Columns of Amjad Islam Amjad 138

بیس سال بے مثال

ایک دن قبل ہونے والی بارش کی وجہ سے ہوا میں نمی اورخوشگواری دونوں کا تناسب اپنی بہترین سطح پر تھا ہمارے سامنے شاہی قلعہ لاہور کا وہ دروازہ تھا جسے صرف خاص خاص موقعوں پرکھولا جاتاہے اور اُس کے سامنے وہ اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے ساری کارروائی پیش کی جارہی تھی۔

ہمارے عقب میں بادشاہی مسجد کی سیڑھیاں اور اُن کے ساتھ عظیم شاعر اور مفکرِ پاکستان کی قبر تھی جسے آج کی تقریب کے حوالے سے خاص طور پر زیارت کے لیے کُھلا رکھا گیا تھا، ہمارے میز پر واحد شناسا چہرہ برادرم عبدالقادر حسن مرحوم کے صاحبزادے اطہر حسن کا تھا جب کہ اِردگرد چاروں طرف تین چار سو ایسے خواتین و حضرات تشریف فرما تھے جن کے دل غریب اور بے وسیلہ لوگوں کے درد کو صرف محسوس ہی نہیں کرتے تھے بلکہ اُن کی مدد اور اعانت کرکے ایک رُوحانی خوشی بھی محسوس کرتے تھے۔

حضوری باغ نامی اسی جگہ پر سلاطین کے دور میں کیا ہوتا تھا اس کے بارے میں تو معلومات کم بھی ہیں اور غیر مصدقہ بھی لیکن سکھوں اور انگریزوں کے ادوار میں یہ جگہ لاہور کی مقامی، مشہور اور منفرد ثقافت کے مظہر کے طور پر جانی جاتی تھی کہ یہاں پہلوانوں کی بیٹھک کے علاوہ وہ نامی گرامی پنجابی شاعر اپنا کلام سنایا کرتے تھے جن کی آخری نشانیاں اُستاد گام، استاد کرم اور استاد دامن کی شکل میں ماضی قریب تک زندہ اور موجود تھیں جس تقریب کے احوال کا بیان اس وقت مقصود ہے وہ اخوت فاؤنڈیشن کی بیسویں سالگرہ کے حوالے سے تھی جس کے مہمان خصوصی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی تھے اور اسٹیج سیکریٹری کے فرائض سدرہ اقبال انجام دے رہی تھیں جو اپنے والد گرامی اور ہمارے عزیز دوست سابقہ ٹی وی پروڈیوسر برادرم اقبال لطیف کے حوالے سے ہمیں بھی بیٹیوں کی طرح عزیز ہے جب کہ اس تقریب کا مرکزو محور ہم سب کے محبوب اور اپنی ذات میں ایک انجمن ڈاکٹر امجد ثاقب تھے کہ جن کے بغیر ’’اخوت فاؤنڈیشن‘‘ کا شاید تصور بھی ممکن نہیں ۔ تقریب کا رسمی کارڈ، اُن کے دفتر سے آنے والے تاکیدی فون اور خود اُن کا واٹس ایپ میسج ایسے زور دار تھے کہ گزشتہ ایک برس سے پُرہجوم تقریبات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود وہاں پہنچنا ضروری تھا۔
برخوردار علی ذی شان امجد نے کہ جس کی اس تقریب کے ساتھ ایک خاص نسبت بھی تھی (جس کا میں ابھی کچھ دیر بعد ذکر کروں گا) بتایا کہ ہمیں گیٹ نمبر ایک سے داخل ہونا ہے سو ہم ڈیفنس سے رنگ روڈ کے ذریعے آزادی چوک تک جائیں گے اور وہاں سے نیچے اُتر کر ٹریفک نشانات کی وساطت سے اُس جگہ تک پہنچیں گے جہاں سے اس گیٹ تک کا راستہ بنایا گیا ہے بظاہر یہ معاملہ بہت صاف سا تھا مگر ہُوا یہ کہ گزشتہ چند برسوں میں اس علاقے میں اتنی نئی سڑکیں اور پُل وغیرہ بنے ہیں کہ شاہی قلعے کا راستہ جو اس کی تاریخی اور سیاحتی حیثیت کی وجہ سے بہت سیدھا اور آسان ہونا چاہیے تھا طرح طرح کے موڑوں اور ٹریفک کے بے پناہ دباؤ کی وجہ سے تقریباً گُم سا ہوگیا ہے رہی سہی کسر گاڑیوں، تانگوں اور رکشوں کی اُس بھیڑ نے پوری کردی ہے جن کی وجہ سے بہت سا علاقہ پارکنگ لاٹ کی شکل اختیار کرگیا ہے تو ہُوا یوں کہ ہم ایک غلط موڑ کاٹنے کی وجہ سے گھومتے گھامتے داتا صاحب والے چوک تک پہنچ گئے اور لگ بھگ پانچ میل کا اضافی سفر کاٹ کرواپس صحیح والے موڑ تک پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں: -   چوہتر سالہ گریٹ احتساب سرکس (حصہ دوم )

پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی تو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ آگے کا سفر کتنا ہے، علی نے سیکیورٹی کے لوگوں سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ بزرگ مہمانوں کے لیے خصوصی رکشاؤں کا انتظام کیا گیا ہے آپ اُن میں سے کسی پر بیٹھ جایئے ابھی صدر صاحب کی سواری گزرنے کے بعد آپ کو جلسہ گاہ میں پہنچا دیا جائے گا، اگرچہ ’’بزرگی‘‘ کا یہ مخصوص اعزاز کوئی بہت زیادہ خوش کُن نہیں تھا لیکن اس خیال سے کہ اگر رکشوں کا اہتمام کیا گیا ہے تو یقیناً فاصلہ کافی ہوگا خاموشی میں بہتری سمجھی جس کے دو نتیجے نکلے اور دونوں ہی خراب تھے یعنی پہلے تو صدر صاحب کے کاروان کے آنے کا تکلیف دہ انتظار اور پھر یہ انکشاف کہ جس داخلی دروازے تک ہماری سواری جاسکتی تھی وہ زیادہ سے زیادہ سو گز اور دو منٹ کے فاصلے پر تھا ابھی ان دو صدمات کا اثر کم نہیں ہوا تھا کہ معلوم ہوا سیکیورٹی والوں نے مزید داخلہ بند کردیا ہے یعنی ہم لوگ اب خوشی سے گھر جاسکتے ہیں لیکن سب ملا جُلا کر یہ کیفیت آدھ گھنٹے سے زیادہ پر محیط نہیں تھی کہ ایک دفعہ جب ہم اس گیٹ سے اندر داخل ہوگئے تو گویا یکدم سیاہ رات میں دن سا نکل آیا کہ اس کے بعد کا سارا وقت ایک ایسی ہوا اور فضا میں گزرا کہ جس کا ایک ایک لمحہ روح پرور اور کیف آفرین تھا۔

’’اخوت ‘‘ اوراس کا پروگرام اب ایک برانڈ کی شکل اختیار کر چکے ہیں کہ پاکستان کا شائد ہی کوئی پڑھا لکھا شخص ایسا ہو جس نے اس کا نام نہ سنا ہو اور شائد ہی کوئی گاؤں یا علاقہ ایسا ہو جہاں اس کے نمایندے یا رضا کار نہ پہنچے ہوں آج سے چند برس پہلے بنگلہ دیش کے گریمین بینک کا بہت چرچا ہوا تھا اور اس کے بانی کو نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا تھا کہ اس کے ذریعے وہاں کے غریب لوگوں کے لیے ترقی کرنے کے بہت سے مواقعے کھلے تھے مگر ڈاکٹر امجد ثاقب ، اُن کے احباب اور اخوت فاؤنڈیشن کا کمال یہ ہے کہ اس نے جدید دور میں بلا سُود قرضوں کا ایک ایسا سلسلہ رائج اور مستحکم کیا ہے جس سے اس وقت پینتالیس لاکھ کے قریب گھرانے اور دو کروڑ سے زیادہ افراد مستفید ہورہے ہیں اور بیس سال پہلے دس ہزار کے ایک بلا سود قرض سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب ایک سو تیس ارب تک پہنچ چکا ہے اور اس کے ساتھ بلا فیس اعلیٰ تعلیم، خواجہ سراؤں کے لیے خصوصی پروگرام اور لاکھوں کی تعداد میں کپڑوں کی تقسیم نے اس فاؤنڈیشن کو اس ملک کی سب سے بڑی کامیاب اور نیک نام NGO کی شکل دے دی ہے، اس کی اہمیت اور کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر بھی نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس کی تحسین بھی کی جارہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   اک سیانی بات

اس مختصر تقریب سے ڈاکٹر امجد ثاقب کے کلیدی خطبے کے علاوہ صرف صدر مملکت عارف علوی ، گورنر پنجاب چوہدری سرور اور دنیا گروپ کے میرِ کاروان میاں عامر محمود نے خطاب کیا اور سب ہی بہت اچھا بولے جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ موضوع ہی بہت برکت والا تھا۔ اپنے انتہائی نیک دُور رَس اور غریب دوست اغراض و مقاصد کے علاوہ اس تنظیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر طرح کے سیاسی ، علاقائی اور لسانی تفرقوں سے بالاتر اور الگ رہ کر کام کرتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے جاری کیے گئے پانچ ارب کے ایک خصوصی فنڈ سے یہ لوگ نو ہزار مکانات بھی تعمیر کر رہے ہیں جن میں سے غالباً سات ہزار اب مکمل ہونے کے بالکل قریب ہیں اور یہ بھی سب آبادی کے غریب ترین طبقوں کی سہولت کے پیشِ نظر تعمیر کیے گئے ہیں جنھیں اُن تک پہنچانے کے لیے انتہائی آسان اور قابلِ ادا قرضوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

مجھے یقین ہے کہ اگر پاکستان کی تاریخ میں اخوت کے بیس سالوں جیسے چند سال بھی آگئے تو اس ملک کے غریب لوگوں کی قسمت سنور جائے گی اور اب اس تقریب سے میرے بیٹے علی ذی شان کے تعلق کا ذکر کچھ یوں ہے کہ صدرِ مملکت کی تقریر سے پہلے ڈاکٹر امجد ثاقب ہی کا لکھا ہوا اور علی ذی شان کا پروڈیوس کیا ہوا اخوت کا ترانہ ’’مواخات‘‘ بڑی اسکرینوں پر دکھایا گیا جس کی آواز بیک وقت شاہی قلعے ، بادشاہی مسجد اور مزاراقبال سمیت ساری فضا میں کچھ اس طرح سے گُونج رہی تھی کہ سننے والوں کے دل اور آنکھیں اس کی لَے پر جھوم اور اُس کے visuals پر مسحور ہوتے چلے جارہے تھے اور میرا دل اس احساس کی خوشبو سے مہک رہا تھا کہ اب میرے بعد میرا بیٹا بھی اس خوبصورت سفر میں شامل ہوگیا ہے کہ جس کے بیس سال بلاشبہ اپنی مثال آپ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   آریا کے پیچھے پیچھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں