Columns of Amjad Islam Amjad 117

الرحیق المختوم

رسولِ پاکؐ کی سیرت سے متعلق بِلا مبالغہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہزاروں کے حساب سے کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن یہ مبارک ذکر ایسا ہے کہ اس کو جتنا بھی کیا جائے کم ہے۔

میرا بیٹا علی ذی شان آج کل ایک ایسی ڈاکیومنٹری پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد اہلِ جہاں بالخصوص مغربی اقوام کو آپؐ کی شخصیت ، پیغام اور سب سے بڑھ کر کل عالم کے لیے رحمت کی پیامبری سے متعارف کرانا ہے کہ آزادی رائے کے نام پر وہاں کے کچھ شر پسند عناصر نے جو ناقابلِ قبول رویہ اَپنا رکھا ہے اور جس کی وجہ سے وہاں کے بیشتر لوگ ایک غلط پروپیگنڈے کا شکار ہوکر اس روّیئے کو جائز اور اس ضمن میں کی جانے والی گستاخیوں کو صحیح سمجھ رہے ہیں، انھیں تصویر کا دوسرا اور اصل رُخ دکھایا جاسکے۔

اس نیک مشن کو کامیابی سے پایہٗ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری تھا کہ نہ صرف آڈیو، ویڈیواورپرنٹ میں موجود معلومات اور شہادتوں کا گہرامطالعہ کیا جائے بلکہ اس بات کو اُن کی زبان اور اُن کے طرزِ فکر کی روشنی میں اُن کے سامنے رکھا جائے کہ وہ جان سکیں کہ انسانی حقوق اور شرف کی وضاحت اور حفاظت کے لیے جو کام رسولِ پاکؐ نے کیا ہے اس کی عظمت ، وسعت اور مقام کیا ہے ؟
اس حوالے سے ہم اکثر آپس میں بات کرتے رہتے تھے، کچھ عرصہ قبل اُس نے مجھے اپنے مطالعہ میں آنے والی ایک ایسی کتاب کا بار بارتعریفی انداز میں ذکر کیا جو اتفاق سے میری نظر سے نہیں گزری تھی۔ معلوم ہوا کہ اس کے مئولف بھارت کے کسی اسلامی مدرسے کے ایک استاد مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ہیں اور ان کو اس تصنیف کو OIC کی طرف سے ایک عالمی مقابلے میں پہلا انعام بھی مل چکا ہے اور یہ کہ یہ کتاب ابتدائی طور پر عربی زبان میں لکھی گئی تھی اور اب اسے حفظ اللہ صاحب نے اُردو میں ترجمہ کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   ’’مذہب کا استعمال‘‘

شبلی نعمانی، سلیمان ندوی ، مولانا مودودی اور دیگر مشاہیر کی باکمال تصانیف کے بعد میرے خیال کے مطابق اس موضوع پر ایک نسبتاً گمنام مولانا کوئی اضافہ نہیں کرسکتے تھے، اس لیے میں نے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی یہاں تک کہ ایک دن وہ اس کتاب کا ایک نسخہ میرے سرہانے رکھ گیا۔ میں نے اسے پڑھنا شروع کیا اور پھر آیندہ کئی دن تک اسی کی فضا میں رہا۔

عربی زبان پر دسترس ، جدید تر تحقیقی وسائل اور اپنے رواں انداز تحریر کے باعث مولانا ٖصفی الرحمن مبارکپوری نے 656صفحات میں جس طرح سے عرب کی تاریخ ، جغرافیے، تہذیب،ر وایات اوراعتقادات کی روشنی میں رسولِ کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے کے زمانے کا نقشہ کھینچا ہے اور پھر جس خوبصورتی، مہارت اور تاریخی شواہد کے ساتھ آپؐ کی زندگی کے ہر دور کی تصویر کشی کی ہے وہ بلاشبہ لائقِ تحسین ہے کہ اس سارے عمل میں انھوں نے کہیں بھی عقیدت کو حقیقت پر غالب نہیں آنے دیا، جس کی وجہ سے آپؐ کی ذات کے انسانی پہلو کہیں بھی مافوق الفطرت ہونے کا تاثرنہیں دیتے۔

ساری کتاب میں وہ ا پنی تمام تر پیغمبرانہ عظمت کے ساتھ اُس بشریت کی تصویر بھی نظر آتے ہیں جس کا اعلان وہ زندگی بھر کرتے رہے کہ اُن کے یہاں بھی عمومی فطری انسانی جذبے غم ، غصہ ، خوشی ، برداشت، احساسِ تکلیف ، معافی ا ور درگزر اپنی اعلیٰ تر صورتوں میں موجود اور متحرک نظر آتے ہیں۔ بہت سے تاریخی واقعات کی تفاصیل میں بھی انھوں نے صورتِ حال کی جو تصویر دکھائی ہے وہ کہیں کہیں اس سے بہت مختلف ہے جو عام طور پر ہمیں پڑھائی یا بتائی جاتی ہے بالخصوص جنگِ اُحد کے واقعات کو انھوں نے جس انداز میں قلم بند کیا ہے اوراُس دور کے عرب کلچر اور افراد کے باہمی معاملات پر روشنی ڈالی ہے وہ بہت سی نئی اور مختلف معلومات لیے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اگر احسان ﷲ کر سکتا ہے

ممکن ہے کل کو اس کتاب الرحیق المختوم کے بعض مندرجات کے حوالے سے کچھ نئے مباحث اور تحقیقات سامنے آئیں اور ہم کچھ نئے حقائق سے آگاہ ہوں مگر یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ جو بھی نئی بات سامنے آئے گی وہ آپؐ کی سیرت پاک کے حسن میں کسی نئے رنگ کا اضافہ ہی کرے گی اور اگر یہ نام نہاد معترضین انسان کی اخروی زندگی کو تسلیم نہ بھی کریں تب بھی اس زمین پر انسانی حقوق، شرفِ انسانیت اور معاشرتی انصاف کے لیے آپؐ کے فرمودات تا حیات نسلِ انسانی کے لیے خیر وبرکت کا باعث رہیں گے ۔

آخر میں اس ربِ کریم کے حضور ایک نذرانہٗ حمد کہ جس نے نوعِ انسانی کو رسول پاکؐ کی صورت میں ایک ایسا تحفہ عطا کیا جو اُس کی ساری خلقت کے لیے رحمتہ العالمین کا درجہ رکھتے ہیں اور جن کی تعظیم بلا تفریق رنگ و نسل و قوم سب پر یکساں واجب ہے ۔

حمد

نور ہوتا ہے رُونما اُس کا کبھی دل میں کبھی ستاروں میں
سجتا رہتا ہے ایک میلہ سا کبھی دل میں کبھی ستاروں میں
اس کی جلوہ گری نہیں محدود ان زمینوں میں ان زمانوں تک
اُس نے چاہا تو بن گیا رستہ، کبھی دل میں کبھی ستاروں میں
ایک لمحے سے اگلے لمحے تک ایک منظر میں وہ نہیں رہتا
ہم کوملتا رہا پتہ اس کا کبھی دل میں کبھی ستاروں میں
کچھ نہیں آرزو کے دامن میں اُس کی توفیق سے ہے جو کچھ ہے
وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہوتا ، کبھی دل میں کبھی ستاروں میں
اس زمان و مکان سے باہر ، ماوراہے وہ ہر تعلق سے
اپنی مرضی سے ہی نظر آیا کبھی دل میں کبھی ستاروں میں
اس کی آہٹ ہمیں سنائی دی ان گنت کہکشائوں کے اُس پار
اُس کی آواز کا ہُوا دھوکا کبھی دل میں کبھی ستاروں میں
فرش سے عرش کے خلائوں تک، دھوم تھی جس کی پردہ داری کی
ہم نے امجدؔ اُسے عیاں دیکھا ، کبھی دل میں کبھی ستاروں میں

یہ بھی پڑھیں: -   جو جتنا مہذب اتنا ہی بد تہذیب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں