Dementia in life 240

بھولنے کی بیماری

ہمیں بھولنے کی بیماری ہے جسے Dementia ڈیمنشیا کہا جاتا ہے۔ یہ مرض ہماری یادداشت پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے ہم ’’بھولنے‘‘ لگتے ہیں کہ کوئی سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی ہوا تھا، جس میں قتل کیے جانے والوں کے وارثین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ہاں مگر یہ یاد رکھتے ہیں کہ ان کی لاشوں پر سیاست کیسے کرنی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کوئی سانحہ ساہیوال بھی ہوا تھا، جس میں معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا اور آج تک اس کا انصاف نہ ہوسکا۔ مگر یہ یاد رکھتے ہیں کہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک نانا کو اس کے معصوم نواسے کے سامنے گولی مار دی اور ہم چیخ چیخ کر دنیا کو بتاتے ہیں کہ دیکھو کتنا ظلم ہے۔

ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ غریبوں کی جھونپڑیوں کو اگر ناجائز تعمیرات کے نام سے مسمار کردیں گے تو غریب سڑکوں پر لاوارثوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ مگر اپنے گھر کو جائز کیسے کروانا ہے اسے ہم کبھی نہیں بھولتے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ غریبوں کے گھروں اور ان کی زمین پر قبضہ کرلیں گے تو ان کا روزگار کیسے چلے گا؟ وہ کہاں زندگی گزاریں گے؟ مگر بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے، یہ پورے زور و شور سے کہتے نہیں تھکتے۔ مگر یہ بھی صرف کہنے کی حد تک ہی یاد رہتا ہے، عملی اقدامات کرنا بھی بھول جاتے ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ ملک کے دارالخلافہ میں ایک اکیلے نوجوان کو بلاوجہ گولیاں مار دی جاتی ہیں اور پھر اسے مارنے کے جواز ڈھونڈے جاتے ہیں، تاکہ ہم اسے بھی جلدی بھول سکیں۔ مگر جو بھی ان تمام باتوں پر عوام کو یاد دہانی کرواتا ہے، اسے غائب کرنا نہیں بھولتے۔ ہم کبھی بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکنا چاہتے، البتہ دوسرے کو سر سے پاؤں تک کھنگال ڈالتے ہیں اور اس میں سے صرف برائیاں ہی ہمیں نظر آتی ہیں، اچھائیاں ہم بھول جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   بلیک اسٹارٹ

’’سانحہ مچھ‘‘ ہزارہ برادری پر ایک اور قیامت گزر گئی۔ ابھی پچھلے زخم بھرے نہیں تھے کہ ایک اور المناک واقعہ پیش آگیا اور کوئلے کی کان کے گیارہ مزدوروں کو ذبح کردیا گیا۔ ہم تو ان کے پچھلے زخم بھی مندمل نہ کرسکے کہ ایک اور خون آشام واقعہ پیش آگیا اور ان کے جذبات پر انہیں دلاسہ دینے کے بجائے، الٹا ان کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔ ملک کے وزیراعظم جن کے کندھوں پر ملک کے تمام باشندوں کی حفاظت، ان کے رہن سہن، ان کی ضروریات اور ان کے ہر جائز مطالبے کو پورا کرنے کی ذمے داری ہے، وہ بھی ان غمزدہ گھرانوں کو بلیک میلر کہتے رہے۔

جو ظلم چپ چاپ سہتا رہے وہ محب وطن، اور جو ظلم پر آواز اٹھائے اسے غدار وطن ٹھہرایا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی حکومت اور عوام میں ایک معاہدہ ہوتا ہے جس میں عوام ریاستی قوانین کے پابند ہوتے ہیں اور ریاست ان کی جان و مال کی حفاظت کرتی ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی کی بات تو بڑے زور و شور سے کرتے ہیں مگر ریاستی ذمے داری کا احساس کون کرے گا؟

ایک بچی کے ہاتھوں میں تھامے چارٹ کے الفاظ پڑھ کر میں دہل ہی تو گیا کہ کیا ہم اپنوں کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے؟ جیسے سانحہ ساہیوال کے معصوم بچوں کی تصویر دیکھ کر میں بکھر گیا تھا۔ جیسے موٹروے سانحے نے یہ باور کرا دیا تھا کہ ریاست نہیں عوام اپنی حفاظت کی ذمے دار خود ہیں۔

ہم انسانی ہمدردی کی بات کرتے تو ہیں، مذمت بھی کرتے ہیں، مگر ساتھ دینا بھول جاتے ہیں۔ ہم مذہبی ہم آہنگی کی باتیں تو کرتے ہیں مگر اپنے مسلکی اختلافات بھلا نہیں سکتے۔ ان تمام واقعات کو بھلا کر ہم بڑی پشیمانی سے کہتے ہیں کہ ہمیں بھولنے کی بیماری ہے۔ مگر افسوس ہم کبھی اپنا مفاد نہیں بھولتے، ہم کبھی اپنے اوپر ہونے والا ظلم نہیں بھولتے۔ مگر بھول جاتے ہیں اپنے بھائیوں پر ڈھایا جانے والا ظلم۔ مذمت نہیں، اب تمام واقعات کے بارے میں ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ یہ کیوں ہورہے ہیں؟ اور ریاست کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا چاہیے کیونکہ اگر عوام خوشحال اور محفوظ ہوں گے تو ہی اپنے ملک کی خوشحالی و ترقی ممکن ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: -   شاہد آفریدی اورجیمزونس کوئٹہ گلیڈی ایٹرزمیں شامل
نوٹ: یہ تحریر سب سے پہلے ایکسپریس بلاگ میں شائع ہوئی

اردو ہماری اپنی اور پیاری زبان ہے اس کی قدر کیجیے۔
سوچ کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر دوسروں تک پہنچانا ہی میرا مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں