Columns of Saadullah jaan barq 184

میرے پاس ڈر ہے

وہ مشہور فلمی مکالمہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ ایک بھائی جو غلط راستوں کا راہی ہے بہت زیادہ مالدار ہوتا ہے، اس کے مقابل دوسرا ایماندار بھائی مالدار تو نہیں ہوتا کیونکہ حق حلال کی نوکری کرتا ہے لیکن دونوں کی ماں اپنے بے ایمان لیکن مالدار بیٹے کو چھوڑ کر غریب اور ایماندار بھائی کے پاس رہ رہی ہے۔

ایک موقع پر دونوں میں ٹاکرا ہوتا ہے تو ایک کہتا ہے، میں غلط ہوں لیکن آج میرے پاس دولت ہے، بنگلہ ہے، کار ہے، تمہارے پاس کیا ہے۔دوسرا جواب دیتا ہے، میرے پاس ’’ماں‘‘ہے۔ ہم سے بھی اگر کوئی مالدار ایسا پوچھے کہ تمہارے پاس کیا تو ہم جھٹ سے جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ’’ڈر‘‘ہے اور ہم اس کا اظہار ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ ،کیا ہوا اگر ہمارے پاس کچھ اور نہیں’’ڈر‘‘بہت ہے کیونکہ خدا کے فضل سے ہم بہادر بالکل نہیں ہیں بلکہ نہایت ہی اعلیٰ درجے اور ہائی فائی کیٹیگری کے ڈرپوک اور بزدل ہیں اور یہی ہمارا ہتھیار بھی ہے، زیور بھی اور طرہ امتیاز بھی۔بلکہ ہم بلا خوف تردید یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہو ہمارے جیسا ڈرپوک تو سامنے آئے۔اگر ہمارے پاس یہ ڈر نہ ہوتا تو نہ جانے کب؟کہاں؟ اور کیسے کہیں ہمارا لاشہ پڑا باس ماررہا ہوتا لیکن ہم ڈرتے ہیں اور بہت اچھی طرح ڈرتے ہیں۔

اس لیے نہ تو کسی کو اپنے اوپر جہاد جہاد کا بلاوہ دیتے ہیں اور نہ ہی ہمیں زرکثیر صرف کرکے چوکیدار، پہرے دار، ہتھیار،اونچی دیواریں اور اس پر کانٹے دار تار کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم اس ڈر کی وجہ سے وہ کہتے ہیں نہ کرتے ہیں بلکہ سوچتے بھی نہیں جو خطروں میں شمار ہوتا ہے۔مثال کے طور پر آج کل یہ جو اپوزیشن اور حکومت کے درمیان پھڈا چل رہاہے یا یوں کہیے کہ چوروں کے درمیان مال غنیمت عرف عوام کی تقسیم پر تو تو میں میں ہورہی ہے، اگر یہ مقدمہ کوئی ہمارے سامنے پیش کرے، ممکن تو نہیں لیکن پھر بھی فرض کیجیے، یہ مقدمہ ہمارے سامنے ثالثی کے لیے پیش ہوجائے تو ہم احمق نہیں نہ ہی بہادر ہیں جو کسی ایک کو غلط قرار دے کر اپنے آپ کو خطرے میں مبتلا کریں۔
ہم حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ العالی سے بھی کہہ دیں گے کہ آپ بالکل صحیح فرمارہے ہیں اور جناب کپتان خان وزیراعظم ریاست مدینہ سے بھی کہہ دیں گے کہ آپ برابر بول رہے ہیں۔ اب اگر درمیان میں کوئی دانا دانشور یا میڈیا بہادر بیٹھا ہو کہ یہ کیا بات ہوئی، وہ بھی صحیح اور یہ بھی صحیح؟ تو ہم اسے ذرا بھی ڈانٹے بغیر مسکرا کرکہہ دیں گے کہ آپ بھی بالکل صحیح فرماررہے ہیں۔پھر شاید کوئی دوسرا بول اٹھے کہ اگر سب صحیح ہیں تو پھر غلط کون ہے۔تو اسے کہہ دیں گے کہ غلط کوئی نہیں ہے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی غلط نہیں ہوتا، سب کے سب صحیح ہوتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے فلسفی ’’ڈر‘‘کا کہنا ہے کہ سب صحیح ہوتے ہیں۔ایسے مواقعے پر ہمیں اکثر استاد خلیل خان یاد آجاتے ہیں۔ استاد خلیل آغاحشر اور پرتھوی راج کپور کے زمانے کے تھیٹر اداکار تھے۔ ریڈیو پاکستان پشاور میں بھی ڈرامہ آرٹسٹ تھے۔وہ ہمیں اکثر اپنے پرانے زمانے کے تجربات اور واقعات سنایا کرتے تھے جوانھیں ہندوستان بھر میں تھیٹر اداکاری کرتے ہوئے حاصل ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: -   چغد کا مال مسخرہ کھائے!

ایک واقعہ یہ تھا، جب میں قیام پاکستان کے بعد پشاور آیا تو میں نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں جنھیں اکثر تاؤ دے کر کھڑی رکھتا تھا۔ ڈیل ڈول بھی خاصا رعب دار تھا، اس لیے لوگ دلچسپی سے دیکھتے تھے اور متاثر ہوتے تھے۔ان دنوں پشاور پر ایک غنڈے،’’کپوکاں‘‘کا راج چلتا تھا ’’کپوکاں‘‘ کا مطلب کچھ ’’کاٹا کھایا‘‘یا کاٹ کر کاٹنے والا جیسا تھا۔ایک دن اچانک قصہ خوانی میں میرا سامنا ’’کپوکاں‘‘ سے ہوگیا جو اپنے ٹولے کے ساتھ چلا آرہا تھا۔

اس نے مجھے دیکھا تو ٹھیک میرے سامنے کھڑا ہو کر تھوڑی دیر دیکھتا رہا، دیکھتا رہا، پھر سخت آواز میں بولا، ’’تھلے کر مونچھاں‘‘ اس موقع پر استاد خلیل خان باقاعدہ تھیٹر اداکار ہوجاتا اور ڈائیلاک بولنے لگا۔اس نے مجھے کہا ’’تھلے کرمونچھاں‘‘ میں نے اسے دیکھا، اس نے مجھے دیکھا، میں نے پھر اس کو دیکھا، چاروں طرف دیکھا،کچھ سوچا ، پھر دیکھا۔اچھی طرح سسپنس کری ایٹ کرنے کے بعد استاد خلیل خان ہاتھ اٹھاتا ہے اور مونچھوں پر رکھتے ہوئے کہتا، ’’یہ لے‘‘ اور مونچھیں تھلے کردیں۔استاد خلیل خان کی تقلید میں ہم نے اس رویے کو ہمیشہ کے لیے اپنایا ہوا ہے جہاں کہیں کسی ’’کپوکان‘‘ کا سامنا ہوا، ہم نے ’’یہ لے‘‘کی پالیسی اپنالی۔سب کچھ ٹھیک۔آپ کی بھی خیر، خیرہماری بھی خیر۔نہ سیخ جلی نہ کباب۔مونچھوں کا کیا ہے، اوپر بھی خوش، نیچے بھی خوش۔لیکن اگرغلطی ہوئی تو پھرمونچھوںکے ساتھ، ’’’سر‘‘بھی’’تھلے‘‘، تو پھر کس نے دیکھا ہے کہ لڑھکتے ہوئے سر کی مونچھیں تنی ہوئی ہیں یا ’’تھلے‘‘ ہیں۔بلکہ مونچھیں ہیں بھی یا نہیں۔بلکہ اگر مونچھیں نہ ہی رکھی جائیں تو اور زیادہ بہترہوتاہے، غالباً آج کل لوگ اسی لیے تو مونچھیں رکھتے ہی نہیں کہ اونچی نیچی کا مسئلہ ہی نہ ہو۔نہ رہے مونچھ اور نہ رہے نیچ یا اونچ۔بلکہ جس جھگڑے یا پھڈے کا ذکر ہم نے کیا، اس میں فریقین کی مونچھیں نہیں ہیں۔کس نے دیکھا ہے کہ کس کی مونچھیں پورے’’بارہ‘‘بجارہی ہیں اور کس کی ساڑھے چھ۔جب سوئیاں ہی نہیں ہیں تو ہندسے کون دیکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   پُرسکون گھرانہ

پڑے ہیں تو پڑے رہنے دو مرے خون کے دھبے
تمہیں دیکھیں گے سب محشر میں داماں کون دیکھے گا

مطلب سارے کا سارا یہ ہے کہ ہمارا سہارا ’’ڈر‘‘اور صرف ڈرہے اور کسی کے پاس ڈرہو تو پھر ڈر کس بات کا؟نہ تیر تلواروں کی ضرورت نہ مضبوط دیواروں کی حاجت، نہ چوکیداروں، پہرے داروں اور کانٹے والی تاروں کی ضرورت۔ یہ توصرف واروں نیاروں کی حالت ہوتی ہے۔یقین کریں بہت بڑی نعمت ہے۔ بہادری چھوڑیے ڈرکو اپنایئے، پالیے پوسیے اور جزو زندگی بنالیجیے۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں