eid-al-adha and Pakistan 187

عید اور قربانی

جب انسان اپنے ہی حق کے لیے بھی آواز اٹھانا چھوڑ دے تو وہ انسان کے مرتبے سے گر جاتا ہے وہ انسانوں کا اجتماع نہیں بلکہ شطرنج کےان مہروں جیسا ہو جاتا ہے جس کو کوئی بھی طاقتور جہاں چاہے اٹھا کر رکھ دے،پاکستان جو کہ ایک زندہ دل قوم نے بسایا تھا آج یہاں پیٹ کے پجاریوں کا ڈیرہ ہے او ر ناانصافی و ظلم کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں کہ موت کا خوف ہے۔ جمہوریت کا راگ الاپتی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفاد کے لیے عوام کو استعمال کرتے ہیں مطلب نکلتے ہی کیچڑ سمجھ کر اپنے پاونچے اونچے کر لیتے ہیں اور عوام کو ان کے مخالف استعمال کر نا شروع کر دیتے ہیں اتنے بے حس عوام کہ ہر ظلم کو ایک خبر سے زیادہ کی اہمیت ہی نہیں دیتے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں بلکہ انہیں اسی کی امید تھی جو کہ بر آئی۔
بجٹ میں دی گئی عوامی خوشخبریاں میں پہلے ہی آپ کے گوش گزار کر چکا ہوں او ر ابھی سے ہی اس کے آفٹر شاکس آنا شروع ہو گئے کہ آٹا ، چینی،آئل او ر بجلی مہنگی ہونے کےبعد جیسا کہ عید قربان نزدیک ہے تو حکومت نے عوامی قربانی کے ساتھ ساتھ ایک ماہ کے دوران تقریبا دس روپے فی لیٹر پیٹرول میں اضافہ کر دیااور پھر بھی حکومت کا احسان ہے کہ عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر دفعہ پیش کی گئی سمری سے آدھی قیمت ہی بڑھائی۔ ویسے بھی پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے وزیر اعظم کو فرق نہیں پڑتا کیوں کہ حسب وعدہ وہ تو سائیکل پر سوار ہو کر دفتر جاتے ہیں پر مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد عوام ضرور سائیکل پر آجائے گی۔یہ تو ہم جیسے کچھ قدامت پسند لوگ ہیں جو کہ بول پڑتے ہیں ورنہ اکثر لوگوں کا پیٹ تو وزیر اعظم صاحب کے جلووں کے ساتھ ان کی تقریر کے الفاظوں سے ہی بھر جاتا ہے اور انہیں ہوتی ہوئی مہنگائی سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔جب کوئی فریاد ہی نہیں کرتا تو پھر حکمران یہی کہتے ہوئے ہی نظر آئیں گے نا کہ ہمارے ملک میں کوئی غریب ہے ہی نہیں اگر ہے تو دکھائیں ، کوئی کچا گھر ہے ہی نہیں ، عوام کے پاس پیسہ ہی بہت ہے اسی لیے تو گاڑیاں خرید رہے ہیں باقی مہنگائی تو اپوزیشن کا بنایا ہوا ڈرامہ ہے ورنہ ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہے ۔ یہ تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو اپنے ہی وزیروں مشیروں کی کرپشن پکڑ تی ہے پھر انہیں بڑے ہی عزت دار طریقے سے پاک صاف کرتی ہے اور کریڈٹ بھی لیتی ہے کہ دیکھو ہم تو اپنے وزیروں اور مشیروں کو بھی نہیں چھوڑتے مگر جو کرپشن ہوئی وہ کس نے کی کچھ بھی سمجھ نہیں آتا ویسے بھی ہمیں کیا لینا دینا کہ ہم تو پچھلے کئی سالوں سے اسی طرح لٹنے کے عادی ہو چکے اس لیے ملک کے خون کو جونک کی طرح کوئی بھی چوسے ہمیں فرق نہیں پڑتا مگر مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ عنقریب ملک کو بیرونی خون کی ضرورت پڑنے والی ہے کہ حکومت اداروں کو تباہ حال کر کے گروی رکھتی جا رہی ہے اور ملک اندر سے کھوکھلا ہواجارہا ہے اور اپوزیشن مظلوم بیوہ کی طرح اپنی دہایاں دینے پہ لگی ہے کہ ہائے ہم مر گئے، عوام نشے کی سی حالت میں ہے جنہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی کہ اپنا اور اپنے بچوں کی روزی روٹی کہاں سے کمائیں ۔ بھوک ایک ایسی بیماری ہے جو کسی معاشرے میں پیدا ہو جائے تو وہ معاشرہ کھنڈر بن جاتا ہے جو انسان کو درندہ بننے پر مجبور کر دیتی ہےاور جتنی تیزی سے یہ بیماری ہمارے ملک میں بڑھتی جا رہی ہے وہ مستقبل کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے۔
بہر حال عوام کو عید پر قربانی مبارک ہو اور آگے سے عالمی مالیاتی ادارے کے ایماء پر ہونے والے جھٹکوں کے لیے بھی تیار رہیں کہ ان سے عید پر کھائے جانے والے گوشت کے ہاضمے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: -   شاہین لاہور قلندرز کی ٹائٹل فتح کیلیے پْر امید

اردو ہماری اپنی اور پیاری زبان ہے اس کی قدر کیجیے۔
سوچ کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر دوسروں تک پہنچانا ہی میرا مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں