Columns of Saadullah jaan barq 157

سمجھوتہ نہیں کریں گے

ہمارے پیارے سب سے نیارے اور گل و گلزارے صوبے ’’خیر پخیر‘‘کے وزیراعلیٰ نے جو غزنوی تو نہیں لیکن ’’بت شکن‘‘ضرور ہیں اتنے زیادہ بت شکن ہیں کہ روزانہ بلکہ صبح دوپہر شام کوئی نہ کوئی بت توڑتے رہتے ہیں اب تک انھوں نے تقریباً تمام ’’مندروں‘‘ کے بت توڑے ہیں کرپشن کا بڑا سا بت تو پہلے ریزہ ریزہ کرچکے ہیں اب تازہ تازہ’’بت شکنی‘‘ پولیس گیری کی کرنے والے ہیں۔

اور اس سلسلے میں جو لفظ سامنے آیا ہے وہ ہے سمجھوتہ،یعنی پولیس اصلاحات پرکوئی سمجھوتہ نہیں۔یہ کوئی سمجھوتہ نہیں یا اب کوئی سمجھوتہ پڑوسی ملک کی ’’مہیلاؤں‘‘ کا سب سے زیادہ مشہور اور کثرت الاستعمال ڈائیلاگ ہے اور ہر اشتہار میں جب بھی کوئی خاتون کوئی انقلاب کپڑوں، پاوڈرؤں، کریموں، صابنوں وغیرہ کے بارے میں ’’برپا‘‘کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے یہی فقرہ مارتی ہے کہاب کوئی سمجھوتہ نہیں۔اور واقعی وہاں اب کوئی سمجھوتہ نہیں۔سمجھوتے دوقسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو ’’طے پا‘‘ جاتے ہیں یعنی فریقین کچھ نہ کچھ ’’پا‘‘لیتے ہیں اور دوسرا یہ نہ کرنے والا سمجھوتہ۔نہیں اب کوئی سمجھوتہ نہیں۔یہ سمجھوتہ اکثر ’’اصولوں‘‘پر ’’ہرگز‘‘ نہیں ہوتا۔کیونکہ ’’اصول‘‘ ہرگز سمجھوتے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ

زندگی بھر میرے کام آئے اصول
یہ تو باوجود تحقیق کے ہم معلوم نہیں کرپائے کہ دنیا کا پہلا سمجھوتہ کب،کہاں اور کن فریقین کے درمیان ہوا تھا۔لیکن ہم بات ان سمجھوتوں کی کربھی نہیں رہے ہیں جو ’’طے پا‘‘جاتے بلکہ وہ تو ’’طے پا‘‘جاتے ہیں اور جن جن کو جو جو ’’پانا‘‘ہوتا ہے وہ پاکر پاپا،پی پی یا باپ بن جاتے ہیں۔یعنی بات ان گلوں کی نہیں جو بہارجانفزا دکھا دیتے ہیں بلکہ ان’’غنچوں‘‘کی کرتے ہیں جو اب کوئی سمجھوتہ نہیں، سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا۔بن جاتے ہیں مطلب یہ کہ جو سمجھوتہ نہیں کرتے وہی سب سے بڑا کمال کرتے ہیں بلکہ ’’چمپکار‘‘کرتے ہیں۔ایک فلم یاد آرہی ہے تھری ایڈیٹ نام تھا شاید اس میں ایک طالب اپنے پرنسپل کا ایک قصیدہ پڑتا ہے جس میں کچھ شریر لڑکوں نے ’’چمتکار‘‘کی جگہ ایک اور لفظ ڈالا ہوتاہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   جانا آنے سے زیادہ مشکل ہو گا

چمتکار تو معجزے یا کمال یا کارنامے کو کہتے ہیں لیکن اس دوسرے لفظ کا مطلب انتہائی ناگفتار اور ناپسندیدہ ہوتا ہے، اس لیے ہم بھی اس کے بجائے چمپکار یا حمتکار ہی لکھیں گے۔ وہ لڑکا بڑے جوش وخروش سے تقریر پڑھ رہاہے بہت زیادہ گیدرنگ (gathering) ہے، ایک وزیر بھی مہمان خصوصی ہے اور دوسرے بھی بہت سارے عمائدین بیٹھے ہوئے ہیں آپ چاہیں تو ’’چمپکار یا حمتکار‘‘ کی جگہ ’’انصاف‘‘بھی بول سکتے ہیں،لڑکا کہتا ہے ’’ہمارے جناب پرنسپل صاحب کے کیا کہنے ہیں بڑے حمتکاری یا چمپکاری آدمی ہیں جب سے آئے ہیں ’’ چمپکار‘‘ پر حمتکار کیے جارہے ہیں ہیں۔

بھگوان اتنے حمتکار اور ایسے چمپکار یہ آدمی ہیں یا حمتکار، ہر صبح حمتکار ہر شام حمتکار اس کا تو ہے کام حمت کار۔نام حمت کار مقام حمتکار۔لیکن حمتکاری کی جگہ وہ ناپسندیدہ ’’کار‘‘ سن سن کر پہلے وزیر صاحب بھاگتے ہیں اور پھرحمتکاری پرنسپل۔اس پر ہم بھی اپنے صوبے اور اس کی حکومت اور اس کے وزیراعلیٰ بلکہ سارے حمتکاریوں کا قصیدہ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن موزوں لفظ ہاتھ نہیں لگ رہا ہے۔

میں تماشا تو دکھا دوں ستم آرائی کا
کیا کروں حشر میں ڈرہے تری رسوائی کا

اس لیے سادہ سادہ الفاظ میں کہتے ہیں کہ سمجھوتہ نہ کرنا تو کوئی ان سے سیکھے۔سمجھوتہ نہ کرنے پر سمجھوتہ نہ کرنا۔ہرصبح سمجھوتہ نہ کرنا ہرشام…آگے سمجھ لیجیے کہ اتنے ’’سمجھوتے نہ کرنے‘‘کے لیے تو

بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

یہ تو معلوم نہیں کہ اب پولیس میں ایسی کیا کیا اصلاحات کی جانے والی ہیں جن پر ’’سمجھوتے‘‘ کا خطرہ ہے لیکن کچھ تو ہوگا اس لیے جناب محترم نے پہلے ہی سے واضح کردیا کہ سمجھوتہ نہیں ہوگا تو نہیں ہوگا۔ سمجھوتے کی ایسی کی تیسی ہم شکاری کے نرکل پر کبھی نہیں بیٹھیں گے اور اگر بیٹھیں گے تو سمجھوتہ کیے بغیرپھڑپھڑا کر اڑ جائیں گے۔ا ب اگر ایسا ہوگیا بلکہ ہوگیا ہی سمجھ لیجیے کہ سمجھوتے کا تو سوال ہی خارج ہوگیا اور ’’پولیس‘‘ میں اصلاحات ہوگئیں جیسے کہ پچھلی صوبائی حکومت نے کرپشن کلچر،تھانہ کلچر،پٹوارخانہ کلچر کو ختم کیا تھا۔تو ہوگا کیا؟کہیں ہمیں شادی مرگ بلکہ مرگ پولیس نہ ہوجائے

یہ بھی پڑھیں: -   اعتراف

میری زندگی کے مالک میرے دل پہ ہاتھ رکھ دے
ترے آنے کی خوشی میں کہیں دم نکل نہ جائے

جب وہ کہتے ہیں کہ اصلاحات ہوں گی تو ضرور ہوں گی کیونکہ جھوٹ تو کوئی بولتا نہیں۔ایک بے موقع سی کہانی دُم ہلارہی ہے،کسی شخص کو کیچڑ میں ایک قیمتی ’’لعل‘‘مل گیا۔کیسے؟کیوں؟مت پوچھیے کیونکہ ایسا اکثر ہوجاتا ہے کہ کسی کو ’’لعل‘‘کیچڑ میں مل جاتاہے یا چوہے کو ہلدی کی گانٹھ مل جاتی ہے یا گنجے کو ناخن مل جاتے ہیں، مطلب یہ کہ ہونے کو بہت کچھ بلکہ سب کچھ ہوسکتا ہے اس لیے اس شخص کو بھی ’’لعل‘‘مل گیا وہ بھی کیچڑ میں۔ لعل کو کیچڑ لگی ہوئی تھی اس لیے اس نے لعل کو دریا میں دھونا چاہا لیکن دھوتے دھوتے وہ لعل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کردریا میں ’’یہ جا وہ جا‘‘ہوگیا۔قسمت میں شاید اتنی ہی ’’لعل‘‘کی ملکیت لکھی ہوئی تھی۔

حیف درچشم زدن صحبت یار آخرشد
روئے گل سیر نہ دیدم وبہار آخرشد

بیچارا پاگل ہوگیا اور زبان پر مستقل یہ بات چپک گئی کہ ’’دھونے‘‘سے نہ دھونا بہتر تھا۔دھونے سے نہ دھونا اچھاتھا۔ہم بھی سوچ رہے ہیں کہ کہیں ہمیں بھی آخر میں کہنا پڑے۔کہ ’’سمجھوتہ نہ کرنے‘‘سے سمجھوتہ کرنا اچھا تھا۔دھونے سے نہ دھونا بہتر تھا۔ایسا نہ ہو کہ ’’اصلاحات‘‘ میں نماز بخشوانے کی جگہ روزے گلے پڑجائیں۔ ’سمجھوتہ ایکسپریس‘‘چلی جارہی ہے چلنے دیجیے

سب کچھ پے کچھ نہیں ہے یہ حالت بھی خوب ہے
سمجھوتہ نہ کرنے کی یہ عادت بھی خوب ہے

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں