Izhare Khayal 135

لیپ ٹاپ سلیکشن اورزیروٹالرینس پالیسی

سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ایپل کا لیپ ٹاپ، سوشل میڈیا فالوورز یا یوٹیوب چینل ہونا چیف سلیکٹر بننے کیلیے ضروری نہیں، اگر ایسا ہوتا تو بیچارے شعیب اختر نے بڑے ہاتھ پاؤں مارے تھے انھیں ہی عہدہ مل جاتا۔

پاکستان میں ایسی پوسٹ قسمت والوں کو ملتی ہیں، یا تو آپ ’’انزی دی لیجنڈ‘‘ جیسے بڑے پلیئر ہوں یا پھر کچھ نہ ہوں، بڑے کھلاڑی کو اس لیے لایا جاتا ہے کہ ٹیم ہارے یا جو کچھ ہو ذمہ داری ڈال دی جائے کہ اسی نے سلیکشن کی، عام سے کھلاڑی کو اس لیے پوسٹ ملتی ہے کہ پیچھے  سے ڈوریاں ہلانے میں آسانی ہو، جسے ٹیم میں شامل کرانا ہو کرا دو ملبہ اسی پر گرے گا اور اس میں اتنی ہمت بھی نہ ہوگی کہ نام لے سکے، جہاں کبھی چوں چراں کی تو کسی اور ڈمی کو سامنے لے آئیں گے،بدقسمتی سے آج کل ایسا ہی ہو رہا ہے،محمد وسیم ایک اوسط درجے کے بیٹسمین تھے۔

ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری کے بعد وہ اگلے 17میچز میں مزید ایک سنچری اور 2 ففٹیز ہی بنا سکے، وہ نیدرلینڈز منتقل ہو گئے تھے اور وہاں کی شہریت حاصل کرنے کے بعد قومی ٹیم کی نمائندگی بھی کرتے رہے، پھر پاکستان واپس آ گئے، یہاں  سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہوئے ٹی وی پر تند وتیز تبصرے بھی کرتے رہے، ناانصافیوں کا شکار ہونے والے کھلاڑیوں کیلیے آواز اٹھائی، ان کی خوبی یہ ہے کہ وسیم اکرم بھی انھیں پسند کرتے ہیں اور راشد لطیف بھی، ایسی کوالٹی کم ہی لوگوں میں نظر آتی ہے، وسیم کی لاٹری کھل گئی اور چیف سلیکٹر بنا دیا گیا،پہلی ٹیم بناتے ہوئے وہ دباؤ کا شکار تھے، کسی نے تابش خان کی عدم سلیکشن پر ان کی تنقید والی پرانی ویڈیو بھی چلا دی۔

کوویڈ کے دنوں بھی چونکہ بڑے اسکواڈز منتخب ہو رہے ہیں اس کا انھیں فائدہ ہوا اور36سال کی عمر میں تابش خان کے انتخاب سمیت کئی نئے کھلاڑیوں کو سلیکٹ کرنے کا کریڈٹ لینے لگے، بات وہی آ جاتی ہے کہ کھیلے کتنے؟ بیشتر ہاتھ ملتے رہ گئے،اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم نے اچھا پرفارم کرتے ہوئے پروٹیز کیخلاف فتح حاصل کی لیکن اصل امتحان اب جوابی دورے میں ہوگا، اس کیلیے اسکواڈ منتخب کرتے ہی محمد وسیم تنقید کی زد میں آ گئے، پرانے  ’’نئے کھلاڑی‘‘ باہر کر کے اب نئے ’’نئے کھلاڑی‘‘واہ واہ سمیٹنے کیلیے لیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   مذہب اور حب الوطنی کارڈ کا غلط استعمال

مگر عوام اتنے بے وقوف نہیں وہ فوراً یہ چالاکی سمجھ گئے، سب سے زیادہ ظلم کامران غلام کے ساتھ ہوا،خیبرپختونخوا کے بیٹسمین نے قائد اعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ 1249 رنز بنائے، اس کے بعد قومی ٹیم میں شامل کر کے چیف سلیکٹر نے داد بھی وصول کر لی مگر اب بغیر کھلائے ڈراپ کردیا گیا،آپ نے کیا میچز کے دوران ساتھی کھلاڑیوں کو پانی پلاتے دیکھ کر ان کی بیٹنگ صلاحیتوں کا اندازہ لگایا؟ بیچارے یاسر شاہ کو ٹی وی دیکھ کر پتا چلا کہ وہ ’’ان فٹ‘‘ ہیں اور انھیں ڈراپ کر دیا گیا ہے، اتنے بڑے کھلاڑی جس نے پاکستان کو کئی فتوحات دلائیں کیا وہ آپ کی ایک فون کال کا بھی مستحق نہیں تھا جس میں اسے فیصلے سے قبل اعتماد میں لیا جاتا، بیچارہ تابش خان18،19 سال فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایڑیاں رگڑنے کے بعد تقریباً600 وکٹیں لے کر اسکواڈ میں شامل ہوا۔

دوسری طرف سلیکٹرز نے  شاہنواز دھانی کو ایک سال میں 8 فرسٹ کلاس میچز پر ہی منتخب کر لیا، ویسے یہ وجہ تو بتائی جا رہی ہے اصل بات تو پی ایس ایل میں ان کی کارکردگی بنی، اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ ٹی ٹوئنٹی لیگ کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کو ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنایا جائے، شاہنواز یقیناً باصلاحیت کھلاڑی ہیں لیکن ابھی انھیں گروم کرنا چاہیے، اتنی جلدی ٹیم میں لے لیا، اگرموقع ملا اور خدانخواستہ ناکام رہے تو مستقل باہر ہو جائیں گے، جیسے اور بھی کئی فاسٹ بولرز کے ساتھ کیا گیا۔

شعیب ملک کو آپ نے ٹیم سے مستقل باہر کیا ہوا ہے، ان سے اچھا کون سے کھلاڑی مل گیا؟ اسد شفیق کے بعد اب شان مسعود کو بھی بھولی بسری داستان بنایا جا رہا ہے، ان کی خامیاں دور کرنے کیلیے کوچز کی فوج نے کیا کوئی کوشش کی؟ عماد وسیم  پی ایس ایل چیمپئن ٹیم کے کپتان ہیں اور وہ آپ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں ہی شامل نہیں، وسیم صاحب انھیں محدود صلاحیتوں کا حامل قرار دے رہے ہیں، جناب ان کی جگہ آپ نے کون سے لامحدود صلاحیتوں کے حامل سر گیری سوبرز کو منتخب کیا ہے؟ ذاتی پسند ناپسند کو قومی سلیکشن میں نہیں لانا چاہیے،ورلڈکپ بھارت میں ہونا ہے وہاں کی پچز پر عماد ٹیم کے کام آئیں گے، آپ انھیں ڈراپ کر کے اعتماد کم کر رہے ہیں، پاکستان میں اسی لیے کھلاڑی ذاتی وجوہات کی بنا پر ٹیم سے رخصت نہیں لیتے، عماد نے ایک سیریز میں ایسا کیا اور انھیں مستقل باہر کر دیا گیا، ویسے فٹنس فٹنس کی باتیں ہوتی تھیں تو شرجیل خان کیسے آ گئے، میں جانتا ہوں کہ وسیم اکرم نے کراچی کنگز میں قریب سے اوپنر کے ٹیلنٹ کا جائزہ لیا ہوگا، پھر وسیم خان بھی متاثر ہو گئے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: -   خواب دیکھنا دماغ کےلیے فائدہ مند ہے، تحقیق

جب تینوں وسیم ایک پیج پر ہوں تو کسی کی سلیکشن کیسے نہیں ہو گی، ویسے ڈیئر پی سی بی میں آپ سے درخواست کرتا ہوں زیروٹالیرنس کا نعرہ لگانا پلیز چھوڑ دیں، عامر کو واپس لایا گیا کیا فائدہ ہوا، وہ خود ٹیم چھوڑ گئے، اب لیگز کھیل کر پیسہ کمائیں گے، اب شرجیل کو بھی لے آئے، یہ ایماندار کرکٹرز کے منہ پر طمانچہ ہے،کھلاڑی چاہے کتنا ہی باصلاحیت ہو ایک بار کرپشن میں پڑے تو دوبارہ قومی ٹیم میں واپس نہیں لانا چاہیے، ویسے عامر اور شرجیل جیسے کرکٹرز بعض لوگوں کے پوسٹر بوائز ہیں، وہ اگر واپس نہ آئیں تو ان کی دکانیں نہ بند ہو جائیں، ابھی کرپشن کرو، خوب پیسہ کماؤ، غلطی سے پکڑے گئے تو کچھ پابندی بھگتو پھر واپس آ جاؤ یہ پالیسی چل رہی ہے، نوجوان کرکٹرز اس سے کیا سیکھ رہے ہوں گے۔

شرجیل آ تو گئے مگر کس نمبر پر کھیلیں گے، کیا بابر اعظم اور محمد رضوان کے سیٹ اوپننگ پیئر سے چھیڑ چھاڑ ہو گی؟ ویسے کمال کی سلیکشن ہوئی ہے، ٹی ٹوئنٹی میں آپ کی مڈل آرڈر بیٹنگ ہی نہیں ہے،ورلڈکپ آنے والا ہے اور ہمارے اسکواڈ کا یہ حال ہے، خیر اب تو چیف سلیکٹر نے واضح کر دیاکہ سلیکشن میں فٹنس نہیں صلاحیت دیکھی جائے گی، اعظم خان بھی اب جلد ٹیم میں آنے والے ہیں،آخرمیں  پی سی بی سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر صرف اعدادوشمار دیکھ کر ہی قومی اسکواڈ منتخب کرنا ہے تو مظہر ارشد سے اچھا کوئی چیف سلیکٹر نہیں مل سکتا، ان کے ساتھ نبیل ہاشمی اور عمرچیمہ کو بھی رکھ لیں،سلیکشن کمیٹی کو کھلاڑیوں کا ٹیلنٹ اوروہ آگے ٹیم کے کتنا کام آ سکتا ہے یہ دیکھنا چاہیے، سوشل میڈیا پر تو پیسے دے کر بھی کسی کے لیے کیمپیئن چلائی جا سکتی ہے اس سے متاثر نہ ہوا کریں، خیر اب دیکھتے ہیں جنوبی افریقہ میں ٹیم کی کارکردگی کیسی رہتی ہے، جیسی سلیکشن ہو رہی ہے اس سے ورلڈکپ سے قبل کچھ اچھے آثار تو دکھائی نہیں دے رہے اللہ خیر کرے۔

یہ بھی پڑھیں: -   شاہ رخ خان کا پڑھائی میں دل نہ لگنے کی شکایت کرنیوالے مداح کو دلچسپ مشورہ
Saleem Khaliq
سلیم خالق

سلیم خالق کی تمام تحاریر ایکسپریس بلا گ سے لی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں