In Cricket No Friend 130

کرکٹ میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا

میں نے ایک بار کرکٹ کی ایک بڑی شخصیت سے پوچھا کہ آپ اپنی سوانح عمری کیوں نہیں لکھتے بڑی ہٹ ہو گی۔

جواب میں مسکراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’دل تو بہت چاہتا ہے مگرسچ لکھنے کی ہمت نہیں ہوتی کیونکہ میرے 90 فیصد دوست ناراض ہو جائیں گے،جھوٹ لکھوں گا تو دل مطمئن نہیں ہوگا‘‘ میں نے تجسس سے پوچھا کہ دوست کے بارے میں سچ لکھیں گے تو بھلا وہ کیوں ناراض ہوگا،ظاہر ہے اچھی بات ہی ہوگی، اس پر انھوں نے تاریخی جملہ کہا کہ ’’کرکٹ میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا‘‘

میں بہت دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ بات درست ہے،پھر خود ہی اپنے آپ کو جواب دیتا ہوں کہ ہاں ٹھیک ہی ہوگا، جاوید میانداد اور عمران خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دونوں بڑے دوست تھے لیکن کیا ایسا کہنا سچ ہوگا؟ وسیم اکرم اور وقار یونس کی رقابت کے ساتھ یہ بھی مشہور تھا کہ آف دی فیلڈ بڑی دوستی ہے لیکن قریبی لوگ اسے درست نہیں مانتے، ٹیمپرنگ، چرس پیتے ہوئے پکڑے جانے، فکسنگ سمیت پاکستان کرکٹ میں جتنے بڑے اسکینڈلز سامنے آئے وہ سب پلیئرز کے ’’دوستوں‘‘ نے ہی افشا کیے، سب ایک دوسرے کا فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
جہاں کام نکلا دوستی ختم،میڈیا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے،صحافی خوب استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا آنے سے قبل کرکٹرز کو ان کی ضرورت تھی، مگر پھر وہ خود ایک ٹویٹ کر کے اپنے مداحوں کو اہم معاملات سے آگاہ کردیتے ہیں، مجھے چند برس قبل ایک رپورٹر نے بڑے فخر سے بتایا تھاکہ فلاں بیٹسمین سے میری بڑی دوستی ہے، وہ بہت باصلاحیت ہے اور ایک دن پاکستان کی نمائندگی کرے گا، بعد میں ایسا ہی ہوا،اب وہی صحافی کہتا ہے کہ ’’مذکورہ کرکٹر پہلے تو لطیفے تک واٹس ایپ کرتا تھا اب تو فون کا جواب بھی نہیں دیتا‘‘ میرا اس کو یہی کہنا تھا کہ اب اسے آپ کی ضرورت نہیں رہی، جب کام پڑے گا تو خود رابطہ کرے گا،پھر یہی ہوا وہ کھلاڑی جب قومی ٹیم کا حصہ نہ رہا تو مذکورہ رپورٹر کو فون کر کے سپورٹ کرنے کو کہا،اس نے مجھے جب یہ بات بتائی تو میں صرف مسکرا ہی سکا۔

یہ بھی پڑھیں: -   فلم ’لگان‘ کی معاون اداکارہ کی عامر خان سے مالی مدد کی اپیل

نئے کھلاڑی میڈیا کی مدد سے منظرعام پر آتے ہیں مگر قومی ٹیم میں شامل ہو کر ’’بورڈ کی ہدایات‘‘ یاد آ جاتی ہیں اور میڈیا بْرا لگنے لگتا ہے،سابق کرکٹرز کی بھی یہی مثال ہے، وہ آپ کے بہت قریب رہیں گے، تیزو تند باتیں کر کے بورڈ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہوگی پھر جب ایسا ہوجائے تو رابطہ ختم، شکوے پر کہا جاتا ہے کہ پی سی بی نے میڈیا سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے، ان سے پوچھو کہ بھائی نوکری ملنے سے پہلے تو ایسا نہیں تھا، میں ایسے بہت سے کرکٹرز کو جانتا ہوں، انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ بْرے وقت میں ہی لوگوں کو یاد کرتا ہے، جب ٹائم اچھا ہو تو کوئی نظر نہیں آتا، دوستی کا دم بھرنے والے کرکٹرز ایک دوسرے کے بارے میں کیا باتیں کرتے ہیں بتائی نہیں جا سکتیں لیکن وہی لوگ ساتھ بیٹھ کر کھانے کھاتے ہیں، گھومتے پھرتے بھی ہیں۔

میں میڈیا کے بعض لوگوں کے بارے میں یہ کہتا تھا کہ تین لوگ ساتھ بیٹھیں ایک اٹھ کر کسی کام سے جائے تو باقی دو اس کی برائیاں کرنے لگیں گے، پہلا واپس آئے اور دوسرا کہیں جائے تو دیگر دو اس کی خامیاں بیان کریں گے، ایسا کرکٹرز کے ساتھ بھی ہے، میں نے خود کئی بار اس کا مشاہدہ کیا، آپ کسی کھلاڑی سے پوچھیں کہ آپ کا سب سے قریبی دوست کون ہے تو وہ جو نام لے گا اس کا پتہ کاٹنے کیلیے وہ کیا کچھ کرنے کو تیار ہوگا ہم سوچ بھی نہیں سکتے، مجھ سے ماضی میں ایک کرکٹر کے غیرمعروف کوچ نے کہا تھا کہ ’’اس کے پاس جوتے تک نہیں ہوتے تھے میں نے دلائے، دن رات اس کی کوچنگ کی،مگر اسٹار بن کر وہ پاکستانی ٹیم کے کوچز کو کریڈٹ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   توانائی پیدا کرنے والا دنیا کا پہلا مصنوعی جزیرہ

میرا ذکر ہی نہیں کرتا‘‘ بات دراصل یہ ہے کہ وہ غریب کوچ اس کے اب کس کام کا رہا جو نام لے، اب جن کوچز کے ذکر سے فائدہ ہوگا انہی کی مالا جپنی ہے، ایک بار ایک کھلاڑی ٹیم کے کوچ کی بڑی برائی کر رہا تھا بعد میں جب اس نے پرفارم کیا تو انٹرویو میں انہی کا نام لے کر کہا کہ ’’فلاں بھائی کے مشوروں سے میں نے ایسا پرفارم کیا‘‘ میری جب اس سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ آپ تو اس دن بڑی برائیاں کر رہے تھے کہ انھیں کوچنگ کی سی تک کا نہیں پتا مگر کریڈٹ ان کو ہی دے دیا،جواب میں مذکورہ کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ’’کیا کریں دوست ٹیم میں بھی تو رہنا ہے‘‘ میں اکثر کہتا ہوں کہ قذافی اسٹیڈیم کا پانی چیک کرانا چاہیے وہاں جانے والا خود کو آسمان میں اڑتا محسوس کرنے لگتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا،مگر میں نے بورڈ کے ہی بعض ملازمین کومشکل میں پڑنے پر لوگوں کی منتیں کرتے بھی دیکھا، اگر باسز سے آپ کے تعلقات اچھے ہیں تو وہ قریب رہیں گے ورنہ دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

ایک بار میں نے اپنے ایک استاد سے شکوہ کیا تھا کہ فلاں کیلیے میں نے اتنا کچھ کیا وہ اب پوچھتا بھی نہیں ہے اس پر ان کا جواب تھا کہ ’’بعض لوگ ایسا ہی تمہارے بارے میں بھی کہتے ہوں گے، اس دنیا میں یہی ہوتا ہے، لوگ مطلب سے تعلق رکھتے ہیں،سب ایک دوسرے کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   گوگل نے تھرڈ پارٹی سائن ان کو مزید آسان بنا دیا

کوشش کرو کہ کسی سے استعمال نہ ہو‘‘ اس وقت تو میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی لیکن پھر جب سمجھ گیا توکوشش ہوتی تھی کہ کسی کا آلہ کار نہ بنوں، منافقت ہمارے معاشرے کا اہم حصہ بن چکی ہے، کرکٹرز اور صحافی بھی اسی کا حصہ ہیں تو ان پر بھی اثر تو آئے گا، ہمیں یہی کوشش کرنی چاہیے کہ خود کو ایسی منفی چیزوں سے دور رکھیں،البتہ شاید ایسا ہو نہ سکے کیونکہ اس صورت میں آپ اپنے دوستوں کی بڑی تعداد سے محروم ہو سکتے ہیں، اس لیے استعمال ہوں اور کریں شاید یہی اب کا دستور زمانہ ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

Saleem Khaliq
سلیم خالق

سلیم خالق کی تمام تحاریر ایکسپریس بلا گ سے لی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں