Columns of Attaul-Haq Qasmi 158

میں، میرا لان اور میرا مالی!

آج پھر وہی بےبرکت دن طلوع ہوا ہے جب کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا اور ان دنوں یہ اکثر ہو رہا ہے۔ صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد بھی آنکھیں بوجھل ہو رہی ہوتی ہیں۔ جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے اور ذہن کا دروازہ کسی بخیل شخص کے دروازے کی طرح لاکھ دستکیں دے، نہیں کھلتا۔ میں اگرچہ رات کو جلدی سو گیا تھا۔ ہر ایک اپنے پیٹ کے ایندھن کا بندوبست اپنی پسند یا اپنی استطاعت کے مطابق کرتا ہے لیکن میرا تو ناشتے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا مگر ڈاکٹر کہتے ہیں خالی معدے سگریٹ پینا بہت نقصان دہ ہوتا ہے چنانچہ اپنے دن کے منحوس آغاز کے لئے مجھے ناشتے کا سہارا لینا پڑا۔

میں جب یہاں تک لکھ چکا تو میں نے محسوس کیا کہ شاید ذہن کے دریچے کھل گئے ہیں جب اس سے آگے سوچنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ابھی میری وہ دعا قبول نہیں ہوئی جو حضرت موسیٰ نے خدا سے مانگی تھی۔ اے میرے رب، میرا سینہ کھول دے، میرا کام میرے لئے آسان کر دے اور میری زبان کی لکنت دور کر دے، میں یہ دعا اپنی ہر تحریر کے آغاز میں پڑھتا ہوں اور وہ رب کریم جب چاہتا ہے میری تحریر کی لکنت کو دور کر دیتا ہے اور جب نہیں چاہتا، نہیں کرتا۔ آج مجھے اپنی یہ دعا قبول ہوتی نظر نہیں آ رہی، تاہم میں دوبارہ اپنی رائٹنگ ٹیبل پر آیا ہوں اور کمرے کی کھڑکی کھول کراپنا دھیان باہر کے منظر کی طرف مبذول کر لیا ہے۔ میرے گھر کے ٹیرس سے لٹکتی جھومر کی بیلیں کچھ زیادہ ہی پھیل گئی ہیں اور یوں وہ میرے اور باہر کے منظر کے درمیان رکاوٹ بن رہی ہیں مجھے پروین شاکر کا شعر یاد آ رہا ہے ؎

یہ بھی پڑھیں: -   ایک ملک کی سسکتی موت

پیڑ کو دعا دے کر کٹ گئی بہاروں سے
پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں

میرے کمرے کی کھڑکی اور جھومر کے درمیان برآمدہ ہے اور یوں کھڑکی تو کھلی ہے البتہ اس کے آگے کا منظر ادھورا ادھورا سا ہو گیا ہے۔ میں نے اپنے گھر میں بائونڈری وال کی بجائے جنگلا بنایا تھا جس سے میرے چھوٹے سے لان کی عزت رہ گئی ہے کیونکہ اس جنگلے کے باہر کی ہریالی بھی میرے لان میں شامل ہو گئی ہے۔ میرے مختصر سے لان میں لیموں، آم، چیکو، کینو اور بیری کے پودے لگے ہیں۔ میں نے یہ پودے چار سال قبل لگائے تھے اور نرسری کے مالک نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اگلے سال پھل دینے لگیں گے۔ لیموں اور بیری کے پودے تو ثمرآور ثابت ہوئے مگر آم اور چیکو پر بور تو آتا ہے لیکن ان کی شاخوں پر پھل ابھی تک نہیں اترا، انہیں ثمرآور بنانے کے لئے مالی نے جو کچھ مجھے کرنے کے لئے کہا میں نے وہ سب کچھ کیا مگر ابھی تک دل کی مراد پوری نہیں ہوئی۔ اسی طرح میرے گھر کا لان جگہ جگہ سے گنجا ہے مالی نے کہا اس کی وجہ یہ پودے ہیں جن کی وجہ سے ان پر دھوپ نہیں پڑتی اور یوں ہری بھری گھاس نہیں اگتی۔ اس نے تجویز دی کہ یہ سارا لان کھود کر اس پر امریکن گھاس اگائی جائے۔ یہ امریکن گھاس ہرطرح کے موسم میں ہری بھری رہتی ہے۔ میں نے بازار سے یہ گھاس خرید کر لگوائی لیکن گنجے پن میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ میرے مالی نے یوریا اور پتوں کی کھاد لانے کے لئے کہا میں نے وہ بھی فراہم کر دی لیکن نہ تو آم کے پودے پر آم لگے ہیں اور نہ چیکو کہیں نظر آیا۔ میں جب یہ کالم گھسیٹ رہا ہوں، غلام محمد قاصرکا یہ شعر میرے لئے تازیانے کا کام دے رہا ہے؎

یہ بھی پڑھیں: -   پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا مجرمانہ رویہ

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

سو میں ناکام نہیں ہونا چاہتا، میں نے درمیان میں ایک دفعہ ہمت ہاری تھی اور یہ کام درمیان ہی میں چھوڑ کر ٹی وی لائونج میں اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ایک ٹاک شو دیکھنے لگا تھا جس میں سیاست دانوں کے درمیان گالم گلوچ کا مقابلہ ہو رہا تھا اور اینکر کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ غالباً اس پر پھولے نہیں سما رہا تھا کہ اس کے شو کی ریٹنگ میں اضافہ ہو رہا ہے حالانکہ میرے گھر والوں نے اسی وقت یہ چینل بدل کر اس کی جگہ ایک دوسرے چینل کی طرف اپنی توجہ مبذول کر لی تھی جس کے ایک ڈرامے میں ساس بہو کی چپقلش دکھائی جا رہی تھی، مجھے ان دونوںڈراموں سے بیزاری پیدا ہوئی اور میں واپس دوبارہ اپنی اسٹڈی ٹیبل پر آگیا۔

مجھے آپ کو یہ بتانے میں اگرچہ شرمندگی محسوس ہو رہی ہے مگر میں نے یہ کالم ادھورا چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ آج میرے رب کا فیصلہ میرے حق میں نہیں ہے چنانچہ اپنے اس فیصلے کے بعد میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا جو زراعت کا ماہر ہے، اس کے ساتھ میری جو گفتگو ہوئی، میں وہ بیان کرکے آپ سے اجازت اور اس ادھورے کالم پر معذرت چاہوں گا۔ میں نے دوست کو اپنے لان اور پھلوں کے پودوں کی افسوسناک صورتحال کے بارے میں بتایا تو اس نے کہا قومیں نااہل قیادت اور باغ نااہل باغبانوں کی وجہ سے ویران ہوتے ہیں، اس کا کہنا تھا کہ امریکن گھاس کے لئے اپنے پورے لان کو کھود ڈالنا مالی کی نالائقی اور اس مالی کے لئے تمہاری اطاعت گزاری ہے حالانکہ پورے لان کو کھودنے کی بجائے یہ کام جزوی طور پر بھی کیا جا سکتا تھا تم صرف اتنی جگہ پہ امریکن گھاس لگا سکتے تھے جہاں دھوپ نہیں پڑتی تھی تمہارا باقی لان تو ویسے ہی ہرا بھرا تھا مگر تم نے سارا لان ہی برباد کر دیا!

یہ بھی پڑھیں: -   تعصبات اور عصبیت

امریکہ نے صرف میرے گھر کے لان ہی نہیں تقریباً روز اول سے میرے وطن کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا ہے اور ظاہر ہے ان بربادیوں میں ہمارے ’’مالیوں‘‘ کا بھی ہاتھ ہے اور یہ انہی کا کیا دھرا ہے۔

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں