budgetorhakomat 259

عوامی بجٹ اور حکومتی خوشخبریاں

جیسے ایک ملازمت پیشہ شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے ایک مہینے بعد کتنی تنخواہ ملے گی اور اس کے علاوہ کیا کرنے سے اس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اسے اپنے اخراجات کا بھی علم ہوتا ہے کہ اسے حاصل ہونے والی آمدن کا کتنا حصہ کس چیز پر خرچ ہوگا، جیسے مکان کا کرایہ، راشن، بچوں کی فیس، کتابیں، مختلف بلز، پٹرول وغیرہ۔ اب وہ ان سب چیزوں کےلیے اپنی آمدن کے مطابق پیسے مختص کرتا ہے اور اگر ان سے کچھ پیسے بچ رہے ہوں تو اس سے کچھ نیا کرنے کا پلان بناتا ہے۔ اور اگر کم ہورہے ہوں تو ادھار لے کر گزارا کرتا ہے۔

ملکی بجٹ بھی بالکل ویسا ہی ہے کہ حکومت پورے ایک سال کا تخمینہ لگاتی ہے کہ ہمیں کتنی آمدنی ہوگی اور کن ذرائع سے ہوگی اور ہم نے کہاں پر کتنے پیسے خرچ کرنے ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ بجٹ تیار ہونے کے بعد وفاقی کابینہ اس کی منظوری دیتی ہے، جس کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے، پھر پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوتی ہے اور آخرکار صدر مملکت سے منظور کرایا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک قانونی حیثیت اختیار کرجاتا ہے۔

تبدیلی سرکار کو برسر اقتدار آئے تین سال ہوگئے اور یہ ان کا تیسرا بجٹ ہے جو انہوں نے قومی اسمبلی میں پیش کیا (منی بجٹ اس کے علاوہ ہیں) اور اس کے بعد سے حکومتی مشیروں اور وزیروں کی یہ ڈیوٹی لگی کہ عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ ہم نے کتنا عوام دوست بجٹ پیش کیا۔ تو آئیے ذرا اس بجٹ میں عوام کو دی گئی سہولیات و خوشخبریوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   بند آنکھوں سے اکثر گھر کی دہلیز پر کھڑی ہوجاتی ہوں

پہلی خوشخبری یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو دس فیصد تنخواہ میں اضافہ کرکے راضی کیا گیا اور یہ باور کرایا گیا کہ ان مشکل حالات میں اتنا اضافہ بھی ہماری ہی ہمت ہے، کیونکہ ہم چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کے عادی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف یہی حکومت عوام کو خوشخبریاں دیتے نہیں تھکتی کہ پاکستان ترقی کرگیا، معیشت مضبوط ہوگئی، چار فی صد ترقی کی شرح ہوگئی، پاکستان نے آگے بڑھنا شروع کردیا وغیرہ۔

دوسری خوشخبری یہ ہے کہ کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا مگر ٹیکس ہی کی مد میں آمدنی میں اگلے سال اضافہ بھی دکھایا گیا۔ پٹرولیم پر تقریباً 35 فیصد لیوی نافذ کی گئی، جس سے فی لیٹر بیس سے پچیس روپے قیمت میں اضافہ متوقع ہے۔ مگر بجٹ عوامی ہے اور غریب کا سوچ کر بنایا گیا ہے۔

تیسری خوشخبری یہ ہے کہ حکومت کا مشن ہے مہنگائی کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اس لیے بجٹ میں کئی فوڈ آئٹمز پر سیلز ٹیکس چھوٹ جو پہلے دی جاری تھی، وہ ختم کردی گئی۔ جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور مہنگائی کنٹرول کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ ان میں چینی، گندم، آئل، دودھ، دہی، انڈے وغیرہ جیسی غیر اہم اشیا شامل ہیں، اس لیے عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ حکومت مافیا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، اس لیے ان کو دی گئی چھوٹ ختم کردی۔ اب اگر مافیا چاہے تو اپنی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرکے حکومتی حصہ (سیلز ٹیکس) بھی عوام سے وصول کرسکتا ہے۔

چوتھی خوشخبری یہ ہے کہ 850 سی سی سے کم ہارس پاور انجن والی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کیا گیا، جس سے غریب آدمی بھی گاڑی خریدنے کے قابل ہوجائے گا اور گاڑی بنانے والے مزدور بھی خوشحال ہوجائیں گے۔ اب موٹر سائیکل لینے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ اس پر بھی سیلز ٹیکس لگا کر مہنگا کردیا ہے۔ اب ہوگی غریب کی سواری، دس سے پندرہ لاکھ کی گاڑی۔

یہ بھی پڑھیں: -   ’زندگی 25 سال پر ختم نہیں ہوتی‘، ملائکہ اروڑا کا پیغام

پانچویں خوشخبری یہ ہے کہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ 17500 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ مختص کی گئی ہے، جو کہ نہ پہلے ملتی تھی اور نہ ہی اب ملے گی اور اگر ملے بھی تو بیس ہزار میں بھی ایک مہینے کا بجٹ بنانا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ جیسے دو کے بجائے ایک روٹی کھانے کے مشورے دیے، ویسے ہی اس رقم میں گزارا کرنے کا گر بھی عوام کو سکھا دیا جاتا تو غریب عوام پر ان کا احسان عظیم ہوگا۔

عوامی ترقیاتی بجٹ میں دی گئی غریب عوام کو سہولتوں کے علاوہ حکومت کی اس بات پر تو تعریف بنتی ہے کہ مشکل حالات میں بھی ایک متوازن بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہوئی، چاہے اس کےلیے کچھ چینی مافیا کو منانے کےلیے انصاف کرنا پڑا یا عالمی مالیاتی ادارے کو منانا پڑا کہ بعد میں جو آپ کہو گے کرلیں گے، ابھی کےلیے تو عوام کو خوشخبری دینے کی اجازت مرحمت فرما دیں۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ بھی کردیا گیا۔ یعنی اندازہ کیجئے حکومت کو کتنی جلدی ہے کہ عوام کو ریلیف میسر ہو۔

اردو ہماری اپنی اور پیاری زبان ہے اس کی قدر کیجیے۔
سوچ کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر دوسروں تک پہنچانا ہی میرا مقصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   کیا لڑکیاں آج بھی خود کو کم تر اور کند ذہن سمجھتی ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں