columns of Javed Chaudhary 174

زندگی کا ذائقہ

مولانا روم کونیا میں ہر جمعہ کو خطاب کرتے تھے‘ لوگ سیکڑوں میل سفر کر کے خطاب سننے آتے تھے‘ زائرین کاشغر سے زیارت‘ غورستان سے اصفہان اور بلخ سے لے کر مشہد تک سے کونیا آتے تھے اور کاروان سرائے میں بیٹھ کر جمعہ کا انتظار کرتے تھے‘ جمعہ کی نماز سے پہلے درگاہ کے دروازے کھول دیے جاتے تھے۔

مولانا روم درمیان میں بیٹھ جاتے تھے اورمنبر کی ایک سمت عمائدین‘ تاجر اور رئوساء‘ دوسری طرف عام لوگ اور تیسری طرف مولانا کے درویش بیٹھ جاتے تھے‘ مولانا بولتے تھے اور آپ کے لفظ گلاب کی خوشبو میں مل کر پورے ماحول کو معطر کر دیتے تھے‘ وہ ایک پرآشوب دور تھا‘ منگول بھی کھوپڑیوں کے مینار بنا رہے تھے‘ صلیبی جنگیں بھی چل رہی تھیں۔

سلجوق ریاست کی دیواریں اور برج بھی گر رہے تھے اور ایران کے اندر بھی شورشیں کروٹ لے رہی تھیں چناں چہ پورا عالم اسلام پھوڑے کی طرح بہہ رہا تھا‘ ہر طرف موت کا رقص جاری تھا‘ اس عالم آشوب میں دکھی دلوں کے صرف دو ٹھکانے تھے‘حلب میں ابن عربی کی درگاہ اور کونیا میں مولانا روم کا آستانہ چناں چہ لوگ دیوانہ وار ان کی طرف دوڑرہے تھے‘ مولانا کے لفظ مرہم کی طرح زخموں پر گرتے تھے اور روح کے دریدہ دامن تک سیتے چلے جاتے تھے۔

آشوب کے اس دور میں بخارا کا ایک زمین دار سانڈ پر بیٹھ کراڑھائی ہزار میل کا سفر طے کر کے کونیا پہنچا‘ چار دن شہر سے باہر پڑا رہا‘ جمعہ کا دن آیا تو وہ نہا دھو کر مولانا کی درگاہ پہنچ گیا‘ خطبہ سنا‘ مولانا کی امامت میں نماز پڑھی اور مولانا نے آخر میں جب لوگوں سے ملاقات شروع کی تو وہ کندھوں اور کہنیوں کے ریلے میں بہتا ہوا آپ تک پہنچ گیا‘ مولانا نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا اور پوچھا ’’تمہیں کون سے دکھ چین نہیں لینے دے رہے‘‘ زمین دار دھاڑ مار کر رو پڑا‘ مولانا نے اسے سینے سے لگایا‘ کندھوں پر تھپکی دی۔

اپنے عمامہ کے پلو سے اس کی آنکھیں صاف کیں اور پھر فرمایا ’’تم اپنا دکھ بتائو شاید میں کوئی تالیف کر سکوں‘‘ زمین دار نے ہتھیلی کی پشت سے آنکھیں رگڑیں اور عرض کیا ’’حضور میں جہاں دیکھتا ہوں مجھے بدامنی اور تباہی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا‘‘ مولانا نے پوچھا ’’کیا تم محفوظ ہو‘‘ وہ بولا ’’اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے میں‘ میرا خاندان‘ میرے مال مویشی‘ کھیت‘ باغ اور گائوں سب محفوظ ہیں‘ سارے لشکر اور ساری آفتیں ہمیں چھوئے بغیر گزر گئیں۔

میں محفوظ ہوں مگر میرے دائیں بائیں کی ابتری اور تباہی نے میرے اندر خوشی کا جوہر مار دیا‘ مجھے اب کوئی چیز خوشی نہیں دیتی‘ میں اندر سے ختم ہو گیا ہوں‘‘ مولانا دکھی ہو گئے‘ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اداس لہجے میں کہا ’’میرے عزیز مجھے تم سے ہمدردی ہے‘ تم دنیا کے سب سے بڑے اثاثے سے محروم ہو گئے ہو‘ یہ نقصان ناقابل تلافی ہے لیکن افسوس میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: -   ددی بائی مگھیانے والی کی تجوری اور پنڈورا پیپرز

زمین دار کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو آ گئے اور اس نے ہچکی لیتے ہوئے کہا ’’کیا دنیا میں میرے دکھ کی کوئی دوا نہیں‘‘ مولانا نے چند لمحے سوچا اور پھر فرمایا ’’صرف ایک علاج باقی ہے اور اس علاج کو محبت کہتے ہیں‘ محبت دنیا کا واحد جذبہ ہے جو خوشی کے سوکھے ہوئے چشمے دوبارہ رواں کر دیتا ہے‘ تم محبت آزما کر دیکھو‘‘ وہ رکے اور ٹھہر ٹھہر کر فرمایا ’’اوریہ بھی یاد رکھو دنیا کا ہر شخص موت کا ذائقہ چکھتا ہے لیکن زندگی کا ذائقہ کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے‘ اللہ سے جب بھی دعا کرو زندگی کا ذائقہ مانگو‘‘۔

ہمارا گروپ ہفتے کی دوپہر کونیا پہنچا‘ کونیا میں لاک ڈائون تھا‘ پورے شہر میں ایک سوگوار سی ویرانی اور خاموشی تنی ہوئی تھی‘ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی‘ سردی کا موسم‘ ہلکی ہلکی بارش‘ لاک ڈائون اور مولانا روم کی درگاہ اور اوپر سے مرکزی وضو خانے کے گرد بکھرے پاکستانیوں کا ڈپریشن‘ یہ بڑا عجیب کمبی نیشن تھا‘ گروپ پوچھ رہا تھا وہ تالاب کہاں تھا جہاںمولانا بیٹھتے تھے اور حضرت شمس تبریز نے آ کر ان کی ساری کتابیں اس میں پھینک دی تھیں اور پھر وہ پانی میں ہاتھ ڈال کر ایک ایک کتاب نکالتے گئے‘ اسے جھاڑتے گئے اور کتابیں دوبارہ مولانا کے ہاتھ میں پکڑاتے گئے اور مولانا تمام کتابیں سوکھی دیکھ کر حیران ہوتے گئے۔

میں نے وضو خانے کی طرف اشارہ کیا‘ وہ تالاب اب فوارے میں سمٹ آیا ہے اور فوارے پر ٹونٹیاں لگا کر اسے وضو خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘ لوگ عقیدت سے فوارے کی طرف دیکھنے لگے‘ مولانا کے حجرے سامنے تھے‘ ان میں ان کے درویش بھی رہتے تھے‘ اہل خانہ بھی‘ خادم بھی اور ان ہی حجروں میں سے کسی ایک حجرے میں شمس تبریز نے مولانا کے ساتھ چالیس دن گزارے تھے اور ان چالیس دنوں میں آپ نے وقت کے درویش سے محبت کے چالیس سبق سیکھے تھے‘ روز ایک سبق ‘ چالیس دن اور چالیس سبق‘ گروپ پوچھ رہا تھا مولانا اتنے مشہور کیوں تھے۔

بادشاہ اور شہزادے ان کے ساتھ کیوں رہتے تھے اور مولانا اور سلطان ولید کی قبریں ساتھ ساتھ کیوں ہیں وغیرہ وغیرہ اور میں اپنی بساط کے مطابق انھیں جواب دے رہا تھا لیکن دل کے اندر ایک بے چینی‘ ایک اضطراب تھا اور یہ اضطراب بار بار پوچھ رہا تھا‘ ہم من حیث القوم اداس‘ پریشان اور مایوس کیوں ہیں اور ہر بار ایک ہی جواب آتا تھا‘ ہمارے اندر بھی بخارا کے زمین دار کی طرح خوشی مر گئی ہے‘ ہم بھی خوشی کے جوہر سے محروم ہو گئے ہیں‘ ہم لوگ بخارا کے زمین دار ہیں‘ ہم خود محفوظ ہیں مگر غیر محفوظ حالات نے ہمیں اندر سے ویران کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   یااللہ یارسول ہمارے مدارس بے قصور

مجھے مولانا کے صحن میں چلتے پھرتے ہوئے وہ سارے کردار یاد آ گئے جنھیں اللہ تعالیٰ نے خوشحالی‘ شہرت اور اقتدار تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے مگر یہ اس کے باوجود اداس اور پریشان ہیں اور میں انھیں ہمیشہ روتے ہوئے دیکھتا ہوں‘ ہمارے سارے سیٹھ‘ ہمارے سارے ارب پتی بخارا کے زمین دار ہیں‘ میں ہمیشہ سیٹھوں سے ایک سوال کرتا ہوں۔

اللہ نے اگر آپ کو سب کچھ دے رکھا ہے تو پھر آپ اداس کیوں ہیں؟ ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے ’’ملک کے حالات‘‘ ہم اگر ان لوگوں کو ذاتی طور پر دیکھیں تو یہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں‘ یہ دکانوں سے فیکٹریوں اور ورکشاپس سے کارخانوں تک پہنچ گئے ہیں‘ دس دس ارب روپے کا ’’ٹرن اوور‘‘ ہے لیکن ان کے چہرے پر ٹینشن نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں‘ یہ ہر وقت ایک اداسی‘ ایک نامعلوم خوف کا شکار رہتے ہیں۔

آپ نے کبھی سوچا ایسا کیوں ہے؟ پورا ملک مایوسی کا شکار کیوں ہے؟ دو لفظوں میں بتایا جائے تو عدم استحکام (Instability)‘ عدم استحکام انسان کی خوشی کھا جاتا ہے چنانچہ صدر عارف علوی سے لے کر عارفے لوہار تک آپ کو کسی کے چہرے پر خوشی اور سکون نہیں ملے گا‘ ہم سب اندر سے تلاطم کا شکار ہیں‘ ہم پہلے 1952سے 1971 تک لسی کی چاٹی کی طرح ملک کو ہلاتے رہے تھے اور پھر ہم نے 1971 کے بعد بھی ملک کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا۔

ہم نے اسے موت کے کنوئیں سے باہر نہیں نکلنے دیا‘ میں بار بار عرض کر رہا ہوں‘ آپ بیشک چالیس سال کے لیے مارشل لاء لگا دیں‘ بیشک پورے ملک کے ہونٹ سی دیں اور بیشک میڈیا اور عدالتیں بند کر دیں لیکن ملک میں استحکام آنے دیں تاکہ محدود ہی سہی لیکن لوگ سانس تو لے سکیں تاکہ سڑکوں پر صرف ٹریفک ہو جلسے اور جلوس نہ ہوں اور پولیس اور بیوروکریسی صرف عوام کے لیے کام کرے۔

سیاسی جماعتوں کو روکنے یا حکومت کی انا کی تسکین میں نہ جتی رہے اور ہمیں ساتھ ہی عوام کی خوشی کا بندوبست بھی کرنا ہوگا‘ سینما ہوں جہاں لوگ فلمیں دیکھیں‘ پارک ہوں جہاں واک کر سکیں‘ میدان ہوں جہاں کھیل سکیں اور ریستوران اور چائے خانے ہوں جہاں لوگ بیٹھ سکیں‘ ہم زندگی کو کیوں محدود کرتے چلے جا رہے ہیں؟۔

یہ بھی پڑھیں: -   کوویڈ، بھارت اور انسانیت

ہم مولانا کی درگاہ کے چوتھے گیٹ سے سلطان سلیم مسجد کے بیرونی احاطے میں آ گئے‘ مولانا روم کے زمانے میں یہاں گلاب کے وسیع کھیت ہوتے تھے‘ دور دور تک گلاب لہلہاتے تھے اور ان کی خوشبو سے ماحول ہر وقت گلابی رہتا تھا‘ مولانا گلاب کے اپنے ان کھیتوں پر بہت ناز کرتے تھے لیکن اب وہاں پتھر کا فرش تھا اور فرش کے درمیان ایک سنگی فوارہ‘ سلطان سلیم مسجد سارا دن دور سے اس فوارے کو دیکھتی رہتی ہے۔

ہم فوارے کی طرف بڑھ گئے‘ مجھے پتھریلے فرش کے نیچے گلابوں کی جڑیں سسکیاں لیتی محسوس ہورہی تھیں‘ شاید یہ بھی یہ کہہ رہی تھیں موت کا ذائقہ تو ہر نفس چکھتا ہے لیکن زندگی کا ذائقہ کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے اور تم لوگ کس قدر بدقسمت ہو تم پوری زندگی مر مر کر جیتے ہو اور جو مر جائیں تم انھیں زندہ سمجھتے رہتے ہو‘ تم کسی دن ٹھنڈے دماغ سے سوچو تم زندگی کے ذائقے سے کیوں محروم ہو؟۔

شاید ہم نے کبھی زندگی کے بارے میں سوچا ہی نہیں‘ شاید ہم حالات کو بدلنے کے چکر میں خود کو بدلنا بھول گئے ہیں‘ مولانا نے ایک دن اسی صحن میں گلابوں کے درمیان پھرتے پھرتے اپنے ایک شاگرد سے کہا تھا ’’اللہ یار میں جوانی میں بہت چالاک تھا‘ میں دنیا کو بدلنے کی کوشش میں مصروف تھا‘ میں آج سمجھ دار ہو گیا ہوں چناں چہ میں اب خود کو بدل رہا ہوں‘ تم بھی جب سمجھ دار ہو جائو تو تم بھی دوسروں کی بجائے خود کو تراشنا شروع کر دینا‘‘ ہم بھی شاید اسی مغالطے کا شکار ہیں۔

زندگی کا ذائقہ باہر ہے جب کہ حیات کے سارے ذائقے ہمارے اندر ہیں‘ دور گہرائی میں‘ ہماری روح کے اندر۔ میں نے بے اختیار اپنے دل پر ہاتھ پھیرا‘عین اس لمحے ایک سفید کبوتر نے ڈائیو لگائی اور پھڑپھڑاتا ہوا فوارے کی چھت پر آبیٹھا‘ کونیا کا سکوت ٹوٹ گیا‘ اس کونیا کا سکوت جس کے بارے میں مولانا نے کہا تھا‘ دنیا ختم بھی ہو جائے تو بھی انگورہ کی بھیڑیں اور کونیا کے درویش باقی رہ جائیں گے۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں