Columns of Amjad Islam Amjad 123

ماتمِ یک شہر آرزو

نجیب احمد اور میرے بہنوئی سجاد احمد ایک ہی دن رخصت ہوئے دونوں کے ساتھ تعلق اتنا گہرا ،پرانا اوردلآویز تھا کہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اُن کی یادوں کو ایک ہی کالم میں کس طرح سے سمیٹا جائے کہ یکے بعد دیگرے چھ اور ایسے عزیز دوست، محترم اور آشنا اس تیزی سے اُن کے پیچھے پیچھے چل پڑے کہ عقل میرؔ صاحب کے لفظوں میں بالکل ہی گم ہوگئی اور اُنہی کا ایک اور شعر چاروں طرف پھیلنا شروع ہوگیا۔

جن بلاؤں کو میرؔسنتے تھے
ان کو اس روزگار میں دیکھا
حق بات یہ ہے کہ خبریں کسی صورت بلاؤں سے کم نہیں تھیں کہ اگلے روز بھارت سے ’’شاعر‘‘ کے ایڈیٹر افتخار امام صدیقی اور این سی اے کے ماہر تعمیرات پروفیسر عبدالرحمن کی سناونی آگئی اور اُس کے بعد نعت کا ایک بڑا نام راجہ رشید محمود اور ماہرِ تعلیم پروفیسر اکرم طاہر چل بسے جب کہ گزشتہ کل میدان صحافت کے دو بڑے اور سینئر نام محترم آئی اے رحمن اور ضیا شاہدبھی اس دنیائے فانی سے پردہ کرگئے ان آٹھ رفتگان میں کم از کم چار ایسے تھے جن پر علیحدہ سے ایک ایک کالم بھی کم پڑتا تھا کہ اُن کی یادیں اور کارنامے اس سے کہیں زیادہ کے طلبگار تھے بہت کم ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ہی ہفتے میں مختلف مقامات، وجوہات اور شعبہ جات سے ایک دم ایک ساتھ اتنے اہم لوگ ہمارے درمیان میں سے اُٹھ جائیں سو اُن کے لیے دعائے مغفرت کے بعد سب سے پہلے ربِ کریم کے حضور یہ فریاد بنتی ہے کہ وہ ہماری غلطیوں اور سختی کو معاف فرما دیں اور ساری دنیا کو اس ناگہانی آفت سے پناہ عطا فرمادیں جس کا تکنیکی نام جو بھی ہو لیکن جس کے باعث ساری دنیا اپنے ’’اپنوں‘‘ سے تیزی سے محروم ہوتی جارہی ہے اور انفرادی نوحے ’’ماتمِ یک شہرِ آرزو ‘‘کی شکل میں ڈھلتے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایک یتیم بچے کی ذمے داری اٹھا لیں

نجیب احمد سے آخری ملاقات کوئی ایک ماہ قبل جسٹس شیخ ریاض اور بہن بلقیس ریاض کے گھر پر ہوئی جس کی غایت حسبِ معمول اور روایت ان کے بیٹے عزیزی رضا رومی سے احباب کی ملاقات تھی کہ جو اُن دنوں پاکستان آیا ہوا تھا، نجیب بلقیس کا کزن اور رضا کا ماموں بھی تھا سو اس محفل میں وہ مہمان ہونے کے ساتھ ساتھ میزبان بھی تھا۔ یوںتو وہ شروع سے ہی خاموش طبع تھا مگر خالد احمد کی وفات کے بعد سے اُس کا سرمایہ الفاظ اور بھی کم ہوگیا تھا، ہم دونوں ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔

میرے استفسار پر اُس نے بتایا کہ دل کے دو بائی پاسز کے باوجود آج کل پھر سے وہ اس کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ محفل کے مزاج اور فضا کی وجہ سے زیادہ دیر اس موضوع پر بات نہیں ہوسکی کہ زیادہ زور ڈاکٹر عمر عادل کی گفتگو ، شاعری اور بلقیس بہن کی مہمان نوازی پر رہا۔ اب سوچتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ اُس روز وہ واقعی معمول سے بھی زیادہ بُجھا بُجھا، اُداس اور بیمار تھا کورونا کی تباہ کاریوں اور باہمی میل جول میں عمومی کمی کے باعث اس کی آخری رسومات میں بھی بہت کم احباب شامل ہوسکے البتہ سوشل میڈیا پر اُس کو اور اُس کے کچھ شعروں کو بہت یاد کیا گیا ۔ ستّر کی دہائی کے بعد کی جدید غزل میں نجیب احمد کی آواز اور اُس کی بازگشت بہت اہم ، گہری اور نمایاں ہے اور اُس کی تقریباً ہر غزل میں اس طرح کا کم از کم ایک شعر آپ کو ضرور مل جائے گا کہ

یہ بھی پڑھیں: -   اگر احسان ﷲ کر سکتا ہے

کھلنڈرا سا کوئی بچہ ہے دریا
سمندر تک اُچھلتا جارہا ہے

سجاد احمد میری مرحومہ بہن نرگس کے شوہر تھے اور ایک برادری کے ہونے کی وجہ سے اُن سے اور اُن کے خاندان سے دوستی، محبت اور رشتہ داریاں بھی تہہ در تہہ تھیں، وہ پیشے کے لحاظ سے فوٹو گرافر تھے اور اسی حوالے سے کم و بیش بیس برس متحدہ عرب امارات میں بھی مقیم رہے۔طبیعت کے بہت سادہ، محبتی اور محنتی انسان تھے اور بہت زیادہ مالی آسودگی نہ ہونے کے باوجود انھوں نے بڑی وضع داری سے زندگی گزاری اتفاق سے اُن کا یو اے ای میں مقیم صاحبزادہ فواد اپنے سالے کی حادثاتی موت کی وجہ سے پاکستان آیا ہوا تھا،یہاں کے اسپتالوں ، طبی سہولیات اور والد کے علاج کے ضمن میں ہونے والے ناخوشگوار تجربات سے بہت نالاں تھا کہ آخر کب ہمارے معاشرے میں انسان کو وہ اہمیت اور عزت دی جائے گی جو رب کی طرف سے تو اس کوملی ہے مگر اُس کے بندے اسے حق داروں تک پہنچنے نہیں دیتے۔

افتخار امام صدیقی، راجہ رشید محمود، اکرم طاہر اور پروفیسر رحمن کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھنے کو جی چاہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مختلف حوالوں سے نہ صرف میرے ملنے والے تھے جب کہ اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ معیارات قائم کرنے والے لوگوں میں سے تھے مگر اس فرض کو قرض کی مد میں رکھتے ہوئے فی الوقت آئی اے رحمن اور ضیاء شاہد تک ہی محدود رہنا پڑے گا کہ ان دونوں حضرات نے پاکستانی صحافت کے میدان اور تاریخ میں اپنے اپنے حوالے سے بہت سی یادیں چھوڑی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   یوسف سرور خان المعروف دلیپ کمار

جن کا ذکر بہت ضروری ہے۔ آئی اے رحمن ہماری صحافت کا ایک بڑا اور سینئر نام ہی نہیں تھے پاکستانی معاشرے میں جاری اقداری کشمکش، اصول پسندی، ایمان داری، حق پرستی اور استقامتِ کردار کے حوالے سے بھی اُن کا نام اس ملک کے نمایندہ ترین تخلیقی اور قابلِ فخر لوگوں میں ہوتاہے وہ اُن چند منتخب لوگوں میں سے تھے جن کے نظریاتی مخالفین بھی اُن کی عزت کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے کہ اُن کی زبان، قلم اور کردار تینوں ہمیشہ ایک ہی زنجیر کی کڑیوں کی شکل میں رہے، وہ ایک عالم اور باخبر دانشور اور صحافی تو تھے ہی اُن کا طرزِ گفتاراور انداز استدلال بھی اپنی مثال آپ تھا ایسے بہادر ، بے لوث اور کمٹڈ لوگ کسی بھی قوم یا معاشرے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہوتے۔

ضیا شاہد پنجاب یونیورسٹی اوری اینٹل کالج میں ہم سے دو سال آگے تھے زبان و ادب کی تعلیم اور مہارت نے اُن کی صحافیانہ نثر میں کچھ ایسے رنگ بھرے جو بہت کم اداریہ اور کالم لکھنے والوں کو حاصل ہوتے ہیں وہ ایک عملی اخبار نویس سے ادارہ ’’خبریں‘‘ کے حوالے سے مالکان کی صف میں بھی شامل ہوئے اور چند ہی برسوں میں ’’خبریں‘‘ کو پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا اُردو روزنامہ بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا انھوں نے ایک بہت کامیاب اور ہنگامہ خیز زندگی گزاری۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں