھ روم بھی بنایا، اب یہ بس گھر کا حصہ لگتی تھی۔ وہ کسی سنگر کو بلاتا اور اس موقع پر دوستوں کو بھی مدعو کرتا اور یوں خوب محفلیں جماتا۔ میرے بہت پیارے بھانجے سلمان پیرزادہ، جو باقاعدہ سنگر ہے، کی لاہور میں شادی پر عارف لوہار کو جو اعلیٰ سنگر تو ہےہی بہت اعلیٰ انسان بھی ہے، مدعو کیا گیا اور گوگی نے اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ اس محفل میں دولہا میاں یعنی سلمان پیرزادہ نے بھی رنگ جمایا بلکہ امریکہ سے آئے ہوئے میرے رشتے کے بھانجے ڈاکٹر تنویر پیرزادہ بھی اسٹیج پر چڑھ گئے اور عارف لوہار کا بڑا پن کہ اس نے دو بےسروں یعنی گوگی اور تنویر کو برداشت کیا تاہم سلمان کو بہت شاباش دی۔

یہ بھی پڑھیں: -   پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاست اور جمہوری سوال

گوگی جب کراچی میں مقیم تھا اور ابھی کینیڈا شفٹ نہیں ہوا تھا، میری کراچی میں آمد پر سارا وقت میرے ساتھ رہتا، میری عادت ہے کہ کسی دوسرے شہر یا کسی دوسرے ملک میں کسی عزیز یا دوست کے گھر قیام پر میں ہوٹل میں رہائش کو ترجیح دیتا ہوں۔ ایک بار اسی طرح میں ہوٹل میں قیام پذیر تھا اور گوگی میرے ساتھ تھا، وہ رات کو بھی اپنے گھر جانے کی بجائے میرے ساتھ قیام ہی کو ترجیح دیتا تھا۔ ایک بار اس کی موجودگی نے مجھے ایک بہت بڑے عذاب سے بچا لیا۔ میر شکیل الرحمٰن کے صاحبزادے میر ابراہیم کی شادی میں شرکت کے لئے گیا تو حسبِ معمول ہوٹل میں ٹھہرا جہاں گوگی میرے ساتھ تھا۔ رات کو اچانک میرے پیٹ میں اتنا شدید درد اٹھا کہ میری چیخیں نکل گئیں۔ گوگی نے اپنی کار ہوٹل ہی میں پارک کی ہوئی تھی، وہ فوری طور پر مجھے اسپتال لے گیا، جہاں ڈاکٹر نے شاید مارفین کا انجکشن لگایا اور ہوٹل تک پہنچتے پہنچتے درد جاتا رہا بلکہ گہری نیند سو گیا۔

گوگی بیٹے! اس سے آگے نہیں لکھا جا رہا، خلافِ معمول میں آبدیدہ ہو رہا ہوں، ﷲ تعالیٰ تمہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔آمین!

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ بھی پڑھیں: -   2047کا پاکستان؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں