Columns of Saadullah jaan barq 146

ایک ہاتھ سے تالیاں بجانے والے

دنیامیں کیا نہیں ہوتا،کیا روا نہیں ہوتاہے اورکیا ناروا نہیں ہوتا بلکہ ہم نے اس دنیا میں اتنا زیادہ روا، ناروا ہوتے دیکھاہے کہ اب کسی چیزکوروایاناروا نہیں کہتے، ہوتا رہے ہمیں کیا، کم بخت، ناہنجار،ناہمواراورنابکاردنیا ہماری کون سی سگی ہے جواس کے سگ گزیدہ ہونے پرہم دیدہ ہوجائیں کہ ہم خود اس کے گزیدہ ہیں ۔

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتاہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
لیکن پھر کچھ چیزیں ایسی ہیں جس کاحشر نشر ہوتے دیکھا نہیں جاتااورجب رہا نہیں جاتاجیسے ایک ترسے ہوئے آدمی نے کسی جگہ کسی مقتول عورت کی لاش دیکھی توآہ بھرکربولا،کم بخت مارنے کے بجائے مجھے دے دیتے۔

یہ میرے ساتھ کیسی روشنی ہے
کہ مجھ سے راستہ دیکھاجائے

ان چیزوں میں اکثر محاورے،کہاوتیں اوراقوال زریں اوران کاکچھ نکالنابھی ہے۔ نہ جانے ان کو بنانے میں بزرگوں گزرگوں کو کتنے دریاؤں میں گھوڑے، گدھے یاخچریاایک دوسرے کودوڑایا ہوگا۔ یعنی کتنا خون جلاہوگا، تب ہی کسی اک مصرعہ ترکی صورت پیدا ہوئی ہوگی یا ہزاروں سال نرگس نے راجکپورروئے ہوں گے، تب کوئی سنجوبابا پیداہوں گے۔اوریہ آج کل کے حکمران کامال یا آئی ایم ایف کاقرضہ سمجھ کرکتنی بے دردی سے بگاڑدیتے ہیں ۔

مثال کے طور پریہ کہاوت کتنی شاندارتھی کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، شاید بہت سے نادان اب بھی سمجھتے ہوںگے۔ لیکن ہم نے بچشم خودایک ہاتھ سے نہ صرف تالی بلکہ تالیاں بجتی دیکھی ہیں۔ یقین نہ ہوتوکسی بھی اسمبلی کے فلورپرچلے جائیں اورکسی وزیر یاسرکاری ممبر کے بنچ کو بجایئے، پھر دیکھیے اس مشہور کہاوت کاحشرنشرخود ایک ہی ہاتھ سے تالی بلکہ تالیاں بجانے کامنظر۔لیکن اگرکوئی اسے تالیاں ایک ہاتھ سے میزیں بجانا سمجھتا ہے تووہ غلط سمجھتاہے یااسے تالیوں کاانصاف یعنی نصف نصف کہتاہے تووہ بھی غلطی پرہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اس نے دیکھا نہیں، سنایا

یہ دراصل ایک بڑااورنہایت ہی بلیغ اشارہ ہے۔ یہ اصل میں وزیریاسرکار کویہ میسج کرناہوتاہے کہ حضرت آدھی تیری آدھی میری۔ہم بھی توپڑے ہیں بینچوں پر۔ کاش پوچھوکہ مدعا کیاہے، اس ایک تالی سے بتانا ہوتا ہے کہ اب تو نصف تالی بجارہے ہیں لیکن اگرہاتھوں یا پیٹوں کے گرم کرنے کاانتظام نہیں ہوا تویہ ایک ہاتھ بھی ہم کھینچ لیں گے۔

صرف یہی ایک پیغام ہی نہیں کہ ہم آدھے آدھے تیرے ہیں اورآدھے اپنے۔ بلکہ اس میں ایک اوربلیغ اشارہ یہ ہوتاہے کہ یہ دنیاقائم ہی انصاف پر ہے۔اگرہمیں انصاف نہ ملا توہم بھی نصف نصف ہو کر تمہاراانصاف کردیں گے۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبرنہیں ہوئی۔ جہاں تک ان تالیوں کاتعلق ہے جوان انصاف والوں کولباس پہنچانے کے لیے بجتی رہی ہیں۔ یعنی وہی کالاانعام جوابھی تک تالی دونوں ہاتھوں سے بجاتے ہیں، وہ توہمیشہ تالیاں ہی بجاتے رہیں گے۔

’’تھالی‘‘ کبھی ان کے سامنے نہیں آئے گی کہ تالاب کی مچھلیاں ہیں جب چاہو پکڑو، بھونواورکھاؤ۔بلکہ خود اپنے ہی پانی میں ’’تل‘‘بھی جاتے ہیں، ملتے رہتے ہیں۔ تالی بھی خوش تالاب بھی خوش۔کھانے والے بھی خوش، صرف تلنے والے ’’تلے‘‘ہوجاتے ہیں۔

ٹوٹی ہے میری نیندمگرتم کواس سے کیا
بجتے رہے ہواؤں سے در تم کواس سے کیا

ہواؤں سے در یا ایک ہاتھ سے تالیاں۔ تھالی تو ہمیشہ بھینگن کی اوربھینگن تھالی کے رہیں گے۔

یہاں توخیرنہ ہماری اتنی بساط ہے نہ اوقات کہ ایسے مقامات عالیہ دیکھ پائیں لیکن پڑوسی ملک کے چینلوں پراکثرایسے پروگرام آتے رہتے ہیں۔ ایک بول رہاہوتاہے اوردوسرے ’’کل ‘‘ ایک ہاتھ سے میز بجاتے دیکھے جاسکتے ہیں اوراسی کودیکھ کر ہم سجھ گئے یہ سیاست والے جوچاہیں کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   پی ایس ایل 7؛ ڈرافٹ کیلیے356غیرملکی کرکٹرز دستیاب

ایک ہاتھ توکیا بغیر ہاتھوں کے بھی تالیاں بجواسکتے ہیں اوربجواتے رہتے ہیں بلکہ سچ تویہ ہے کہ آج تک اس سیاست کی اس نئی دلہن جمہوریت نے خلق خداکودیا کیاہے۔ دنیانے کوہم دیاکیا، دنیاسے ہم نے لیاکیا؟صرف تالیوں کا ہی لین دین رہاہے۔ چاہے تالیاں بجاتے بجاتے آخرمیں دونوں ہاتھ افسوس سے ملناہی کیوں نہ پڑیں۔ بلکہ اگرہم اس بیان میں تھوڑاسافلسفہ اورڈال دیں تویوں بن جائے گا کہ اصل فنکار تووہ ہیں جوایک ہاتھ سے تالی یاڈسک بجاتے ہیں، باقی توصرف یہی دوکام کرتے ہیں تالیاں بجانااورپھران ہی ہاتھوں کوملنا ملنااورپھرتالیاں بجانا۔

جگنوں میاں کی دم جوچمکتی ہے رات کو
سب دیکھ دیکھ اس کوبجاتے ہیں تالیاں

تالیاں ہی بجاسکتے ہیں ورنہ جگنومیاں کوکون پکڑ سکاہے آج تک کہ ادھرڈوبے ادھرنکلے کا پراناماہر ہے۔ ہربارمختلف جگہ پردم چمکاتاہے اورلوگوں کوتالیوں میں مصروف رکھتاہے۔

اس پرایک پروانہ دیوانہ اور مستانہ بھی اپنے عاشقانہ مزاج لیے ہوئے روانہ ہوا۔تواس نے ایک جھیل میں ایک کنول کے پھول میں ایک خوبصورت ننھی منی سے شہزادی بھی دیکھی اوراس پراپنے پورے خاندان کی ہزاروں جانوں سے عاشق ہوگیا۔اس نے کنول کی شہزادی یعنی پرنسیس آف بیوٹی کوفوراًپرپوزکرتے ہوئے ’’یومیری می‘‘ کی درخواست گزاری دی توکنول شہزادی نے کہا، میں تیارہوں لیکن میری ایک شرط ہے۔

پروانے نے اپنی مائیکروواچ کی چھاتی ٹھونکتے ہوئے کہا، ارشادیے۔شہزادی نے کہا کہ میں تم سے یہ نہیں کہوں گی کہ میرے ہاتھوں میں نونوچوڑیاں پہنادو، میرے ہاتھوں میں مہندی لگادے یا میرے پیروں میں پائل سجادے ۔یہ بھی نہیں کہوں گی کہ پشاورسے میرے لیے دنداسہ لانا، دلہن بناکے مجھے اپنے گھرلے جانا۔صرف تھوڑی سی روشنی لادو۔ پروانہ روانہ ہوگیالیکن دیوانہ ہوگیامگر روشنی نہ دے جاسکاجہاں بھی روشنی دیکھ کر جھپٹتاہے۔ وہ ظالم اسے جلا کرراکھ کردیتی ہے، ابھی تک اسی کار لاحاصل میں مصروف ہے۔ اوراسے یہ معلوم ہی نہیں کہ ’’جگنو‘‘اپنی دم کی چمک دکھاکرکنول شہزادی کوپٹا بھی چکاہے، اورڈولی میں بیٹھاکرلے جابھی چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   کرپٹ نگری کا صادق اور امین دیوتا

یاران تیزگام نے منزل کوجالیا
ہم محونالہ جرس’’تالیاں‘‘رہے

اوررہیں گے کہ ہم اسے کے سوااورکربھی کیا سکتے ہیں۔ یہی دو ہاتھ توہمارے ساتھ ہیں جن سے ہم تالیاں بجانے والوں اوردورسے دم چمکانے والوں کوپالیتے ہیں، سلام کرتے ہیں اورفارغ ہوں توملتے ہیں کہ کہیں ان پر میل نہ جم جائے۔ یہ بھی تالیاں بجانے والوں اوردم چمکانے والوں کی تدبیرہے۔ویسے یہ بڑاکمال کا ہنر ہے جوصرف منتخب جگنو دکھاتے ہیں، دونوں ہاتھوں سے تالیاں تو بچے بھی بجالیتے ہیں ۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں