Women in Pakistan 187

حوا کی بیٹی کاپاکستان

گزشتہ دنوں پاکستان کی یوم آزادی کے دن یعنی 14 اگست کو پاکستان کی ایک مشہور یادگار مینارپاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس کو پوری دنیا میں یوں اچھالاگیا کہ پنجاب کے وزیر اعلی سمیت وزیر اعظم صاحب کو بھی نوٹس لینا پڑا۔ حقائق کی جانچ پرکھ تو قانونی ادارے کر رہے ہیں اسی ضمن میں کچھ لوگوں کی گرفتاری کا بھی سنا گیا ہے مگر کیا ہم بطور ایک اسلامی معاشرہ اس قسم کے واقعات کے رودار ہیں؟ تو کیا پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ ہے تو آئیے چند ایک مثالیں دیکھ لیں کہ میرے ملک میں عورت کو کس نظر سے دیکھا جاتاہے اور اسکا کیا مقام ہے۔
کینیڈا کی ایک لڑکی” روزی گیبریل” جس نے لاہور سے گوادر تک اکیلے ،بغیر کسی سکیورٹی کے ،موٹر سائیکل پر سفر کیا ،اسے بھی پاکستان آنے سے پہلے پوری دنیا کے لوگوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان تو ایک غیر محفوظ ملک ہے آپ کا وہاں جانا ٹھیک نہیں۔ مگر وہ لڑکی میڈیا کے پروپیگنڈہ کو ایک طرف رکھ کر پاکستان آئی ، اکیلی پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھومتی رہی اور پاکستان کے متعلق ایک ایسی سوچ لے کر واپس گئی کہ جس کا اظہار کم ازکم پاکستانی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہونا چاہیے تھا مگر میڈیا تو منفی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے اب وہ چاہے الیکڑانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا کیونکہ اس سے ان کی ریٹنگ بڑھتی ہے، خیر تو روزی گیبریل کا کہنا تھا کہ “پاکستان میں گھومتے ہوئے میرے ارد گرد زیادہ تر مرد ہوتے تھے مگر میں نےکبھی خود کو غیر محفوظ تصور نہیں کیا اور نہ کبھی مجھے کسی پاکستانی نے ہراساں کرنے کی کوشش کی” یہ الفاظ غور طلب ہیں مزید یہ کہ “میں نے راستے میں جہاں سے بھی کھانا کھایا وہاں پر مجھ سے پیسے نہیں لیے گئے،پاکستانی کھانے بہت اچھے ہیں اور پاکستانی کھلاتے بھی بہت ہیں۔ مجھے پاکستان میں ہر جگہ پیار اور محبت بھری نگاہ سے دیکھا گیا ” یہ اظہار خیال تھا ایک انگریز عورت تھا جن انگریزوں سے نفرت ہمارے خون میں ہے تو کیا وجہ ہے کہ خود ہماری اپنی بہن بیٹیاں یہاں محفوظ نہیں؟
rosie gabrielle-1rosie gabrielle
اب آتے ہیں پاکستان میں عورتوں کے مقام اور احترام کی طرف تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عورت ملک کی وزیر اعظم رہی، ملک میں کچھ سیاسی پارٹیوں کی قیادت اب بھی عورتوں کے پاس ہے، فوج میں اب وہ چاہے بری ہو،بحری ہو یا پھر ہوائی ہرجگہ عورتوں کی موجودگی ہے، دنیا میں واحد ملک پاکستان ہے جہاں پر عورتوں کی مخصوص نشستیں ہیں پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لیے۔ یہاں ہسپتال ہوں تو عورتوں کی تعداد زیادہ نظر آئیگی جو روزگار کے لیے جدوجہد کر رہیں ہیں اور خدمت خلق میں بھی اپنا کردار نبھا رہی ہیں۔Pak Women Empowerment

یہ بھی پڑھیں: -   جان ابراہم کی فلم کا گانا نورا فتیحی کے لیے جان لیوا بنتے بنتے رہ گیا

ریسٹورنٹ، میڈیا،ٹرانسپورٹ، ائیر لائن،بینکنک،شاپنگ مال سے لے کر آپ جس مرضی ادارے میں جائیں آپ کو عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ملے گی حتی کہ گلی محلوں میں کھلے پی۔سی۔اوز پر بھی عورتوں کو کام کرتے دیکھا گیا۔ سڑکوں پر چالان کاٹنے والوں میں بھی عورتیں ہیں،کتنی ہی عورتیں موٹر سائیکل اور گاڑیاں ڈرائیو کرتی آپ کو سڑکوں پر نظر آتی ہیں اسی طرح دیہاتوں میں عورتیں آپ کو کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی نظر آئیں گیں اور اب تو تعلیمی میدان میں بھی لڑکیاں لڑکوں سے آگے ہیں ، پڑھنے میں بھی اور پڑھانے میں بھی، تو کیا یہ سب ایک غیر محفوظ ملک میں ممکن ہے؟ تو کیا اس ملک میں عورتیں غیر محفوظ ہیں؟ یہاں تک کہ اس ملک میں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لے کر خواتیں سڑکوں پہ ہوتی ہیں تو بھی ان کی حفاظت کرنے والے اسی ملک کے مرد ہوتے ہیں اور آج تک انہیں کسی ایک نے بھی ہراساں کرنے کی کوشش کی؟
اب آتے ہیں سانحہ مینار پاکستان کی طرف جہاں پر ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ایک اتنہائی قابل مذمت واقعہ پیش آیا مگر کیا اس کو بنیاد بنا کر پورے ملک کو بدنام کرنا کہ پاکستان عورتوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ، ٹھیک ہوگا؟ سوشل میڈیا پر اس واقعہ سے متعلق دو مختلف آراء دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں پر کچھ لوگوں کی پوری ہمدردی اس لڑکی کے ساتھ ہے تو وہاں پر کچھ لوگ اس لڑکی کو بھی قصور وار سمجھتے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق تو دونوں باتوں میں اگر مطابقت پیدا کر لی جائے تو یہی اسکا بہترین حل بھی ہے کہ جہاں پر کچھ اوباش قسم کے لوگوں نے ایسی اوچھی حرکت کی تو انہیں عورت کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے تھا بھلے اسے خود اپنے تقدس کا خیال نہ بھی ہو اور یہی تو ایک اچھے معاشرے کی عکاسی ہوتی ہے ، وہیں پر اس لڑکی پر بھی معاشرے میں رہن سہن کے قانون لاگو ہوتے ہیں اسے بھی اپنی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے اور بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے خود کو اتنے ہجوم میں مدغم کرنا وہ بھی صرف ویڈیو بنانے کے لیے کہاں کی عقلمندی ہے۔Ayesha Akram Incident

یہ بھی پڑھیں: -   صحت مند رہنے کے رہنما اصول

اقبال پارک ،لاہور کا ایک مشہور تاریخی اور تفریحی مقام ہے جہاں پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں مرد ، عورتیں ،بچے سیر کرنے آتے ہیں مگر ایسی حرکت دیکھنے کو نہیں ملی کیوں کہ وہ خود کو روشن خیال ثابت کرنے نہیں آتے بلکہ تفریحی مقصد سے آتے ہیں ۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں غلطی سے ٹکر لگ جانے پر بھی لڑکی اگر آپ کو گالی نکال دے تو آس پاس کے تمام مرد حضرات آپ کی درگت بنانے میں لگ جاتے ہیں وجہ جانے بغیر کہ قصور وار کون ہے، تو یہ بات حیران کن ہے کہ چارسو آدمی ایک لڑکی پر حملہ کردیں بلکہ ان میں سے ضرور ایسے بھی ہونگے جو اسے بچانے کے لیے کوشش کر رہے ہو ںمگر اتنے مجمع میں یہ بہت مشکل کام ہو جاتاہے۔ میرے ملک کی بیٹیوں کو بھی اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ خدارا اتنا بھی غیر محتاط نہ ہوجائیں کہ خود کو بھیڑیوں کے سپرد کر کے بھی یہ خیال کریں کہ ہم محفوظ ہیں بلکہ ان بھیڑ نما بھیڑیوں سے بھی خود کو محفوظ رکھیں جو شرافت کا لبادہ اوڑھے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی حیوان بن جاتے ہیں تو انہیں ایسا موقع ہی نہ دیں اور ملک دشمن عناصر کو ایسا موقع نہ دیں کہ وہ ہمارے پیارے ملک کو بدنام کرنے کی سازش کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں