Columns of Saadullah jaan barq 142

ایک اورترجیح کی ولادت باسعادت

لیجیے ،ایک اورترجیح کی ولادت باسعادت یا زچگی ہوگئی ہے۔ ظاہرہے کہ ’’پہلی‘‘ بھی ہوگی کیوں کہ اس ملک میں اب باقی کی ساری ترجیحوں نے پیدا ہونا بندکردیاہے، صرف پہلی ترجیح پیداہوتی ہے اور پہلی ترجیح کے سوا کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا۔

دراصل ہوایوں کہ جب پہلے پہل،یہی ترجیح پہلی مرتبہ پیداہوئی تو ماں باپ نے بڑی خوشیاں منائیں، دھوم دھڑاکے کیے،مٹھائیاں بانٹی گئیں، نقارے بجائے گئے بلکہ کئی کئی رادھاؤں کوکئی کئی نومن تیل خرچ کرکے آنگن آنگن نچایا گیا،سال بعد دوسری ترجیح پیدا ہوئی تو اس پر شادیانے بجائے گئے لیکن پہلے سے کچھ کم۔تیسری پر اس سے بھی کم، چوتھی پر اس سے بھی کم۔یوں کم ہوتے ہوتے جب سلسلہ آٹھویں پیدائش پر پہنچا تو کم سے کم بہت ہی کم بلکہ ’’تھم‘‘ گیا۔

نویں ترجیح کی ولادت ہوئی توماں باپ نے توخاموشی اختیارکرلی لیکن پڑوسن نے آکر مبارک باد دیتے ہوئے کہا، سنا ہے آپ کے ہاں ترجیح پیداہوئی ہے۔ ماں باپ نے کہا،ہاںہوئی ؟تو اس میں خاص بات کیا ہے، اس طرح توہوتاہے اس طرح کی ترجیحوں میں، تب سے یہ اصول ہوگیا کہ ترجیح ہوتو پہلی ہو ورنہ نہ ہو۔مونچھیں ہوں تو نٹورلال جیسی ورنہ نہ ہوں، اب جب بھی پیداہوتی ہے وہ پہلی ہوتی ہے بلکہ پہلوٹھی ہوتی ہے ،ترجیح کے ساتھ ’’پہلی‘‘ کالفظ یوں چپک گیاجیسے بعض ناموں کے ساتھ حضرت یا علامہ یاپروفیسرڈاکٹر کا لاحقہ یاسابقہ چپک جاتا ہے یاآدمی کے ساتھ آدمی کا۔
چاہے وہ لیڈرہی کیوں نہ ہوبلکہ آدمی بھی نہ ہولیکن’’آدمی‘‘ کا لاحقہ یاسابقہ اس کے ساتھ ضرورہوتاہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ دن بھی بہت جلد آنے والاہے جب ’’پہلی‘‘ کے ساتھ ’’ترجیح‘‘لگانا بھی متروک ہو جائے گا اور صرف ’’پہلی‘‘ کہتے ہی ترجیح میں آجائیگی۔

یہ بھی پڑھیں: -   کورونا ویکسی نیشن

یہ ترجیح بلکہ ترجیح جو تولد ہوئی ہے ،جنگلی حیات کے تحفظ کی پہلی ترجیح ہے جسے ہمارے محترم وزیراعلیٰ صاحب نے صوبہ خیرپخیرمیں پیدا کیا ہے۔ زچہ وبچہ دونوں خیریت سے ہیں لیکن ایک ڈاؤٹ ہے جس کوہم دورکرناچاہتے ہیں۔’’جنگلی حیات‘‘ سے خیال’’شہری حیات‘‘کی طرف بھی چلاجاتاہے، اگر جنگلی حیات کاتحفظ ’’پہلی ترجیح‘‘ ہے تو بیچاری ’’شہری حیات‘‘ کے تحفظ کاکیاہوگا۔یعنی ’’تیراکیا بنے گا کالیا‘‘ پہلی ترجیح تو تم سے جنگلی حیات کے نام منتقل ہوگئی۔اب تم اپنی ترجیح کہاں ڈھونڈوگے کہیں…

کسے ڈھونڈو گے ان گلیوں میں ناصر
چلو اب گھر چلیں دن جا رہا ہے

بلکہ ہمیں تو اس ڈاؤٹ کے اوپرایک اورڈاؤٹ نے بھی پریشان کیا ہوا ہے، پہلی ترجیح کو جنگلی حیات کے نام ٹرانسفرکرنے کا مطلب کہیں یہ تو نہیں کہ ’’شہری حیات ‘‘کو عاق کردیا ہو اورآیندہ کے لیے تمام منقولہ وغیرمنقولہ ترجیحات سے بے دخل کردیاہویایہ بھی ہوسکتاہے کہ یہ بڑے لوگ ،مشہورلوگ ’’تھنک ٹینکس‘‘ یعنی غورکاسوئمنگ پول رکھنے والے دوراندیش توبہت ہوتے ہیں اوراپنے غورکے حوض میں غوطے لگاکراتنے غوطہ زن ہوچکے ہیں کہ بہت دوردورتک سوچتے ہیں، ان کووہ بھی نظرآتاہے جودوسروں کونظرنہیں آتا اوراسی دوراندیشی کے ذریعے ان کوعلم ہوگیاکہ ’’شہری حیات‘‘ کی تو بینڈبجنے والی ہے، اس لیے جلدی سے جنگلی حیات کاتحفظ یقینی بناؤ۔

وہ تو پھر بھی دوراندیش ہیں، دوربین بلکہ خوردبین بھی ہیں لیکن یہ تو ہم جیسے کوتاہ بین بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ’’شہری حیات ‘‘ہرطرف سے چنگیزوں، ہلاکوئوں اورتیموروں کی یلغارچل رہی ہے۔ اس یلغارسے ’’شہری حیات‘‘ کا کیا حشر نشر ہونے والا ہے، اس یلغارکے سامنے اگر شہری حیات ٹھہری بھی تو کیاٹھہری،اب اگر جنگلی حیات کاتحفظ بھی نہیں کیا گیا تو کل جب شہری حیات کِل ہو جائے گی تو؟ اس ’’تو‘‘ کے آگے اوربھی بہت کچھ ہے لیکن اس ’’تو‘‘کاتو جواب نہیں کہ جب مرغی نہیں رہے گی تو ’’انڈے‘‘ کون دے گا؟

یہ بھی پڑھیں: -   سویا ہوا محل اور شاہی جوڑے کی سحرسازیاں

اس لیے جنگلی حیات کاتحفظ پہلی ترجیح ہونی چاہیے اوروہ ہوگئی ہے ۔زچہ وبچہ دونوں خیریت سے ہیں۔ویسے بھی شہری حیات اب بہت ہی سڑگل کر بیکارہوچکی ہے، قبرمیں پاؤں لٹکائے بیٹھی ہے، چل چلاؤکے دن ہیں، حلق میں گھنگھرو بولنے لگاہے،آج مرے کل دوسرادن۔یعنی جنگلی حیات کاتحفظ ضروری ہے ، پہلی ترجیح پیداہوچکی ہے ، زچہ وبچہ خیریت سے ہیں۔ آج بچہ کل جوان؟

دوبھائی تھے، ایک نہایت ہی سیاسی اوردوسرا حد درجہ عوامی، وہ جوسیاسی تھا،عوامی کو شادی کروانے کے جھانسے دے دے کر کام کراتاتھا اورخود عیش کرتاتھا،آخر ایک دن ’’عوامی‘‘نے کہہ دیاکہ آخرکب ہوگی میری شادی؟اس پر سیاسی نے کہا،اب تو سمجھو، ہوگئی ہے،بے صبرے عوامی نے پوچھا، وہ کیسے؟
سیاسی بولا، مجھے بڑے باوثوق ذریعے سے پتہ چلاہے کہ تمہاری ساس پیداہوچکی ہے بلکہ چالیس دن کی بھی ہوگئی ہے۔عوامی خوش ہو کر بولا، پھر؟سیاسی نے کہا، بس آج کل ہی میں وہ جوان ہوجائے گی، پھر اس کی شادی۔عوامی کی دلچسپی بڑھتی جارہی تھی۔ پوچھا،لالہ پھر؟

سیاسی نے کہا، پھر تو ظاہرہے اس کی بیٹی پیداہوجائے گی اورلڑکیوں کاکیاہے،آج بچی ہے کل جوان۔اس لیے کہتاہوں کہ اب اپنی شادی ’’ہوگئی سمجھ‘‘ جاکام پہ لگ۔اورعوامی جاکر کام میں جت گیا۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں