mazhabcard 75

مذہب اور حب الوطنی کارڈ کا غلط استعمال

سابقہ وزیراعظم عمران خان، جنہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور عوام کے چنیدہ دو تہائی سے بھی زیادہ رہنما ان کے خلاف ووٹ دینے پر آمادہ ہوئے۔ مگر عمران خان نے اس سے بچنے کےلیے خلافِ آئین کام بھی کیے اور ملک میں فسادات کو ہوا دینے کی بھی پوری کوشش کی۔ جس کا ہم یہاں مکمل جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے کیا کیا اور حکومت جاتے دیکھ کر کیسے عوام کی ایک کثیر تعداد کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جو ابھی بھی جاری ہے۔

پونے چار سالہ اقتدار میں پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں کئی بڑے بڑے میگا پروجیکٹ شروع کیے، کئی ڈیم ملکی تاریخ میں پہلے دفعہ بننے لگے، ملک کے عوام خوشحال ہوئے، تمام ادارے مضبوط ہوئے، ملک میں کرپشن تو ان کے آتے ہیں ختم ہوگئی تھی، ملک کی ساری دنیا میں عزت ہوئی، تمام عالم اسلام عمران خان کو اپنا واحد لیڈر ماننے لگا، پاکستان کو واحد لیڈر ملا جو شلوار قمیص پہن کر کافروں کو ڈٹ کر جواب بھی دیتا رہا۔ مگرافسوس یہ سب سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر ہی نظر آتا رہا جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں مہنگائی کو دوام بخشا، قرضے ثواب سمجھ کر لیے، کوئی ترقیاتی کام ملک میں نہیں کیا، ملک کے تقریباً ہر ادارے کی ساکھ اور توقیر کو سر بازار نیلام کیا، کرپشن میں بھرپور اضافہ ہوا، سفارتی سطح پر ملک اتنا اکیلا ہوا کہ قریبی دوست بھی جان چھڑانے لگے، معاشی حالت تو سب کے سامنے ہے، معاشرتی سطح پر بھی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا اور انصاف ملک میں ناپید ہوتا گیا۔

مگر جب کپتان نے دیکھا کہ ان کا جہاز اب ڈوبنے کے قریب ہے اور اسے کوئی بھی سہارا نہیں دے رہا تو انہوں نے سب سے پہلے مذہب کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کی۔ کیونکہ کارکردگی تو تھی نہیں کہ جس کا سہارا لیتا۔ پوری دنیا میں عوام کو اپنے حق میں کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان کی اجتماعی کمزوری سے فائدہ اٹھانا، یعنی ایک وہ چیز جس سے وہ محبت کرتے ہوں جیسے کہ مذہب اور ایک وہ چیز جس سے وہ نفرت کرتے ہوں جیسے مخالفین مذہب وغیرہ۔ اور اسی چیز پر ایک پروپیگنڈہ تیار کیا گیا اور خود کو ایک جہادی کے روپ میں پیش کیا گیا۔ ایک مسیحا کے روپ میں باور کرایا گیا۔ اسلامی اقدار کا غلط استعمال کیا گیا اور مذہب سے دوری اور ناآشنائی کی وجہ سے پاکستان کے کافی عوام ان کے پروپیگنڈے کا شکار ہوچکے، خصوصاً نوجوان نسل۔ اور انہوں نے اس جذباتی عوام کو اس حد تک قائل کیا کہ وہ اب کوئی دلیل مخالف یا حقائق سننے کو تیار نہیں، کجا کہ وہ اس کو مانیں اور غلط ہونے کے باوجود خود کو صحیح اور مخالف کو غلط سمجھتے ہیں۔ خود کو پاکستانی کہتے ہیں اور اسی کا پاسپورٹ جلاتے ہیں۔ پرچم نذر آتش کرتے ہیں مگر محب وطن کا لیبل بھی خود پر چسپاں کرتے ہیں اور گالم گلوچ تو معمولی بات ہوگئی ہے، اب یہ تو مرنے مارنے پر اتر آنے والی قوم بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   2021ء میں پاکستان میں کاروبار کے طریقے" آخری حصہ "

کپتان نے سب سے پہلے تو عوام کو اس بات کی امید دلائی کہ میں نے دنیا میں ڈٹ کر سب سے بات کی اور پوری دنیا میں اسلام کو پھیلا دیا اور اب یہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے ہیں جو کہ سارے کے سارے چور ڈاکو ہیں اور میں تو یہ دعا کرتا تھا کہ یہ عدم اعتماد لائیں اور میں انہیں شکست دوں۔ پھر اپنی ہار نظر آئی تو جلسے کرکے عوام کو گمراہ کرنا اور پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا۔ امربالمعروف کا نعرہ لگایا اور کہا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ مطلب 2018 میں اپوزیشن نے اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی کا الزام لگایا تو وہ درست تھا اوراب جب وہ نیوٹرل ہوئے تو اب تحریک انصاف چاہتی ہے کہ نہیں نیوٹرل نہیں، ہمارے ساتھ ملو۔ مطلب سیاست میں دخل دو اور ہمیں اقتدار میں ہی رکھو۔

پھر اسی مذہب کارڈ کو اس دشمن کے ساتھ جوڑ دیا جس کےلیے ہر پاکستانی اپنے دل میں نفرت رکھتا ہے یعنی امریکا۔ اور ایک کاغذ لہرا کر عوام سے کہا کہ امریکا مجھے کرسی سے ہٹانے کےلیے سازش کر رہا ہے، کیونکہ میں نے اسے اڈے نہیں دیے اور کیونکہ میری بیرون ملک جائیداد نہیں اس لیے، جبکہ باقی سارے تو غلام ہیں۔

پونے چار سالہ اقتدار میں امریکا و یورپ کے کہنے پر آسیہ کو بحفاظت بیرون ملک بھجوایا اور اس کا خود اپنی زبان سے کریڈٹ بھی لیا، مگر خان نے غلامی نہیں کی اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔ ملائیشیا میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کی کہ اس میں مسلم ممالک کا ایک بلاک بنانے لگے تھے اور امریکا بہادر یہ نہیں چاہتا تھا، مگر خان نے غلامی نہیں کی اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔ سرگودھا شہر میں شکور نامی گستاخ نے ہمارے پاک پیغمبر صلی اللہ و علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ مواد جاری کیا مگر امریکا کے دباؤ میں آکر کپتان نے اسے بحفاظت امریکا بدر کردیا، مگر پھر بھی خان نے غلامی نہیں کی اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔ فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخانہ مواد جاری کیا اور سرکاری عمارتوں پر گستاخانہ خاکے چلائے، جس پر پوری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاج کیا اور پاکستان کے پورے عوام چاہے ان کے آپس میں اختلافات سہی مگر اس معاملے پر سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں اور ملک میں احتجاج کی ایک لہر اٹھی۔ مگر جواب میں ان عاشقان رسول پر گولی برسادی مگر یورپ کو ناراض کرنا گوارا نہیں کیا۔ 90 سالہ شیخ الحدیث یوسف سلطانی کی حافظ آباد جیل میں کمبل نہ ملنے سے سردی سے موت واقع ہوگئی مگر یورپ سے تجارت تو جاری رہی ناں۔ گرفتار کرتے وقت مولانا منیر احمد نورانی کا پاؤں جل گیا اور بعد میں پوری ٹانگ کاٹنی پڑی مگر ٹیکسٹائل سیکٹر کی یورپ ایکسپورٹ سے پیسہ تو ملتا رہا ناں۔ اگر یہ نہ کرتا تو پورا یورپ دشمن بن جاتا مگر پھر بھی خان نے غلامی نہیں کی اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: -   انسان آج سے سوا لاکھ سال پہلے بھی لباس بنانا جانتا تھا، تحقیق

کپتان نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بزدل اور ڈرپوک کہا اور مال غنیمت کو لوٹ مار قرار دیا مگر معافی مانگنا گوارا نہیں کیا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو تاریخ سے ہی نکال دیا مگر معافی نہیں مانگی، کیونکہ خان نے غلامی نہیں کی اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔

ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن پر کام نہیں کیا کیونکہ امریکا کی ناراضگی کا ڈر تھا۔ ایران سے آئل نہیں خریدا کہ کہیں امریکا بہادر غصہ نہ کر جائے۔ سی پیک بند کردیا کیونکہ امریکا مخالف تھا، مگر خان نے غلامی نہیں کی اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔

عوام کو خودداری کا سبق پڑھایا کہ جو قومیں قرض لیتی ہیں وہ کبھی سر نہیں اٹھا سکتیں اور قرض لینے سے پہلے مر جانے کو ترجیح دی۔ مگر پھر 74 سال میں لیے گئے قرض کو تین سال میں دگنا کردیا۔ روپے کو تنزلی کی نئی معراج پر لے گیا۔ باقاعدہ قانون سازی کرکے پاکستان اسٹیٹ بینک کو عالمی مالیاتی ادارے کو سونپ دیا۔ امریکا کے کہنے پر وہیں سے منگوا کر اسٹیٹ بینک کا چیئرمین لگا دیا۔ اپنی پوری مشیروں کی فوج امریکا سے امپورٹ کی، جن کی بقا کا تمام تر انحصار امریکا پر ہے (اور اب نعرہ ہے کہ ’’امپورٹیڈ حکومت نامنظور)۔ اپنے خود کے بچے اور اپنی ہی بہنوں کی جائیدادیں بھی امریکا و یورپ میں ہیں۔ افغانستان سے نکلتے وقت امریکا کے فوجیوں کےلیے اسلام آباد کے تمام ہوٹل خالی کروانے والا کہتا ہے کہ امریکا کو اڈے دینے سے انکار کردیا۔

امریکا کے کہنے پر کشمیر بھارت کو سونپ دیا اور اس کی متنارع حیثیت ختم کراکے بھارت میں ضم کرا دیا پھر بھی کشمیر سمیت تمام دنیا میں غلام ملکوں کی آزادی کا کیس لڑنے والا حکومت جاتے ہی پاکستان کو آزاد کرانے نکل کھڑا ہوا اور کہتا ہے مجھے نکالنے میں امریکی سازش ہے اور اس کے ماننے والوں کو بھی فرشی سلام کرنے کو دل کرتا ہے، جو دوسروں کو کہتے نظر آتے ہیں کہ دیکھیں آپ تو پڑھے لکھے ہیں، آپ کو تو سمجھنا چاہیے کہ خان ہمارے لیے لڑ رہا ہے۔ نہیں بلکہ بالکل بھی نہیں۔ وہ صرف اپنے اقتدار کے نشے کےلیے لڑ رہا ہے اور ہمیں بیساکھیوں کی طرح استعمال کررہا ہے۔ وہ اسلام اور پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کےلیے لڑ رہا ہے اور اسے ہی جہاد کا نام دے کر ہماری جذباتیت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

آج مجھے ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم محمد سعید کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں کہ یہودی جو خود کو پیور بلڈ کہتے ہیں، وہ کیسے اپنی بیٹی کو مسلمان ہونے دے گا؟ کیسے ایک مسلمان سے اپنی بیٹی کی شادی کردے گا اور اس پر خوشیاں منائے گا؟ اگر یہودیوں کی تاریخ پڑھی جائے تو سب پانی کی طرح شفاف ہوجاتا ہے کہ ایک ایسا کروڑ پتی یہودی جو مسلمان مخالف تنظیموں کا سب سے بڑا فنڈ دینے والا ہو، وہ ایک مسلمان سے ہی اپنی بیٹی کو بیاہ دے، یہ بات یہودی جبلت کے خلاف ہے، چاہے وہ جتنا مرضی لبرل بننے کی کوشش کرے بلکہ اس کے پیچھے مقصد پنہاں ہوتا ہے اور تاریخ میں یہی یہودیوں کا وتیرہ رہا ہے۔ اسی لیے مغربی میڈیا کو ٹارگٹ دیا گیا کہ عمران خان کو خاص آدمی بنایا جائے۔ جس سے پوری دنیا میں اس کی شہرت کی گئی، کچھ کرکٹ کی وجہ سے پہلے سے ہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کے ان ملکوں کے عوام بھی عمران خان کو جانتے ہیں جنہیں پاکستان کا پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ دنیا کے نقشے پر کہاں واقع ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ غیر ملک میں موجود پاکستانی کپتان کے پیچھے لگے ہیں، کیونکہ انہیں وہاں عمران خان کی وجہ سے ایک پہچان ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   موبائل بیچنے سے وکٹیں اڑانے کا سفر

مگر مجھے پاکستانیوں کی سمجھ میں نہیں آرہی کہ وہ کپتان کی اس بات کو آخر کس وجہ سے سچ مان رہے ہیں کہ انہیں روسی دورے اور چین کے ساتھ دوستی کی وجہ سے امریکا سازش کرکے اقتدار سے ہٹا رہا ہے اور پاکستان کے میر جعفر و میرصادق اس کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ کیا صرف اس کے الفاظ کے طلسم سے پاکستانی عقل و خرد سے بیگانہ ہوجاتے ہیں کہ انہیں نظر نہیں آتا کہ کپتان کی حکومت جانے سے چین خوشیاں منا رہا ہے، روس مبارک باد دے رہا ہے۔ جس مودی کی کپتان نے پاکستان کا وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی کیمپین کی، مگر وہ پھر بھی فون نہیں اٹھاتا تھا وہ بھی آج مبارکباد دے رہا ہے۔ جبکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور عوام کی خودداری کے گن کپتان گاتا رہا مگر مودی کا یار غدار کا نعرہ نہیں سنا میں نے، بلکہ کشمیریوں پر ظلم کرنے کے باوجود ہندوستان کی تعریف کرنے والے کپتان اپنے لیے نہیں مسلم امہ کےلیے لڑ رہے ہیں، والی سوچ کہاں سے لاتے ہیں یہ لوگ؟

ایک بات جو رضوان رضی نے کہی کہ ’’لمحہ موجود میں جو جرم یہ کر رہے ہوتے ہیں، ٹھیک اسی وقت اس کا الزام دوسروں پر لگا رہے ہوتے ہیں‘‘۔ اس لیے میری پاکستان کے عوام سے ایک ہی اپیل ہے کہ تھوڑا نہیں، پورا سوچیے اور حق کا ساتھ دیجئے۔ پاکستان کا ساتھ دیجئے، دھوکا و فریب کھا کر اپنی دنیا و آخرت برباد مت کیجئے۔

اردو ہماری اپنی اور پیاری زبان ہے اس کی قدر کیجیے۔
سوچ کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر دوسروں تک پہنچانا ہی میرا مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں