Columns of Amjad Islam Amjad 120

تمنا کہیں جسے

جب سے یہ کورونا کا معاملہ شروع ہوا ہے، دنیا کی شکل ہی بدل گئی ہے۔ برسوں سے رائج طور طریقے نہ صرف بدلے ہیں بلکہ اُن کی جگہ ایسی چیزوں نے لے لی ہے جنھیں شائدمقبولِ عام کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کئی دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔

ان میں سب سے نمایاں ’’آن لائن‘‘ رابطہ ہے جس نے بزنس، تعلیم، سفر، تبادلہ، معلومات اور دفتری اوقات سمیت ہر چیز کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے، یہاں تک کہ ا دب اور کتاب بھی اس کی زد سے نہیں بچ سکے، صرف اُردو ادب کی حد تک مشاعروں، مذاکروں، مباحثوں اور لیکچرز کا یہ عالم ہے کہ ہر روز درجنوں کے حساب سے عالمی سطح کی تقریبات منعقد ہو رہی ہوتی ہیں۔

بلاشبہ ان میں سے زیادہ تر کا معیار کوئی بہت زیادہ بلند نہیں ہوتا مگر ایسی تقریبات بھی کم نہیں جن میں صفِ اول کے لکھاری حصہ لیتے ہوں، ایسے میں جن اداروں یا پروگراموں نے سنجیدہ ، بامقصد اور معیاری ادب کو فروغ دینے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی ہے، اُن میں جوائے آف اُردو Joy of Urduنامی تنظیم یا گروپ کا ذکر اس لیے زیادہ ضروری ہے کہ اپنے نام کی طرح اس کا ہدف اور ذریعہ اظہار بھی دونوں زبانوں کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا ہے اور اس کے سر پرستوں میں ڈاکٹر عارفہ سیّدہ جیسے بے حد اہم نام شامل ہیں، چند ماہ قبل مجھے ان لوگوں کے ایک پروگرام میں شمولیت کا موقع ملا تو ان کی زبان و ادب سے گہری اور سنجیدہ دلچسپی نے بہت متاثر کیا۔
اگرچہ میں نے ان دنوں اس طرح کی ورچوئل میٹنگز سے بوجوہ گریز کا روّیہ اپنا رکھا ہے مگر اپنے چھوڑے ہوئے اچھے تاثر کی وجہ سے میں ان کوانکار نہیں کرسکا جس کی دوسری وجہ ’’غالب ‘‘کا نام تھا کہ یہ پروگرام اُس کے نام تھا اور وجہ حال ہی میں گزرنے والی اُس کی برسی تھی۔ ذاتی طور پر میرے لیے غالب پر بات کرنا ہمیشہ ایک پسندیدہ اور محبوب عمل رہا ہے چنانچہ میں نے ہاں کردی اور یوں پورا ایک گھنٹہ ’’پیرومرشد‘‘ کی دلنواز صحبت میں گزرا۔

یہ بھی پڑھیں: -   چوہتر سالہ گریٹ احتساب سرکس (حصہ پنجم )

اس دفعہ عارفہ سیّدہ کسی وجہ سے شامل نہیں تھیں، اس لیے گفتگو میرے اور پروگرام کے کمپیئر یا اینکر علیم صاحب ہی کے درمیان رہی جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ غالب کی شخصیت، شاعری، مستقل گیر روّیئے اور بیک وقت ایک زندہ دل فلسفی اور سائنسی فکر رکھنے والے شخص کا زندگی کے بارے میں اندازِ نظر ایک ایسا شاندار مجموعہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال فی الوقت اُردو زبان وادب کی تقریباً چار سو سالہ تاریخ میں نہیں ہے، اس کی اس انفرادیت کو سمجھنے کے لیے اس کے یہ دو اشعار بہت کافی ہیں کہ

ہر نفَس ، ہر یک نفَس جاتا ہے قسطِ عمر میں
حیف ہے اُن پر جو کہویں ’’زندگانی مفت ہے‘‘
گُل غنچگی میں غرقہ ، دریائے رنگ ہے
اے آگہی فریب تماشا، کہاں نہیں

اپنی بات کی وضاحت کے لیے میں نے غالب پر لکھی ہوئی اپنی ایک ایسی نظم کو بنیاد بنایا جس کے تمام تر حوالے اور بیشتر الفاظ بھی ا ُس کے ہی مختلف اشعار سے لیے گئے تھے۔ یہ ایک طرح کا ہدیہ تحسین بھی ہے کہ اس میں اُس کے جن اشعار سے استفادہ کیا گیا ہے، وہ نہ صرف اُس کی پہچان ہیں بلکہ اُردو شاعری کے لیے بھی ا ُن کا ہونا عزت اور فخر کا باعث ہے ۔

اپنے پہ کر رہا تھا قیاس اہلِ دہر کا
سمجھا تھا دلپذیر متاعِ ہنر کو وہ
قطرے میں اُس کی آنکھ کو دجلہ دکھائی دے
اُس کو سنائی دے
اُن طائروں کی دردمیں ڈوبی ہوئی صدا
رستوں میں جن کے کھو گیا رخ آشیان کا
تھا جامِ جم سے مٹی کا کوزہ جسے عزیز
جس کے لیے تھی آرزوافسونِ انتظار
ایسا تھا خود نگر کہ اگر اُس پہ وا نہ ہو
اُلٹا پلٹ وہ آتا تھا کعبے کے در سے بھی
اُس کی نظر کے رنگ تھے دنیا سے مختلف
معنی کا اک جہان تھا اُس کا ہر ایک لفظ
شاہد ہے اس بیان پہ خود اُس کی شاعری
دیکھی نہیں ہے ہم نے تو ایسی ہنرور ی
امکاں کے جتنے راز تھے سب اس پہ کُھل گئے
امجدؔ سلام کرتی ہے اُس کو ہر ایک صبح
آتی ہے جو بھی شام وہ لیتی ہے اس کا نام
وہ دُرِّ بے مثال ہے اس میں نہیں ہے شک
وہ رشکِ صد بہار ہے اس میں نہیں کلام
ہم عاشقانِ شعر کا محبوب ہے وہی
شاعر بہت ہیں، سب سے مگر خوب ہے وہی
ڈھوندے تھا جس مغنّی آتش نفس کو جی
وہ رُوبرو ہے، کیجیے اہلِ نظر سلام
ہونے لگا ہے بزم میں غاَلب غزل سرا
جونکتہ داں ہیں اُن کے لیے ہے صلائے عام

یہ بھی پڑھیں: -   منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟

’’ممکن نہیں کہ بُھول کے بھی آرمیدہ ہوں
میں دشتِ غم میں آہوئے صیّا د دیدہ ہوں
جو چاہیے نہیں وہ مری قدر و منزلت
میں یوسف بہ قیمت ِ اول، خریدہ ہوں‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں