columns of Javed Chaudhary 142

ایک تھا خاندان

ایک خاندان تھا‘ وسائل سے مالا مال‘ زمین زرخیز‘ لوکیشن شان دار اور خاندان کے لوگ ذہین‘ بہادر اور ہنر مند‘ ہمسائے اس خاندان سے جیلس تھے‘ یہ اسے ترقی یافتہ اور خوش حال نہیں دیکھنا چاہتے تھے‘ خاندان کی سربراہی دو بھائیوں کے پاس تھی۔

ایک بھائی خاندان کی حفاظت کا ذمے دار تھا اور دوسرا خاندان کی پرورش کرتا تھا‘ وہ منیجر تھا‘ پہلا بھائی خاندان کی دیواریں مضبوط رکھتا تھا‘ گیٹ پر ڈیوٹی دیتا تھا اور چھت پر پہرہ داری کرتا تھا جب کہ دوسرا بھائی خاندان کے لیے وسائل پیدا کرتا تھا‘ کھیتی باڑی کراتا تھا‘ کارخانے لگواتا تھا‘ تجارت کراتا تھا‘ پانی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول کا بندوبست کرتا تھا‘ بچوں کی تعلیم اور تربیت بھی اس کی ذمے داری تھی‘ یہ دونوں بھائی متحد تھے اور اپنی اپنی ذمے داری بھی احسن طریقے سے پوری کر تے تھے۔

ہمسایوں نے ان پر کئی مرتبہ حملے کیے مگر دونوں بھائیوں نے مل کر اپنے خاندان کی حفاظت کی اور یہ سرخ رو ہوئے‘ ہمسایوں نے ریسرچ کی تو پتا چلا ان کی اصل طاقت ان کا اتحاد ہے‘ چناں چہ ہمسایوں نے اتحاد توڑنے کے لیے کئی کئی سازشیں کیں لیکن یہ کام یاب نہ ہو سکے‘ آخر میں انھوں نے ایک دل چسپ چال چلی‘ انھوں نے خاندان کے چند لوگوں کو اکٹھا کیا اور انھیں یہ بتانا شروع کر دیا خاندان کی اصل طاقت تم ہو‘ تم مزدوری کرتے ہو‘ تم کھیتی باڑی کرتے ہو‘ کارخانے چلاتے ہو اور تجارت کرتے ہولیکن تمہاری ساری کمائی یہ دونوں بھائی کھا جاتے ہیں۔
یہ تمہارے ساتھ زیادتی ہے‘ تم آخر کب تک غلامی کرو گے چناں چہ بغاوت کرو اور آزاد ہو جاؤ‘ خاندان کے وہ لوگ ان کی باتوں میں آ گئے اور انھوں نے بٹوارے کا مطالبہ کر دیا‘ منیجر بھائی نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ باز نہ آئے جب کہ محافظ نے انھیں ڈرانے‘ دھمکانے اور دبانے کی کوشش کی لیکن یہ مزید ناراض ہو گئے، یوں لڑائی شروع ہوگئی اور خاندان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا‘ گھر کے اندر دیوار بنا دی گئی اور باہر دو دروازے لگ گئے جس کے بعد محافظ بھائی اور منیجر بھائی نے بچے کھچے خاندان کی ذمے داری اٹھا لی‘خاندان چھوٹا ہو گیا لیکن یہ اس کے باوجود ابھی تک مضبوط تھا۔

لہٰذا ہمسایوں نے سوچا ہمیں ان کے مزید ٹکڑے کرنا ہوں گے لیکن یہاں ایک مسئلہ پیدا ہو گیا‘ دونوں بھائی دشمن ہمسائے کی چال سمجھ چکے تھے‘ چناں چہ انھوں نے پنچایت میں دشمن کی شکایت کرنا شروع کر دی‘ یہ گاؤں کے ہر چوہدری کے پاس جاتے اور اسے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتاتے‘ یہ اسے یہ بھی بتاتے ہمارا دشمن ابھی تک باز نہیں آیا‘ یہ ہمیں مزید تباہ کرنا چاہتا ہے‘ پنچایت سمجھ دار تھی‘ وہ جانتی تھی یہ سچ کہہ رہے ہیں اور ان کے ہمسائے واقعی انھیں امن اور آشتی کے ساتھ زندگی نہیں گزارنے دے رہے‘ پنچایت نے بڑے دشمن ہمسائے کو ڈانٹنا شروع کر دیا‘ اس نے اسے صاف بتا دیا تم نے اگر مزید زیادتی کی تو ہم تمہارا ساتھ نہیں دیں گے‘ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے‘ دشمن ہمسایہ ڈر گیا مگر وہ اس خاندان کو کسی قیمت پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا چناں چہ اس نے اپنی حکمت عملی بدل لی۔

یہ بھی پڑھیں: -   میرے بچپن کے دن! (قسط3)

نئی حکمت عملی کے تین پہلو تھے‘ اس نے خاندان کے الگ ہونے والے حصے کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا‘ یہ اسے ترقی دے کر باقی خاندان اور گاؤں کو یہ پیغام دینا چاہتا تھا یہ دونوں بھائی غلط ہیں‘ یہ اصل پرابلم ہیں‘ خاندان کا یہ حصہ جب تک ان بھائیوں کے زیر اثر تھا‘ جاہل اور معاشی لحاظ سے بدحال تھا لیکن یہ جوں ہی ان کے اثر سے نکلا یہ خوش حال بھی ہو گیا‘ تعلیم یافتہ بھی اور طاقتور بھی‘ دشمن ہمسائے کا خیال تھا اس مثال سے گاؤں کے لوگ بھی دونوں بھائیوں کے خلاف ہو جائیں گے اور خاندان کے باقی لوگوں کو بھی محسوس ہو گا ہم بھی اگر خاندان کے آزاد حصے کی طرح خوش حال‘ تعلیم یافتہ اور مضبوط ہونا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں بھی الگ ہو جانا چاہیے‘ دشمن کی یہ تدبیر بڑی حد تک کام یاب ہو گئی۔

الگ ہونے والا گروپ خوش حال بھی ہو گیا‘ اسے دیکھ دیکھ کر خاندان کے باقی افراد کے اندر بھی الگ ہونے کی خواہش پنپنے لگی۔حکمت عملی کا دوسرا پہلو خاندان کے بارے میں نیگیٹو رپورٹنگ تھی‘ دشمن ہمسائے نے پورے گاؤں میں خاندان کے بارے میں بری خبریں پھیلانا شروع کر دیں‘ گاؤں میں کسی بھی جگہ چوری ہوتی تھی تو دشمن ہمسایہ اس خاندان کو چور ڈکلیئر کر دیتا تھا‘ یہ خود چوری کرا کر مال اس خاندان میں چھپا دیتا تھا اور پھر برآمدگی کرا دیتا تھا اور یوں یہ خاندان بدنام ہو جاتا تھا‘ ہمسائے نے خاندان کو پورے گاؤں میں لڑاکا‘ جھگڑالو اور بدتمیز بھی مشہور کرنا شروع دیا

یہ بھی پڑھیں: -   کیا بھارت میں قرار داد مقاصد منظور ہوئی؟

اس نے معاشی نقصان پہنچانے کے لیے منڈی میں اس کی اجناس اور مصنوعات کے مقابلے میں اپنا مال بھی سستا دینا شروع کر دیا‘ اس نے اس کی ساری منڈیاں بھی چھین لیں‘ اس کی نئی حکمت عملی کے دونوں پہلو جب کام یاب ہو گئے تو اس نے تیسری چال چل دی‘ اس نے دونوں بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا شروع کر دیے‘ یہ اپنے ایجنٹوں اور گاؤں میں موجود دوستوںکے ذریعے محافظ اور منیجر دونوں بھائیوں کو تھپکی دینے لگا‘ یہ محافظ کو بتاتا تھا خاندان کے اصل وارث تم ہو‘ تم گولی بھی کھاتے ہو‘ زخم بھی لیتے ہو‘ دن اور رات جاگتے بھی ہو لیکن بدلے میں تمہیں کیا ملتا ہے؟ طعنے اور نفرت‘ قربانی تم دو‘ خاندان کی حفاظت تم کرو اور گُل چھرے کرپٹ منیجر اڑائے‘ تم دیکھ نہیں رہے اس نے کتنی جائیداد بنا لی‘ اس کے بچے شہر میں پل رہے ہیں۔

جب کہ تمہارے لیے دوا اور خوراک کے پیسے بھی نہیں ہیں‘ اس نے منیجر کو بھی یہ بتانا شروع کر دیا خاندان کا اصل مسئلہ محافظ بھائی ہے‘ تم جو کماتے ہو تم اس پر لگا دیتے ہو‘ تم اگر میرے ساتھ صلح کر لو‘ ہم اگر میز پر بیٹھ جائیںتو محافظ اور حفاظت دونوں کی ضرورت نہیں رہے گی‘ تم یہ رقم خاندان پر لگا سکو گے‘ منیجر کو یہ بات بھلی لگتی ہے اور یہ اس کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے‘ دشمن ہمسایہ اس دوران محافظ کو بتاتا ہے منیجر کا اصل منصوبہ تم سے جان چھڑانا ہے۔

یہ تمہیں فارغ کر کے خاندان کے سارے وسائل ہڑپ کرنا چاہتا ہے‘ محافظ شک میں پڑ جاتا ہے اور منیجر کو مذاکرات سے روک دیتا ہے جس کے بعد دشمن ہمسایہ فوراً منیجر کو بتاتا ہے دیکھو میں نہ کہتا تھا تمہارا اصل مسئلہ ہم نہیں محافظ ہے‘ یہ جب تک موجود ہے تم ترقی نہیں کر سکو گے‘ منیجر بھی شک کا شکار ہو جاتا ہے اور دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جاتی ہے‘ دشمن ہمسایہ اس دوران خاندان کے لوگوں کو بتانا شروع کر دیتا ہے‘ یہ دونوں صرف اپنے مفاد کے اسیر ہیں‘ یہ دونوں تمہیںلوٹ رہے ہیں یوں خاندان کے لوگ بھی منیجر اور محافظ دونوں کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   مرحوم کی کیا بات تھی؟

دشمن ہمسایہ اس کے بعد گاؤں کو بتاتا ہے دیکھیں ہم مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں‘ دوستی کا ہاتھ بھی بڑھاتے ہیں لیکن ہم کس کے ساتھ مذاکرات کریں ہم یہ نہیں جانتے‘ منیجر سے بات کرتے ہیں تو محافظ بات چیت کو سبوتاژ کر دیتا ہے‘ محافظ سے مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو منیجر مذاکرات کو ’’اون‘‘ نہیں کرتا‘ آپ پلیز فائنل اتھارٹی کا فیصلہ کرا دیں‘ پنچایت گاؤں میں امن چاہتی ہے لیکن مرکز میں موجود ایک خاندان کے اندر بھی لڑائی چل رہی ہے اور یہ خاندان ہمسائے سے بھی لڑ رہا ہے اور اس کی وجہ سے چار پانچ مزید خاندانوں کے اندر بھی جنگ شروع ہو چکی ہے‘ پنچایت اس سلسلے کو روکنا چاہتی ہے لیکن یہ مسئلہ رک نہیں رہا‘ یہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

پنچایت اب تنگ آ چکی ہے اور یہ گاؤں کے لوگوں سے پوچھ رہی ہے ’’ہمیں کیا کرنا چاہیے‘ہم اس مسئلے کو کیسے حل کریں‘‘ چند خاندانوں کا خیال ہے آپ اسے حال پر چھوڑ دیں، یہ لوگ خود ہی لڑ لڑ کر مر جائیں گے‘ چند خاندان کہہ رہے ہیں آپ ان کا حقہ پانی بند کر دیں، شاید یہ لوگ ایسا کرنے سے ہی سنبھل جائیں‘ جب کہ چند خاندانوں کا خیال ہے خاندان کے پاس بارود کا ڈھیر ہے۔

ہم نے اگر اسے حال پر چھوڑ دیا اور کسی دن ان لوگوں نے بارود کو آگ لگا دی تو پورا گاؤں اڑ جائے گاچناں چہ ہمیں اس خاندان کے مزید ٹکڑے کر دینے چاہییں‘ خاندان کا سائز کم ہو گا تو گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟ لہٰذا یہ مشرقی یورپ اور سینٹرل ایشین ریاستوں کی طرح اپنے اپنے مسئلوں میں الجھ کر بندے بن جائیں گے‘ آخری اطلاعات تک یہ تینوں آپشن میز پر موجود ہیں اور پنچایت کی ووٹنگ جاری ہے اور اس بار کا فیصلہ حتمی ہو گا لیکن خاندان اس خطرے سے نبٹنے کے بجائے مسلسل آپس میں لڑ رہا ہے اور یہ تازہ ترین صورت حال ہے۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں