Astronaut 148

چاند پر حکومت

بادشاہت و حاکمیت کا اصل مالک و سر چشمہ صرف اور صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے۔وہ جس کو چاہے حکومت دے اور جس کو چاہے محکوم کر دے۔ مگر  حضرت انسان نے جب سے اس بات کو پس پشت ڈال کر خود کو حاکم،مالک،خودمختار، اعلی و برتر ماننا شروع کیا تو اس نے اپنی اس برتری کو برقرار رکھنے کے لیے دوسروں کو محکوم ،ابتر،کمتر بنانا شروع کر دیا۔ حضرت انسان کی پیدائش ایک ہی نفس سے ہونے کے باوجود آج وہ کئی ذاتوں،قوموں،مذہبوں،فرقوں اور دنیاوی تقسیم میں بٹ کر رہ چکا ہے۔ اس لیے ہر ایک کی یہی کوشش ہے کہ وہ قابض ہو اور جتنی زیادہ تسخیر وہ کرے گا اتنا وہ بڑا ہوتا جائے گا۔خود کو عقل کل مان کر دوسروں کو محکوم بنانا ہر ذی نفس کی خواہش ہے اور جو کم عقل ہیں وہ اپنے لیے سہارا ڈھونڈنے کے چکر میں ان نام نہاد عقل کل لوگوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور غلامی کی زندگی گزارتے ہیں۔ان کی اس کم عقلی کا فائدہ یہ نام نہاد عقل کل والے اٹھاتے ہیں اور معاشرہ کا بیڑہ غرق کرتے ہیں اور یہ تقسیم بڑھتی جاتی ہے۔

ستاروں پہ کمندیں ڈالنے کی خواہش تو ہمیں بچپن سے ہے مگر ان تک رسائی ممکن نہیں مگر زمین کے قریب جو چاند ہے اس پر کمند ڈال چکے ہیں اور اب اس پر قبضہ کرنا ہے۔خلا پر تو پہلے ہی ہم حکمرانی کر چکے ہیں اس وقت کئی ممالک کے کے مصنوعی سیارے خلا میں گردش کر رہے ہیں امریکہ نے یو ایس سپیس فورس بھی بنا لی تاکہ دنیا کے ساتھ خلا پر بھی حکمرانی قائم رہے۔ اب یوایس سپیس فوس اور امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے “ناسا” میں معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد امریکہ دنیا کی پہلی خلائی فوج کے بعد اب چاند پر بھی فوجی اڈہ بنائے گا تاکہ کوئی اور چاند پر جانے کا سوچنے سے پہلے ہی اس پر ہم اپنا دفاع مضبوط کر سکیں۔چاند پر حکومت کی یہ خواہش اربوں ڈالر سے ممکن ہو سکے گی مگر حکمرانی بھی تو ہے نا دنیا میں انسان بھوک ،افلاس سے مرتے ہیں تو مرتے رہیں ویسے بھی یہ دنیا اب انسان کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیں: -   ریا چکرورتی کو بگ باس کیلئے ہفتہ وار کتنے معاوضے کی پیشکش ہوئی؟

“گزشتہ دنوں امریکی فضائیہ کی ’’انگیج اسپیس کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے یو ایس اسپیس کمانڈ کے سربراہ، جان شا نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ امریکا ’’مستقبل میں کسی موقع پر‘‘ اپنے فوجیوں کو خلا میں اور چاند پر تعینات کرے گا۔ البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ چاند پر فوجی اڈوں کی منزل ابھی بہت دور ہے۔تکنیکی طور پر چاند انسانی رہائش کےلیے بالکل بھی موزوں نہیں، لہذا پہلے مرحلے میں وہاں خودکار یا نیم خودکار روبوٹس بھیجے جائیں گے جو وہاں امریکی فوجیوں کےلیے محفوظ رہائش گاہیں اور فوجی اڈّے تعمیر کریں گے۔ اس کے بعد ہی کہیں جا کر امریکی فوجیوں کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔”(بحوالہ جیو نیوز)

امریکہ دنیا پر حکمرانی کے مزے لے چکا اب دنیا میں اس کا مدمقابل چین سر اٹھانے لگا ہے اور دونوں کے درمیان سرد جنگ جاری ہے اس لیے اب خلا ء اور چاند پر حکمرانی کی دوڑ شروع ہو چکی ہے اور چین بھی اس سے دور نہیں ۔ چین بھی خلا ء کے بعد چاند پر اپنے سپیس شپ بھیج رہا ہے تاکہ وہاں رہنے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔اس طرح کی خبروں سے سپیس ٹیکنالوجی میں ایک طوفان برپا ہو گا اور آئی ۔ٹی کی دنیا مزید ترقی کرے گی اور ترقی پذیر ممالک حسرت و یاس کی تصویر بنے مزید غلامی کے شکنجےمیں کسے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں