adnan-khan-kakar 154

اپنوں کے ستم سے وزیراعظم گھبرا گئے ہیں

وزیراعظم کے بیانات سے لگ رہا ہے کہ انہیں سینیٹ کے الیکشن نے خوفزدہ کر رکھا ہے حالانکہ ان کے ووٹ بینک کو ان ضمنی انتخابات میں کوئی زیادہ نقصان پہنچتا دکھائی نہیں دیا۔ پھر بھی یہ پریشانی کیوں ہے؟ پہلے وزیراعظم کا جمعہ 19 فروری کا بیان دیکھ لیتے ہیں۔

خبروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن ہمارے لوگوں کو خریدنا چاہتی ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ منڈی لگی ہے، سینیٹر بننے کے لیے، سیاست دانوں کو خریدنے کے لیے قیمتیں لگ رہی ہیں۔ اب یہ سوچ رہے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں ہمارے لوگوں کو خرید کر کسی طرح اپنے زیادہ سینیٹر لے آئیں، یہ کون سی جمہوریت ہے، کبھی جمہوریت میں بھی کوئی پیسہ دے کر آتا ہے؟

غالباً اس خوف کی وجہ دو حلقے ہیں۔ ایک تو ڈسکہ کا جہاں بیس پریزائڈنگ افسران، ان کے موبائل فون اور پولیس گارڈ شدید دھند میں گم ہو گئے تھے جبکہ اسی علاقے میں بقیہ 340 افسران کو دھند پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔ وہاں مقابلہ سخت تھا۔ خیر ہمیں یقین ہے کہ وہاں الیکشن وہاں بالکل فری اینڈ فیئر ہوئے ہیں۔ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ بقیہ 340 پولنگ سٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ تیس پینتیس فیصد کیوں رہا اور ان بیس دھندلے حلقوں میں وہ اسی نوے فیصد کیسے ہو گیا، تو ہماری رائے میں اس کا سبب دھند ہے۔ شدید دھند کی وجہ سے وہاں کے ووٹر اپنے کام دھندے پر نہیں جا سکے ہوں گے تو انہوں نے سوچا کہ فارغ کیا بیٹھنا، چلو پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ہی ڈال آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایک قیمتی سوال

ہمارے خیال میں وزیراعظم کو اصل ڈر پرویز خٹک کے شہر نوشہرہ سے لگ رہا ہے۔ سنا ہے کہ ادھر تحریک انصاف کے ایک تیتر اور بٹیر کی لڑائی ہو گئی، لڑتے لڑتے ایک کی دم کھو گئی اور دوسرے کی چونچ۔ یوں ادھر تیتر بٹیر کو ن لیگ کا بڑا سا بلا کھا گیا۔

لگتا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں بھی وزیراعظم کو یہی خوف ہے کہ باہمی لڑائی کے سبب تحریک انصاف کا بٹیرا کہیں پی ڈی ایم کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ خرید فروخت کا کیا ہے، وہ کب نہیں ہوئی۔ آپ کا کیا خیال ہے، ابھی کچھ عرصے پہلے ہی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیا حکومت نے وظائف کے زور پر ناکام کی تھی؟ ادھر پی ڈی ایم کے درجن بھر ووٹر کیوں تحریک عدم اعتماد جمع کروا کر ووٹ اس کے خلاف دے بیٹھے تھے؟ اس وقت بھی تو سوچنا چاہیے تھا کہ ”یہ کیسی جمہوریت ہے، سینیٹ الیکشن میں سیاست دانوں کو خریدنے کے لیے منڈی کیوں لگی ہوئی ہے؟“

ہم تو وزیراعظم کو یہی کہیں گے کہ منڈی لگی ہے تو گھبرانا نہیں ہے، آج کی سرکاری خبر ہے کہ منڈی میں چینی کی فی کلو قیمت ایک ہفتے میں پانچ روپے فی کلو بڑھ کر ایک بار پھر 100 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ جہانگیر ترین اب اپنے جہاز کی ٹینکی کسی فکر کے بغیر فل کروا لیں گے اور سیاسی رابطہ مہم شروع کر دیں گے۔

ہاں خٹکوں کا کھٹکا بہرحال ہے۔ یہ معاملہ اب پیسے کا تو نہیں لگتا۔ وزیراعظم پیار محبت ٹرائی کر لیں۔ سوچیں کہ پرویز خٹک کو کیوں پشتو میں کہنا پڑا تھا کہ میں جسے چاہوں اونچائی پر لے جاتا ہوں اور جسے چاہوں صفر کرتا ہوں اور یہ میری محنت کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر ان کے بیان کا یہ حصہ تو لگتا ہی سینیٹ الیکشن کے متعلق ہے، ”اپوزیشن ارکان میری بہت عزت کرتے ہیں اور تمام اسمبلی ممبران کو میں سنبھالتا ہوں اگر میں گڑ بڑ کروں تو عمران خان کی حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔“
بہرحال گھبرانا نہیں ہے۔ بس یہ دیکھیں کہ یہ ہماری سینیٹ ہے، یہ وزیراعظم ہیں، اور پارری ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   جن جال پورہ
adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں