Columns of Attaul-Haq Qasmi 166

غداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد؟

اگر آپ کسی گورے رنگ کے شخص کو ’’اوئے کالے‘‘ کہہ کر پکاریں گے تو نہ صرف یہ کہ وہ اس کا برا نہیں مانے گا بلکہ آپ کے اس طرزِتخاطب کو ظرافت پر محمول قرار دے گا، اس کے برعکس آپ کبھی کسی کالے کو ’’اوئے کالے‘‘ کہہ کر تو دیکھیں، وہ جواب میں آپ کی سات نسلوں کو اپنے وضع کردہ ’’سائنسی اصولوں‘‘ کے مطابق کالا ثابت کرکے دم لے گا۔ صرف آپ کو چھوڑ دے گا اور آپ کی سفید رنگت کی جو وجہ بتائے گا وہ سن کر آپ اپنی سات نسلوں کی توہین تو بھول جائیں گے لیکن اپنی سفید رنگت کی ’’تعریف‘‘ کبھی معاف نہیں کریں گے۔

ویسے یہ سفید اور کالے کے ذکر سے یاد آیا کہ ایک دفعہ میں نے ایک پورا کالم اس موضوع پر لکھا تھا جس کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ ہم اہلِ مغرب کو نسل پرست کہتے ہیں اور کالوں کے خلاف ان کی نفرت پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ اصل میں ہم اس معاملے میں ان سے دس ہاتھ آگے ہیں۔ کالے رنگ سے تو ہماری نفرت کا یہ عالم ہے کہ صدقے کا بکرا ذبح کرنا ہو تو وہ صرف کالے رنگ کا ہو گا۔ سفید بکرے کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھنا چنانچہ جس دن کوئی بکری کالے میمنے کو جنم دیتی ہے وہ اسی دن اس کا یومِ وفات منا لیتی ہے اگر کوئی گوری چٹی بلی رستہ کاٹ لے گی تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر آپ سفر پر نکلتے ہیں اور کوئی کالی بلی رستہ کاٹ لیتی ہے تو رستے میں پیش آنے والی جان لیوا مشکلات کا آپ کو یقینِ کامل ہوتا ہے۔ نئی کار کے پیچھے کئی لوگ نظر سے بچنے کے لئے کالی پٹی بھی باندھے پھرتے ہیں۔ بھوت اور چڑیل بھی کالے رنگ کے بتائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہر نحوست کا ’’کھرا‘‘ کسی کالے رنگ ہی کی طرف جا نکلتا ہے۔ میرا ایک دوست اس قسم کی فضول باتوں پر تو یقین نہیں رکھتا بلکہ اس کے مسائل کچھ اور طرح کے ہیں، وہ تو اسلام کا عاشق ہے چنانچہ وہ رنگ و نسل کے اس امتیاز کو اسلام ہی نہیں انسانیت کے خلاف بھی گردانتا ہے، وہ اس قدر کٹر مسلمان ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ کے آخر میں اگر باآواز بلند ’’آمین‘‘ نہ کہا جائے تو وہ پوری نماز ہی کو مشکوک قرار دے ڈالتا ہے۔ دوسری طرف میرا یہ دوست ایک مسجد میں نماز پڑھنے گیا اور سورۃ فاتحہ کے اختتام پر اس نے باآواز بلند ’’آمین‘‘ کہا تو امام صاحب نے سلام پھیرتے ہی نمازیوں کی طرف منہ کرکے کہا ’’یہ آمین کس بد بخت نے کہا تھا؟‘‘ اس طرح میرا ایک اور دوست ہے جو پاکستان سے محبت میں اس بری طرح گرفتار ہے جس طرح ہماری موجودہ حکومت! چنانچہ وہ اس حکومت سے بےپناہ محبت کی بنا پر اس کے ہر مخالف کو ’’غدار‘‘ قرار دیتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے یہ گنتی شروع کی تو میں احساسِ شرمندگی سے پانی پانی ہو گیا کہ ہمارے ہاں محبِ وطن تو بہت کم رہ گئے ہیں، غداروں کی تعداد تو خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ میں نے دوست سے عرض کی کہ یار خدا کے لئے اپنے حب الوطنی کے کڑے معیار میں کچھ نرمی پیدا کرو، میں نے کافی دیر اس مسئلے پر اس سے بات کی، آخر میں اس نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ غداروں کی اتنی بڑی تعداد پر اگرچہ اسے بھی تشویش ہے مگر حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا نا! میں نے اسے کہا کہ ایوب خان اور مادرِ ملت کے درمیان انتخابی معرکے میں ایوب خان کے حامیوں نے تو مادرِ ملت کو بھی غدار قرار دے دیا تھا۔ کیا یہ شرمناک حرکت نہیں تھی؟ بولا میں اسے شرمناک تو قرار نہیں دے سکتا لیکن مادر ملت کو بھی تو غازی اسلام سپہ سالار افواجِ پاکستان جنرل ایوب خان کے مدمقابل نہیں آنا چاہئے تھا!

یہ بھی پڑھیں: -   کھوتے بھی

کوئی ایک مسئلہ ہو تو اس پر طبع آزمائی کی جائے، لکھنے بیٹھا تو ملک میں ہر طرف امن و امان تھا مگر ابھی آج کے اخبار آئے ہیں، ان کی صرف سرخیاں ہی میرے کالموں کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ اب ایک آدمی تو سب سے نہیں نمٹ سکتا۔ اس وقت ہمارے ملک کی 22کروڑ آبادی میں صرف ایک لاکھ کے قریب لوگ کالم لکھ رہے ہیں، باقیوں کی متعلقہ ایڈیٹروں سے بات چل رہی ہے۔ مذاکرات کامیاب ہونے پر ملک کا ہر مسئلہ ان شااللہ ان کالموں سے حل ہو جائے گا اور یوں پوری قوم نے، پوری قوم کو سنوارنے کی جو ذمہ داری مجھ اکیلے پر ڈالی ہوئی ہے اس کے بعد میں سانس لینے کے قابل ہو سکوں گا۔ اور سرکاری بیانات کی بنیاد پر اپنی تحریروں سے اپنا یہ مشن جاری رکھوں گا کہ کوئی پاکستانی سکون کا سانس نہ لے سکے۔

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں