Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 109

انیسویں پارے کا خلاصہ

انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان سے ہوتا ہے۔ انیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب وہ قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کو کوئی خوش خبری نہیں ملے گی۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا کہ اے کاش! میں نے رسول اللہﷺ کے راستے کو اختیار کیا ہوتا اور کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے نصیحت آ جانے کے بعد اس سے غافل کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ دنیا میں بری صحبت کو اختیار کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوں گے۔
سورۃ الشعراء
سورہ فرقان کے بعد سورۃ الشعراء ہے۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے قوم نوح‘ قوم ہود‘ قوم ثمود اور قوم لوط پر آنے والے عذاب کا تذکرہ کیا کہ کس طرح ان تمام اقوام نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ ان تمام اقوام نے اللہ کے بھیجے گئے تمام نبیوں کی تکذیب کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے کسی ایک نبی کی بھی تکذیب کرتا ہے وہ کسی ایک کی تکذیب نہیں کرتا بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرتا ہے۔
سورۃ الشعراء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ سابقہ انبیاء کرام نے اپنی قوموں کے لوگوں سے اپنی دعوت کے بدلے کسی اجر کو طلب نہیں کیا بلکہ وہ سب اس دعوت کے بدلے جہانوں کے پروردگار سے اجر کے طلبگار تھے لیکن یہ ان کی قوم کے لوگوں کی عاقبت نا اندیشی تھی کہ انہوں نے خلوص کے ساتھ دی جانے والی دعوت کو نظر انداز کر دیا اور ان کی مخالفت پر تلے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی تائید اور نصرت فرمائی اور ان نافرمانوں کو نشانِ عبرت بنا دیا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی قوم سے بت پرستی کی وجہ دریافت کی کہ کیا تم جب ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری پکاروں کو سنتے ہیں اور کیا وہ تمہیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟ تو جواب میں قوم کے لوگوں نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو انہیں پوجتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس پر جناب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تمہارا اور تمہارے آبائو اجداد کے معبودوں کا مخالف ہوں۔ میری وفا اور محبت رب العالمین کے لیے ہے جس نے مجھے بنایا اور سیدھا راستہ دکھلایا‘ جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے‘ جو مجھے امراض سے شفا عطا فرماتا ہے‘ جو مجھے موت بھی دے گا اور پھر دوبارہ زندہ بھی کرے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے قیامت کے دن معاف بھی فرما دے گا۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اپنی طرف سے نازل ہونے کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی جیسی خوبصورت اور واضح زبان میں اتارا اور اس کو جبرائیل امین رسول اللہﷺ کے سینہ مبارک پر لے کر آئے تاکہ وہ لوگوں کو ڈرا سکیں اور کہا کہ اس کی ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء بھی اس کو پہچانتے ہیں۔
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان ہر جھوٹ بولنے والے بڑے گناہ گار پر نازل ہوتا ہے اور بھٹکے ہوئے شاعروں پر بھی شیطان اترتا ہے۔ وہ شعرا جو ہر وقت وہم کی وادیوں میں ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں اورصرف باتیں بنانے میں معروف رہتے ہیں مگر وہ لوگ جو ایمان لے کر آئے اور ایمان کے بعد انہوں نے عمل صالح کا راستہ اختیار کیا‘ اللہ تعالیٰ ان سے شیاطین کو دور فرمائیں گے۔
سورۃ النمل
سورۃ الشعراء کے بعد سورۃ النمل ہے۔ سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے مثال معجزات عطا فرمائے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہم السلام کو علم کی نعمت سے مالا مال فرمایا اور ان کو اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کو علم اور حکومت کے اعتبار سے جناب دائود علیہ السلام کا وارث بنایا اور ان کو پرندوں اور جانوروں کی بولیاں سکھائی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ جنات‘ انسانوں اور ہوائوں پر بھی ان کو حکومت عطا کی تھی۔
اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کا ذکر فرمایا کہ جب جنابِ سلیمان علیہ السلام کا لشکر جا رہا تھا تو چیونٹیوں کی ملکہ نے چیونٹیوں کو حکم دیا کہ سب اپنے اپنے بل میں چلی جائیں ایسا نہ ہو کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے لشکر کے گزرنے کے سبب کچلی جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنابِ سلیمان علیہ السلام تک یہ الفاظ پہنچا دیے اور آپ علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے آپ کو پرندوں اور جانوروں کی بولیاں بھی سکھائی تھیں اور یہ دعا کی ”اے اللہ! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں‘ ان کا شکر ادا کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تُو ان سے خوش ہو جائے اور مجھے اپنے رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما‘‘۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کے دربار کی ایک کیفیت کا بھی ذکر کیا کہ جناب سلیمان علیہ السلام اپنے دربار میں جلوہ افروز تھے کہ آپ نے ہدہد کو غائب پایا۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان نہ کی تو میں اس کو سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ہدہد آیا تو اس نے کہا کہ جناب سلیمان علیہ السلام! آج دربار کی طرف آتے ہوئے میرا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتیں حاصل ہیں اور ان پر ایک عورت حکمران ہے اور قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ سورج کی پوجا کر رہی ہے جبکہ انہیں اللہ کی پوجا کرنی چاہیے۔ جناب سلیمان علیہ السلام اس ملکہ کے نام خط لکھتے ہیں۔ ملکہ خط کو پڑھنے کے بعد درباریوں سے مشورہ کرتی ہے اور جواب میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کو تحفے تحائف بھجوا دیتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام تحفوں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے وہ ان تحفوں سے بہت بہتر ہے۔ آپ اپنے دربایوں کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ کے تخت کو میرے دربار میں لے کر آئے‘ اس پر ایک بہت بڑے جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے ملکہ کے تخت کو یہاں لا سکتا ہوں۔ اس پر ایک ایسا شخص کھڑا ہوا جس کے پاس کتاب کا علم تھا اور وہ اللہ کے اسمائے اعظم کا علم رکھنے والا تھا‘ اس نے کہا: میں ملکہ کے تخت کو آپ کے پہلو بدلنے سے پہلے یہاں حاضر کر دوںگا اور آناً فاناً میں تخت وہاں موجود تھا۔ جناب سلیمان علیہ السلام اور ملکہ کی ملاقات ہوئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے کچھ تبدیلی کر کے ملکہ سے پوچھا کیا یہ تمہارا ہی تخت ہے تو جواب میں ملکہ نے کہا: ہاں! یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس کے بعد جناب سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کو اپنے محل کے ایک خاص حصے میں آنے کی دعوت دی۔ اس حصے کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا لیکن دیکھنے والی آنکھوں کو پانی محسوس ہوتا تھا۔ جناب سلیمان علیہ السلا م نے جب ملکہ کو شیشے کے فرش سے گزرنے کے لیے کہا تو ملکہ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑے کو اٹھا لیا تاکہ کہیں اس کے کپڑے گیلے نہ ہو جائیں۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے کہا: ملکہ یہ فرش شیشے کا بنا ہوا ہے۔ انہوں نے ملکہ کو جتلایا کہ تم پانی اور شیشے میں فرق نہیں کر سکتی۔ جناب سلیمان علیہ السلام اصل میں ملکہ کو بتلا رہے تھے کہ اسی طرح تم سورج کی روشنی اور اللہ تعالیٰ کے نور میں بھی فرق نہیں کر سکتی۔ ملکہ نے فوراً اعلان کیا کہ اے میرے پروردگار! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ ملکہ نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتلاتا ہے کہ ہمیشہ دین کی دعوت حکمت اور دانائی سے دینی چاہیے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!

یہ بھی پڑھیں: -   جہالت کے کنوئیں!
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں