Do nahi aik pakistan naya pakistan-1 175

دو نہیں ایک پاکستان، نیا پاکستان

پاکستان تحریک انصاف جو کہ یہ نعرہ مار کر میدان میں اتری کہ یہاں ایک نہیں دو پاکستان ہیں ایک غریب کے لیے اور ایک امیر کےلیے ہے جو کہ نا انصافی ہے اور اب دو نہیں ایک پاکستان ہوگا اور وہ ہوگا نیا پاکستان،ان کی اس سوچ نے عوام کو جہاں حد درجہ متاثر کیا وہاں ان کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور شاید یہی ان کا مطمع نظر تھا۔ اس کے علاوہ بھی ان کے منشور میں کئی محیرالعقول ایجادات شامل تھیں جیسے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں مگر ان کو فی الحال نظر انداز کر لیں اور اسی ایک بات پہ فوکس کریں تو کیا پاکستان تحریک انصاف نے” ایک نہیں دو پاکستان” کے مقابلے میں اپنے نعرہ “دو نہیں ایک پاکستان ۔ نیا پاکستان” پر کس حد تک عمل کیا ہے۔

2018ء کے سینٹ الیکشن کی ویڈیو جو کہ خود پاکستان تحریک انصاف نے پھیلائی ، جس میں پیسے لے کر بکنے والے بھی پاکستان تحریک انصاف کے لوگ ہیں ان کو بھی پارٹی سے نکال دیا؟ وہ آج بھی سینٹ انتخاب میں حکومتی وزراء کے ساتھ پاررٹی کرتے نظر آتے ہیں مگر خان کسی کو این۔آر ۔او نہیں دے گا۔ دو نہیں ایک پاکستان ، نیا پاکستان
پہلے اگر کسی بھی اور جماعت کا کو ئی رکن پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرتا تو ببانگ دہل یہ اعلان کیا جاتا کہ ایک اور وکٹ گر گئی اور اگر آج وہی ارکان واپسی کا سوچتے ہیں تو کرپٹ ہیں میں ان کو نہیں چھوڑونگا۔دو نہیں ایک پاکستان ، نیا پاکستان

یہ بھی پڑھیں: -   کورولش عثمان کی دوسری بیوی کا کردار نبھانے والی مالہون خاتون نے شادی کرلی

موجودہ سینٹ کے الیکشن میں جناب حفیظ شیخ کی شکست اس وجہ سے ہوئی کہ ہمارے سولہ منسٹرز بک گئے اور بکنے والوں کو تو خان چھوڑتا ہی نہین ہاں مگر ان سےاعتماد کا ووٹ لے کر انہیں معافی دی جاسکتی ہے تاکہ کرسی سلامت رہے۔اور اب وہ ووٹ بھی مل گیا۔ وزیر اعظم زندہ باد۔۔ دو نہیں ایک پاکستان ، نیا پاکستان
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
غریب و مجبور سرکاری ملازمین اور اساتذہ جو کہ ہمارے سروں کے تاج ہونے چاہیے تھے وہ سڑکوں پر مطالبات لے کر نکلے تو ان پر ایکسپائرڈ آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے اور جب بک جانے والے ممبرز سمیت اپنی ہی پارٹی کے تمام ارکان سے اعتماد کا ووٹ لیا جا رہا تھا تو تحریک انصاف کے چند کارکن پورے اسلام آباد میں دندناتے پھر رہے تھے اور پولیس صرف تماشائی بنی ہوئی تھی۔ اور تو اور اپوزیشن کے ارکان پر حملہ بھی کر دیا اور وہ بھی پارلیمنٹ لاجز کے باہر مگر ان کو سب معاف ہے کیونکہ دو نہیں ایک پاکستان ، نیا پاکستان

جمہوریت کا حسن ہی خفیہ ووٹنگ میں ہوتا ہے تاکہ ہر کوئی بغیر کسی دباو کے اپنا ووٹ کا حق ادا کرسکے۔ اگر اوپن ووٹنگ ہو تو کوئی بھی اپنی مرضی سے ووٹ ہی نہیں ڈال سکتا اور سینٹ کے لیے ووٹنگ تو پھر سرے سے ہی بے وقعت ہو کر رہ جاتی ہے کیونکہ جس جماعت کے جتنے ارکان ہونگے وہ اس کے ووٹ ہونگے اور اسی حساب سے فیصلہ بھی ہو جائے گا۔
اپوزیشن کے تمام کیسز پر جب نیب کوئی فیصلہ لیتا ہے تو پورے کروفر کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ یہ کیسیز بھی ہم نے نہیں کیے اور نیب کا چئیرمین بھی انہیں کا لگایا ہوا ہے۔ باالکل ٹھیک بات مگر اپنے ہی پسندیدہ چیف الیکشن کمیشن آج بہت برے لگے جب انہوں نے ڈسکہ میں ری الیکشن کا فیصلہ کیا اور سینٹ میں ہار ہو گئی مگر الیکشن کمیشن نے اوپن بیلیٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ دو نہیں ایک پاکستان ، نیا پاکستان

یہ بھی پڑھیں: -   ’’کنگ بابر اعظم‘‘

ابھی تو چند ایک مثالیں دی ہیں دو نہیں ایک پاکستان کے حق میں اگر اب بھی کسی کو یہ یقین نہیں آتا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ دو نہیں ایک پاکستان یعنی نیا پاکستان بنا تو نہ آئے مجھے تو پورا یقین ہے اس بات پر کہ واقعی پہلے کی طرح اب دو نہیں ایک ہی پاکستان ہے جو کہ نیا پاکستان ہے اور وہ کسی غریب کا نہیں ، کسی اپوزیشن والے کا نہیں ، کسی استاد کا نہیں ، کسی سرکاری ملازم کا نہیں ، کسی کاشت کار کا نہیں اور نہ ہی کسی عام آدمی کا ہے بلکہ وہ پاکستان صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہر اس وزیرکا ہے جو اپنے حلقہ میں اکیلا جانے کے قابل نہیں رہا، وہ ان امپورٹڈ مشیروں کا ہے جو کسی بھی وقت اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اپنے رہائشی ملک جا سکتے ہیں، وہ ان ارکان کا ہے جو کسی اچھی پوزیشن کے انتظار میں ہیں اور ان ٹائیگرز کا ہے جو صرف خان کی محبت میں ہلکان ہیں اور صرف خان کو ہی اپنا مسیحا اور آخری امید تصور کیے ہوئےہیں۔

اردو ہماری اپنی اور پیاری زبان ہے اس کی قدر کیجیے۔
سوچ کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر دوسروں تک پہنچانا ہی میرا مقصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   کوئی گالیاں دیکر مجھے جمہوری حق استعمال کرنے سے نہیں روک سکتا، مہوش حیات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں