Rihanna-tweets-about-farmers-protest-Kangana-calls-her-a-fool 193

پاپ اسٹار ریحانہ کی کسانوں کے حق میں آواز

امریکی پاپ اسٹار ریحانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ کی جس میں انڈیا میں کسان احتجاج کے مقامات پر انٹرنیٹ کی بندش کی خبر کو قوٹ کیا اور کہا کہ “ہم اس کے بارے کچھ کیوں نہیں بولتے؟

Rihanna pop singer tweet about farmars
اس ایک ٹویٹ کے بعد ،کسان مظاہرین کی حمایت میں توسیع کے ساتھ عالمی توجہ بھی ان کی طرف مبذول ہوئی. اس کے بعد آب و ہوا کی سرگرم کارکن گریٹا تھونبرگ اور امریکی نائب صدر کی بھانجی مینا ہیریس نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کسانوں کی حمایت کی ۔⁣
Meena Haris Reply
ان کے وسیع پیمانے پر مشترکہ ٹویٹس وائرل ہوئیں ، جس سے ہزاروں جوابات ملے ۔⁣ صرف ریحانہ کے فالوورز کی تعداد 101 ملین ہے.
بھارت میں کسان فارم بل کے خلاف دہلی میں احتجاج کر رہے ہیں مگر انہیں شہرت اس وقت ملی جب کسان ٹریکٹر ریلی کا پولیس والوں سے تصادم ہوا جس میں ریلی کے شرکا ء میں سے ایک کی جان چلی گئی اور کئی پولیس والے زخمی ہوئے.
پاپ سٹار کے ان کے حق میں ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا.جہاں بہت سی اہم شخصیات نے کسانوں کی حمایت کا کہا وہاں یہ با ت بھارت سرکار کو بالکل پسند نہیں آئی انہوں نے غیر ملکی مشہور شخصیات پرسنسی خیزی پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔
⁣وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حامی بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے ٹویٹ کے حوالے سے ایک پیغام شائع کیا۔انہوں نے لکھا ،
“کوئی بھی اس کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہے کیونکہ وہ کسان نہیں ہیں ، وہ دہشت گرد ہیں جو ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
کسانوں کو دہشت گرد کہنے پر ایک ٹوئٹر صارف نے کہا”میم انڈیا کی 70فیصد آبادی کاشتکار ہے تو کیا اس کا مطلب ہے ملک کی 70فیصد آبادی دہشت گرد ہے؟”
اس کے علاوہ اداکارہ نے گلوکارہ کی اور اپنی کچھ تصاویر شئیر کر کے اسے گندہ کرنے کی کوشش بھی کر ڈالی اور اسے بے وقوف بھی کہ ڈالا جس پر پاپ گلوکارہ کے فالوورز نے کنگنا کو بھرپور جواب بھی دیا اور انہیں ریحانہ سے سیکھنےکا مشورہ بھی دے ڈالا .
Kangna Reply to Rihanna
یاد رہے کہ انڈیا نے فارم بل نومبر 2020 ء میں پاس کیا اور دسمبر سے کسان احتجاج کر رہے ہیں جو کہ اب بھی دہلی کے اردگرد خیمہ زن ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت انڈین سرکار نے بند کر رکھی ہے اور جواز یہ بیان کیا کہ دہشت گردی کے خطرہ کے پیش نظر یہ پابندی لگائی گئی ہے۔⁣

یہ بھی پڑھیں: -   چار دن بھی نہ دیکھے بہار کے، زندگی ترستی رہی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں