ajnabi afkar 168

اجنبی افکار

سیاست کی بات ہو تو ہم بڑی آسانی سے کہ دیتے ہیں کہ سیاست تو نام ہی دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے کا  ہےمگر یہ کون ہے جو کہتا ہے کہ سیاست عبادت ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہو سیاست اور عبادت بھی ہو، بڑی عجیب بات کرتے ہو ، پاگل ہو تم تو، بھئی سیاست اور چیز ہے اور عبادت اور چیز، نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، زکوٰۃ دو یہ ہے عبادت۔ ایکدوسرے کے کام آؤ، صدقہ کرو ، قرآن پڑھو یہ ہے عبادت اور تم سیاست کو عبادت کہتے ہو ، توبہ توبہ کیا بات کرتے ہو۔

معیشت کی بات ہو اور کہو کہ بھائی سود کا نظام تباہی ہے تو مثالیں دینے لگ جاتے ہیں کہ ان ترقی یافتہ ممالک کو دیکھو وہاں بھی تو یہی نظام ہے وہ کیوں ترقی کر گئے۔ او بھائی کیا بات کرتے ہو سود وود کچھ نہیں ہوتا بس ہم میں بے ایمانی نہ ہو پوری دنیا کی معیشت سود پر ہے، اور تم اسے ختم کرنے کی بات کرتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سود ی کاروبار اللہ تبارک و تعالی اور اسکے رسول کے ساتھ جنگ ہے مگر ہماری معیشت ہی بینکوں پہ منحصر ہے جو سود پہ چلتی ہیں اور مغرب کی پیداوار ہیں۔

سماجی بات ہو تو  عورت کو یورپ جیسی آزادی چاہیے کہ وہاں تو عورتوں کے حقوق ہیں ہر عورت اپنی مرضی کر سکتی ہے یہاں بھی وہی حقوق عورتوں کو دینے چاہییں۔مرد مرد  سےیا عورت عورت سے اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتےہیں تو کریں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔والدین بوڑھے ہو گئے ہیں تو ان کے اولڈ ہاؤس بنا دیں اور بچے بن باپ کے ہوں تو ان کی دیکھ بھال حکومت کرے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ویوین رچرڈز نے بابر اعظم کو کرکٹ کا محمد علی قرار دے دیا

ہمارے ذہن میں اسلا م  کا تصور مذہب کا ہے دین کا ہے ہی نہیں۔ ہم یہی سمجھتے ہیں  کہ ہمارے عقا ئد ٹھیک ہوں، نماز،روزہ،حج، زکوٰۃ، شادی ہو تو ایجاب و قبول کرائیں، مردے کو کفنائیں، دفنائیں، بس یہی تو اسلام ہے، یہ ہمارا مذہب  ہے، دین نہیں ہے۔ ہم اتنے خوگر ہو گئے محکومیت کے  کہ دین کی اقامت کا تصور، دین کے غالب کرنے کا تصور ہمارے ذہن میں ہے ہی نہیں، علماءکو بھی اجنبی سی لگتی ہے یہ بات کہ یہ  تو کوئی اجنبی افکار ہیں ۔ہم محکومیت سے نکل ہی نہیں پائے، انگریز نے ہمیں مذہب کی آزادی تو دے دی مگر دین سے بے گانہ کر گیا۔

انگریزوں کے دور میں علما ء نے اتنی  محنت ضرور کی کہ غلامی میں بھی  انہوں نے مسجدوں کو آباد رکھا اور قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے رہے مگر اسلام مسجدوں تک محدود ہو کر رہ گیا اور سیاست ، معیشت  اور سماج سے بیگانہ ہو گیا۔ انگریزوں کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہوں نے اسلام کو حکومت سے الگ کر دیا تاکہ اسلامی قوانین نافذ نہ ہو سکیں اور امن قائم نہ ہو سکے۔اسی لیے جب بھی کوئی امریکی صدر کہتا ہے کہ ہمیں اسلام سے کوئی دشمنی نہیں تو وہ ٹھیک کہتا ہے کیونکہ انہیں اس مذہب سے کوئی خطرہ نہیں جو ہم نے اپنایا ہوا ہے۔اسی لیے وہ کہتےہیں کہ تم نے چرچ خرید کر مسجدیں بنا لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، تم نمازیں پڑھتے ہو ہمیں کوئی گلہ نہیں تم روزہ رکھو ہم احترام کریں گے  بلکہ ہم تو افطاری بھی وائٹ ہاؤس میں کراتے ہیں، عید پر ڈاک کی مہر بھی جاری کر دیتے ہیں اور اب تو گوگل بھی ڈوڈل بناتا ہے ہر اسلامی تہوار پر۔ لیکن اسلام کا سیاسی،معاشی اور سماجی نظام ہمیں قبول نہیں، نظام ہمارا ہوگا۔ ہم اب بھی اسی غلامی میں ہیں۔ بقول حالی۔

یہ بھی پڑھیں: -   ورلڈ کپ اسکواڈ؛ اظہر محمود کو تجربے کی کمی کھٹکنے لگی

ائے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے

امت پہ تیری آ کہ بڑا عجب وقت پڑا ہے

وہ دین جو بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے

دین اسلام تو یہ  تھا  کہ ایمان لے آؤ ہمارے برابر کے بھائی ہو جاؤ گے نہیں تو اسلام کی بالا دستی قبول کرو چھوٹے ہو کر رہو اور جزیہ دو مگر نظام  اسلام کا ہوگا۔پھر تم جو ہو وہ رہو تمہاری جان و مال کی حفاظت کی جائے گی تمہیں مذہبی آزادی حاصل ہو گی مگر نظام اسلام کا ہی ہوگااور اگر یہ بھی منظور نہیں تو آؤ تلوار ہمارا فیصلہ کرے گی۔ یہ تھا ہمارا دین جو غالب ہونےکے لیے آیا تھا۔مگر آج یہ اجنبی افکار لے کر کوئی دیوانہ اس قوم میں چلا چلا کر مر جائے مگر کوئی اس کی بات پر دھیان دینے کو تیار نہیں ہوگا۔

اسلام تو آیا اسی لیے تھا کہ اسے پوری دنیا میں رائج کیا جائے تاکہ امن ہو سکے مگر ہم نے اسلامی نظام کو ہی پس پشت ڈال دیا اور مغربی طور اطوار اپنا لیے مگر کہنےکو ہم مسلمان ہیں۔ یہی وجہ ہے آج معاشرہ میں جرائم اپنے عروج پر ہیں ہم اتنے پڑھ لکھ کر بھی جاہلوں جیسے کام کرتے ہیں ، فحاشی ،زنا،قتل ہمارے معاشرے میں بے قابو ہیں  اور جب بھی کوئی اس طرح کا واقعہ ہو تو مثالیں دی جاتیں ہیں مغربی ممالک کی یہی وجہ ہے کہ  کوئی ایک ایسا ملک روئے زمین پر نہیں جس میں اسلامی نظام کا نفاذ ہو جو کہ ہمارے ذمہ داری تھی کہ اگر کمزور ہو تواسلامی نظام لانے کے لیے قوت اکٹھی کر و اور اگر طاقت رکھتے ہو تو پھر اسلامی نظام نافذ کرو اگر نہیں کرتے تو غداری کرتے ہو اسلام سے اور اپنے خدا سے۔

یہ بھی پڑھیں: -   عورت کے حقوق

اردو ہماری اپنی اور پیاری زبان ہے اس کی قدر کیجیے۔
سوچ کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر دوسروں تک پہنچانا ہی میرا مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں