Columns of Saadullah jaan barq 117

نظر بٹو ضروری ہے

اب اس میں ہمارا کیاقصورہے، اگرہم اپنی ناسمجھی کاروناروئیں،اب آپ ہی ہمارے اورہماری سمجھ دانی کے میاں انصاف بذریعہ تحریک انصاف کریں کہ … ہم نے قرضہ دے بھی دیااورلے بھی لیایعنی یہ بھی اوروہ بھی،عید بھی منائی اورمحرم بھی۔

ہماری سادگی تھی التفات نازپر مرنا
تیراآنانہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی

آپ نے خود اپنی بے گناہ آنکھوں سے پڑھاہوگا اوربے گناہ کانوں سے سناہوگا کہ ہم نے ویسے ہی عوام کو بھوکا نہیں ماراہے بلکہ قرضے اداکردیے ہیں اوراب بھی ایسے ہی نہیں ماریں گے ،قرضہ لے کر ماریں گے کیوں کہ آئی ایم ایف نے قرضے کی جو شرائط لگائی ہیں، وہ بھوک سے مرے ہوئے کے لیے مزید بھوک کاسندیسہ ہیں۔

یہ سب بھی چھوڑئیے کہ بڑی بڑی قوموں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں یا بڑے ’’وژن‘‘ کے لیے چھوٹے وژن مرتے رہتے ہیں لیکن جو بات ہماری ’’چکنی گھڑی‘‘ سمجھ دانی کے اوپرپانی کی بوند بن رہی ہے، وہ یہ ہے کہ جو لکشمی بائی( آئی ایم ایف) ہے یہ ہمیشہ آمدنی بڑھانے کے لیے تو شرائط لگاتی ہے لیکن اس نے کبھی بچت کرنے کی کوئی شرط نہیں لگائی۔

بجلی، گیس، پٹرولیم کے نرخ بالاکرنے کی شرط تو رکھتی ہے لیکن یہ کبھی نہیں کہا کہ ’’سفید ہاتھی‘‘کم کردو،بے نظیر پروگرام ،احساس پروگرام، عیاش پروگرام ختم کردو، یہ رنگ برنگے گارڈز اوروارڈز ختم کرو، ساری قوم کو بھک منگا بنانے والی یہ بھیک، وہ بھیک ختم کردولیکن جب بھی کوئی شرط لگاتی ہے تو کسی روزگارکو تباہ کرنے کی لگاتی ہے، کیوں؟ اس کیوں کے آگے، ہم آگے پیچھے اور او پر نیچے،بہت سارے ’’کیوں‘‘ نہیں لگائیں گے جو وزیروں، وزیرمملکتوں، مشیروں اورمعاونانین خصوصی کی شکل میں اپنے پورے پورے خاندان بلکہ پورے قائی قبیلے کے ساتھ حملہ آورہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   لنڈے کا لبرل دیس کے غریبوں کا دوست ہے

لکشمی دیوی ہرچند الوپرسوارہے لیکن خود الو یا الوئن نہیں ہے بلکہ الوکے پٹھوں کو الوبناناجانتی ہے اور بنارہی ہے، اورہرشاخ پر بٹھاتی ہے بلکہ بٹھاچکی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ ’’نرخ یاٹیکس‘‘ کم کیے گئے توفائدہ عوام کواورملک کوپہنچے گا اورملک کوپہنچے گا تو وہ کمانے کی لائق ہوگا اورکمانے کی لائق ہوگا توپھراس سے قرضہ کون لے گا۔

اس کے سرپرستوں کی کمپنیاں ملک اورمارکیٹس کیس چلیںگے۔اوریہ جوبھیک کے سلسلے ہیں، وہ خاص خاص کنوؤں میں جاگرتاہے اورپھر اس کاپتہ نشان نہیں ملتا بلکہ نکمے نکھٹوکی پیدائش میں مزید اضافہ کرتاہے یعنی ’’مگس‘‘ کوباغ میں جانے دیاجائے تاکہ خون پروانے کاہوجائے،اگرلوگ فارغ البال ہوں، نفسا نفسی ہو، بھیک کی قطاروں میں کھڑے ہوں توکھیتوں کھلیانوں اورکارخانوں کاخیال کسے آئے گا کہ محشرمیں لوگ اپنی اپنی دیکھتے ہیں۔

پڑے ہیں تو پڑے رہنے دومیرے خون کے قطرے
تمہیں دیکھیں گے سب محشرمیں داماں کون دیکھے گا

محشر کی سب سے بڑی نشانی نفسا نفسی ہی توہوتی ہے،اب آپ خود ہی فیصلہ کیجیے،کہ بقول وزیراعظم ڈھائی سال میں ریکارڈقرضے بیس ارب ڈالراداکیے اوراسی کے ساتھ یہ بھی کہ آئی ایم ایف نے بجلی ،گیس، پٹرولیم کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ قرضے کی قسط پچاس کروڑڈالردے دیے یاجاری کردیے،اب ان دونوں کوکم ازکم ہم تواپنی ناسمجھ سمجھ دانی میں اکٹھا نہیں کر سکتے۔

وہ بات توآپ نے بھی سنی ہوگی کہ عقل اورغصہ کھوپڑی میں بیک وقت نہیں رہتے بلکہ ایک چلاجاتا ہے تودوسری آجاتی ہے یادوسری کے آتے ہی پہلی چلی جاتی ہے اوریہاں ہم دومتضادوں کواپنی سمجھ دانی میں بٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔شاید آپ کی یااس کی یا ان کی کھوپڑی میں اتنی گنجائش ہولیکن ہماری میں نہیں… دامان نگہ ننگ وگل حسن تو بیسار۔کیوں کہ سناہے بعض کھوپڑیوں میں کچھ اورسامان نہیں ہوتا صرف وسعت ہی وسعت اورگنجائش ہی گنجائش کاخلاہوتاہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   بیچارا سچ

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں دورجابسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دارمیں

ہاں’’وژن‘‘وسیع ہوتو بات دوسری ہے ۔وہ ایک ٹی وی اشتہار میں جو پڑوسی ملک کے کسی چینل پر آتا رہتا، ایک نوخیزلڑکی دوگرہ کپڑے لپیٹ کرباہرآتی ہے توباپ دیکھ کرکہتاہے،کپڑے کچھ زیادہ چھوٹے نہیں؟ بیوی کہتی ہے چھوٹی سوچ ہوتی ہے ،کپڑے نہیں یعنی چھوٹے کپڑے نہیں ’’وژن‘‘ہوتاہے،اس لیے ہوسکتا ہے کہ بڑے ’’وژن‘‘میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ سماسکتی ہوں،چھوٹے میں نہیں۔کہ قرضہ لیابھی اور ادا بھی کیا،شایدادائیگی ہی کے لیے قرضہ لیایاقرضہ لے کر ادائیگی کی ہو۔جناب شیخ کانقش قدم یوں بھی ہے اور یوںبھی۔کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسامرے آگے…

کرتے ہوداغ دور سے بت خانے کو سلام
اپنی طرح کے ایک مسلماں تمہی توہو

ایک خیال البتہ یہ آتاہے کہ شاید یہ کوئی نظرنہ لگنے کی تدبیرہو، اگرایک دم قرضے کی ادائیگی کی جائے تویہاں وہاں بری نگاہوں کی کمی نہیں ہے،کیاپتہ کسی کی بری نظرلگ جائے ۔

پاکستان اوراتنے قرضے کی واپسی؟عش عش، نش فش اورپھر غش غش،اس لیے ساتھ ہی نظربٹو کے طور پر تھوڑاساقرضہ لے بھی لیا۔

ویسے بھی جب سے پاکستان بذریعہ تبدیلی ’’ریاست مدینہ‘‘ ہوا ہے تب سے میدان پر میدان فتح کیے جارہے ہیں۔ ہرٹرین کوٹریک پر ڈالاجارہا ہے، اونٹ کوسیدھاکرکے اسے گھوڑابنادیا گیا، نہایت ہی خوب صورت چہرے نمودارہورہے ہیں یعنی ایں خانہ ہمہ آفتاب شود۔

ایسے میں اگرقرضے کی ادائیگی کایہ تمغہ بھی سجا دیاگیا ہے تو پکاپکا ’’چشم بد‘‘ کاخطرہ ہے۔

غیرازیں نکتہ کہ حافظ زتوناخوشنوداست
درسراپائے وجودت ہنرے نیست کہ نیست

یعنی صرف ایک نظربٹوکے ۔کہ حافظ تم سے خوش نہیں۔باقی وہ کونساہنر ہے جو تمہارے اندر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   خود مختار الیکشن کمیشن چاہیے اور نہیں بھی چاہیے
Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں