Columns of Saadullah jaan barq 122

اپنے ہی خنجر سے خودکشی

کبھی کبھی نہیں بلکہ اکثر جب ہم پڑوس کے ٹی وی چینلز دیکھتے ہیں تو اپنے چینلز پراپنی پس ماندگی، اپنی جہالت اورفرسودگی پر’’پیار‘‘آجاتاہے بلکہ فخر محسوس ہونے لگتاہے اوریہ سب اس دین متین کی برکت ہے ۔ وہاں چینلز پر جس تہذیب، ترقی اور ’’بولڈ‘‘ ہونے کے جومظاہرے ہورہے ہیں، اسے دیکھ کر علامہ اقبال کا ایک شعرمجسم ہوکرآنکھوں کے سامنے پھرنے لگتاہے ۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجرسے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپیدارہوگا
ان دنوں باقی سب کچھ بالی وڈ، گالی وڈ اور شوبز بہت پیچھے رہ چکاہے اورکم سے کم دس پندرہ چینلز پر، کرائم روک ،کرائم الرٹ،کرائم اسٹاپ، کرائم یہ اورکرائم وہ جیسے پروگراموں کی بھر مار ہے جن سے پہلے ایک ٹکڑا اس قسم کاآتاہے ۔یہ پروگرام سچی گھٹناؤں پرآدھارت ہے۔

پھراس میں ہوتاکیاہے ، صرف ایک ہی جرم کو ہر ہرپہلواورہرہرزاویے سے ہائی لائٹ کیاجاتاہے۔ بلادکاراوربیڈروم کے اندرہونے والی سرگرمیاں تک تمام تر جزئیات اورتفاصیل یعنی وستارسے پیش کی جاتی ہیں اورآخر میں پولیس کسی’’مجرم‘‘ کو گرفتارکرکے کرائم اسٹاپ،کرائم الرٹ اورآپ رہیں سرکشیت کہہ کر اختتام ہوجاتا ہے۔

حقیقت میں یہ دنیا صرف محاورے کی حد تک گول نہیں ہے یا صرف زمین ہی گول نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہرشے اورہرعمل گولائی میں ہے۔ بارش ہوتی ہے، پانی بہتاہے،چلتاہے، کہیں عارضی طورپر رک بھی جائے تو کسی نہ کسی زیر زمین یا برسرزمین نالوں، ندیوں، دریاؤں کے ذریعے سمندرمیں اورسمندرسے بھاپ بن کر اوپر جاتا ہے، پھر بادل اورپھروہی بارش۔ بیج پھوٹتا ہے، نشوونماپاتا ہے اورپھر دوبارہ اسی بیج پرختم ہوجاتاہے، بحت بڑی لمبی ہے لیکن اس کائنات میں کوئی بھی چیزایسی نہیں جو گولائی میں نہ چلتی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: -   پاگل پن؟

بگ بینگ ہوا، مادہ اورانرجی پھیلنے لگے، پھیل رہے ہیں لیکن یہ پھیلاؤایک وقت میں رک جائے گا، پھر سکڑاؤ اورارتکاز اورپھر وہی ذرہ ۔چنانچہ حقیقت میں انجام اورآغاز بھی اورفنا وبقا بھی، جہاں سے ابتداء وہیں پر انتہا،جہاں سے آغازوہیں پر انجام۔ دائرے کی جس جگہ کو چاہیں آغازوانجام بناسکتے کہ دائرے کاکوئی سرا نہیںہوتا۔ بقول مرشد۔

نظرمیں ہے ہماری جادہ راہ فناغالب
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشان کا

شیرازہ بندی، پھر شیرازہ، پھر شیرازہ بندی۔ انتشاراورارتکازکازوج ہی ہرجگہ کارفرماہے چنانچہ انسانیت بھی جہاں سے چلی تھی یاانسانی تہذیب بھی جہاں سے شروع ہوئی تھی، بڑی تیزی سے اسی طرف پھر مرکوزہوکرجارہی ہے یا بقول مرشد، ہم اسی ایک قدم میں ہی ہیں۔

ہے کہاں تمنا کا دوسر اقدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

انسان نے جب پہلی بارانسانیت اوربشریت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھاتھاتو اس کاکل اثاثہ اس کاجسم اور پیٹ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس میں ایک اور چیز پیدا ہونا شروع ہوگئی جس کے لیے اس کی تخلیق کی گئی تھی جو اسے ملائیکہ اورتمام مخلوقات سے ’’ممتاز‘‘کرتی تھی، دماغ، ذہن، فکر یا روح کچھ بھی کہیے لیکن وہ چیزجسمانی نہیں تھی، پھراس نے آغازکیاتواتنا بھی جانتاتھاکہ پیدائش کیوں ہوتی ہے، اس لیے ایک عرصے تک یہ پیدائش کوصرف عورت کاکارنامہ سمجھتارہا،اسے یہ ادراک نہیں تھا کہ پیدائش نرومادہ کے اس ملن کانتیجہ ہوتی ہے جسے وہ ایک اضطراری اورجبلی حرکت سمجھ کر بھول جاتا تھا، پھر جب اسے یہ پتہ چلاکہ پیدائش میں نرومادہ دونوں شریک ہوتے ہیں تواس نے فرد سے نکل کر ’’خاندان‘‘ بنانا شروع کیا،خاندان بڑھے تو قبیلہ بنا۔قبیلے بڑھ گئے تو قبیلوں کے جھنڈ یا اتحاد بننے لگے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   بارے بجلی کا کچھ بیاں ہوجائے

اورمزید بڑھوتری ہوئی تو قوم بنی، پھر ملک بنے ،حکومتیں بنیں اورتہذیبیں وجود میں آئیں اوراب یہ ایک مرتبہ پھر واپسی کا سفر شروع کرچکاہے ،دائرے میں پیچھے کی طرف مڑگیا ہے، مڑچکاہے۔ پہلامرحلہ سر ہوچکاہے، خاندان ختم ہونے لگے ہیں ،جائنٹ فیملی ایک جاہلانہ چیز سمجھ کر توڑدی گئی ہے اور فرد پھر فرد بننے لگاہے۔

ابتدا بچوں کو الگ کمرے میں سلانے سے ہوئی ہے اورآگے پھر فرد کی آزادی کے مراحل چل رہے ہیں، اس کا سماجی اورتہذیبی تعلق بھی اجتماع سے ٹوٹ چکاہے۔ وہ ایک روایتی بات جوکہی جاتی تھی کہ قیامت میں ’’نفسا نفسی ‘‘ کی پکارسنائی دے گی، وہ پکار شروع ہوچکی ہے لیکن ضروری نہیں کہ سنائی بھی دے ۔لیکن یہ تو صاف دکھائی دیتاہے کہ انسان ’’ہم‘‘ کٹ کر ’’میں‘‘ ہوچکاہے، اس کی ضرورت ،دوڑ اورکام صرف اپنے آپ بلکہ اپنے پیٹ اورجسم تک محدود ہوچکا ہے اوریہ تو سب حیوان کرتے ہیں۔

اس میں انسان اورحیوان کے درمیان فرق کیا ہے، صرف اتنا کہ حیوان میں جمع کرنے، ذخیرہ کرنے کی جبلت نہیں ہے۔ وہ بھی بعض حیوانوں میں ہوتی ہے ،مکھیوں میں چیونٹیوں میں یہاں تک کہ دیمک میں بھی۔تو انسان کی خصوصیت کیاہوا یا وہ کونسی چیز ہے جس کی بنیاد پر انسان اورحیوان میں فرق کیاجاسکے سوائے نطق کے۔ جوحقیقت میں صفت کم اورعیب زیادہ ہے۔

اس کے لیے اس سے بڑا ثبوت اورکیا دیا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنا تن ڈھانکنے کے لیے لباس ایجاد کیا تھا لیکن اب اسے بھی مرحلہ وار مختصر کیا جارہا ہے۔ انسانوں نے مہذب لگنے کے لیے بال تراشنا شروع کیے لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ بڑھارہاہے۔کل ملاکر اگر اس کے پاس کچھ رہاہے تو وہ ’’قابیلی آلے‘‘ ہیں جو یہ بے تحاشہ ایجادکرچکاہے اورکررہاہے۔تمہاری تہذیب اپنے خنجرسے آپ ہی خودکشی کررہی ہے ، ایسے میں پسماندگی اچھی کیوں نہ لگے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   کیا طالبان تبدیل ہو گئے ہیں؟
Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں