adnan-khan-kakar 164

عقلمند تو میں ہوں، لکھ آپ رہے ہیں

آپ اگر پبلک کے لیے تحریر لکھ رہے ہیں تو پبلک کے ردعمل کو نظرانداز کرنا سیکھیں۔ اس کوچے میں کھال موٹی نہ ہو تو کھینچ لی جاتی ہے۔ ہمارے حلقہ احباب میں بیشتر ہمارے ہم خیال ہوتے ہیں، لیکن اچھی بھلی تعداد ان کی بھی ہوتی ہے جن سے ہمارا نظریاتی اختلاف ہوتا ہے۔ لیکن جب ایک ہی محفل میں بیٹھ کر بات ہو تو شخصی احترام عموماً غالب رہتا ہے۔ مخالف کی سخت بات کو بھی ایک قہقہہ یا جگت لگا کر ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔

لیکن سوشل میڈیا پر ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا چوراہا ہے جہاں آپ سے ذاتی تعلق رکھنے والے بہت کم ہوں گے اور آپ کو نہ جاننے والے زیادہ۔ انہیں شخصی احترام سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ جہاں ان میں ایسے ہوں گے جو تہذیب و شائستگی کا نمونہ ہوں گے، وہاں ان میں بہت سے ایسے بھی ملیں گے جو بازاری انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ گالی ان کی روزمرہ کا حصہ ہے۔ بہتر ہے کہ اختلاف کو برداشت کریں اور گالی دینے والے کو بلاک۔ سوشل میڈیا اس قدر اہم نہیں کہ اس کو دل پر لیا جائے یا اس کی وجہ سے اپنا دن خراب کیا جائے۔

آپ خواہ کتنا بھی بے ضرر سا مضمون لکھیں گے، اس کے خلاف زہر اگلنے والے موجود ہوں گے۔ کچھ کو جلن ہو گی کہ عقلمند تو وہ ہیں لیکن لکھ آپ رہے ہیں، یوں عوام کی ساری توجہ ان کی بجائے آپ کو مل رہی ہے، اور کچھ کی آپ کے موقف یا اس کے کسی جملے، حتی کہ لفظ سے بھی توہین ہو جائے گی۔ کچھ کا نفسیاتی معاملہ ہوتا ہے کہ وہ کسی مشہور شخص کو اپنے تئیں بے عزت کر کے اپنا رتبہ بلند سمجھتے ہیں۔ کچھ کی زندگی کا مقصد ہی ٹرولنگ ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی جانے انجانے کو سلگانے، دھیمی آنچ پر پکانے، اور پھر دم پخت کرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ تقریباً ویسا ہی منظر ہوتا ہے جیسا سوشل میڈیا سے قبل کے زمانے میں کسی کو چھیڑنا اور چڑانا ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   فحاشی اور ریپ

آپ نے اپنے قرب و جوار میں ایک ایسا شخص ضرور دیکھا ہو گا جو بظاہر نہایت معقول، سنجیدہ اور مدبر دکھائی دیتا ہے لیکن جب خلق خدا اس کی کوئی چھیڑ دریافت کر لے تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ روایات میں ایک ایسا کردار چاچا ٹائم پیس کا بھی بیان کیا جاتا ہے جس سے کوئی وقت پوچھ لیتا تھا تو وہ سب کچھ چھوڑ کر اس کو مارنے دوڑتا تھا۔

حق بات ہے کہ یہ کام ہے بھی مزے کا، اسی وجہ سے لوگ چاچا ٹائم پیس ڈھونڈتے ہیں۔ یعنی ایک نہایت سنجیدہ اور مدبر شخص جب دہکتا ہوا انگارہ بن جائے تو اپنے خول سے نکل کر اپنی اصل بھی دکھا دیتا ہے اور یہ منظر قابل دید ہوتا ہے۔ یہ اعصاب کی جنگ ہوتی ہے کہ ٹرولنگ کرنے والا جیتتا ہے یا اس کا نشانہ بننے والا۔

جو افراد تہذیب سے دور ہوں انہیں بلاک کرنا بہتر ہے۔ جو ٹرولنگ کر رہے ہوں یا مہذب انداز میں ہی سہی لیکن اپنی کم علمی دکھا رہے ہوں، ان پر ہنسنا یا کم از کم انہیں اگنور کرنا سیکھیں ورنہ آپ اپنا خون جلاتے رہیں گے اور بالآخر لکھنے سے توبہ کر لیں گے۔

اپنی تخلیق، خاص طور پر تحریر کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا منظر تقریباً ویسے ہی ہوتا ہے جیسے گلیڈی ایٹر کو بھوکے شیر کے آگے ڈال دیا جائے۔ فن حرب سے خوب آشنا شخص بھی جب بے شمار بھوکے درندوں یا مست ہاتھیوں کے سامنے ڈال دیا جائے تو اس کے ساتھ کچھ اچھی نہیں ہوتی۔ بس یہی سوچیں کہ آپ اس گلیڈی ایٹر سے بہتر ہیں کیونکہ سوشل میڈیائی اکھاڑے میں یہ درندے جان سے نہیں مارتے، بس روح کھینچتے ہیں۔ وہ بھی صرف اس صورت میں جب بندہ خود روح کھنچوانے پر آمادہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: -   اگر آسمان والا

جب بندے کو یہ لگے کہ زمانے میں سب کچھ غلط ہو رہا ہے تو غالب امکان یہی ہوتا ہے کہ وہ خود غلط ہے اور زمانے سے پیچھے رہ گیا ہے۔ ایک دلسوز واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ ایک وزیر صاحب پاگل خانے کے دورے پر گئے تو ایک نہایت نستعلیق شخص سے بہت متاثر ہوئے جو بہت علمی گفتگو کیا کرتا تھا اور بادشاہت کا حامی تھا۔

وزیر صاحب اس کے علم و فضل اور دانشمندی سے نہایت متاثر ہوئے۔ پوچھنے لگے کہ مجھے تو آپ کابینہ کے بیشتر اراکین سے عقلمند لگتے ہیں پھر آپ کو پاگل کیوں قرار دیا گیا ہے؟

وہ صاحب بولے ایسا جمہوریت کی وجہ سے ہوا ہے۔ میرا کہنا تھا کہ باقی سب لوگ پاگل ہیں، باقی سب کا کہنا تھا کہ میں پاگل ہوں۔ انہیں ووٹ زیادہ پڑ گئے۔ اسی وجہ سے اب میں بادشاہت کا حامی ہو گیا ہوں۔

تو صاحبو معاملہ یہی ہے کہ آج کل جمہوری دور ہے۔ خلق خدا سے گھبرانا چاہیے۔ اس سے بحث نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی لوگوں کی باتوں کو اس حد تک دل پر لینا چاہیے کہ بات ووٹ کاؤنٹ تک پہنچ جائے۔ مبادا انہیں زیادہ ووٹ پڑ گئے تو برا ہو گا۔ اوپر سے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ناقص جمہوریت کے باعث ووٹ آپ کو ڈلے ہوں اور پریزائڈنگ افسر دوسری پارٹی کے حق میں زیادہ گن دے۔

جو لکھنا چاہتے ہیں وہ لکھیں۔ بس رد عمل برداشت کرنے کی قوت پیدا کریں۔ اور لکھنے سے پہلے رد عمل کی شدت کا اندازہ بھی لگا لیں کہ وہ آپ کے لیے قابلِ برداشت ہو گا یا نہیں۔ عام سوچ کے خلاف لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ آپ رد عمل سے گھبراتے ہیں تو اختلافی موضوعات سے دور رہیں ورنہ دل ٹوٹ جائے گا کہ میری اتنی معقول بات پر کتنے نامعقول تبصرے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   تیرہویں پارے کا خلاصہ

نہ پوری قوم کی اصلاح ہمارے ناتواں کاندھوں پر ہے، اور نہ ہی امت مسلمہ کو دوبارہ عروج بخشنا تن تنہا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہماری حیثیت بے نشان ذروں جیسی ہے جو ہلکی پھلکی سی چمک دکھا کر یا گرد اڑا کر غائب ہو جاتے ہیں۔ بندہ خود شناسی سے کام لیتے ہوئے خود کو ذرہ ہی سمجھے تو بہتر ہے، چاچا ٹائم پیس بننے کا ہمیں نہیں دوسروں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں