saraiki saqafti din 214

سرائیکی ثقافتی دن سرکاری سطح پر کب منایا جائے گا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جو زبانیں سب سے زیادہ بولی جاتی ہیں، ان میں سے ایک پنجابی اور دوسری سرائیکی ہے۔ پنجاب کے علاوہ صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی بڑی تعداد میں سرائیکی بولنے والے خاندان رہائش پذیر ہیں۔ بلکہ خیبرپختونخوا کے دو اضلاع، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں 70 فیصد سرائیکی بولنے والے افراد ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 24 اضلاع ایسے ہیں جہاں سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ ان میں ملتان، جھنگ، اوکاڑہ، لودھراں، خوشاب، بھکر، وہاڑی، بہاولپور، بہاول نگر، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، راجن پور، پاک پتن، چنیوٹ اور وزیراعظم پاکستان کا آبائی علاقہ میانوالی بھی شامل ہیں۔

ان سرائیکی بولنے والوں کا دیرینہ مطالبہ ایک الگ صوبہ ہے، تاکہ ان کی محرومیوں کاازالہ ہوسکے اور اس کےلیے کافی عرصے سے جدوجہد جاری ہے۔ اگرچہ اس میں شدت نہیں، کیونکہ سرائیکی علاقے کے لوگ امن پسند اور کاشتکار ہیں، اس لیے سادہ پن ان کی فطرت ہے۔ اپنا حق دوسروں کو کھاتے ہوئے چپ چاپ دیکھتے ہیں اور پھر سے اسی محنت اور لگن سے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں۔

ان سرائیکی بولنے والوں میں ہر ذات، برادری، قوم کے لوگ شامل ہیں اور آپس میں ہمیشہ شیروشکر ہوکر رہے ہیں۔ کبھی باہمی فسادات تو دور بلکہ یہ ایک دوسرے کو ہمیشہ سے سپورٹ کرتے آئے ہیں، چاہے وہ پٹھان ہو، بلوچ ہو، جٹ ہو، راجپوت ہو، گجر ہو یا کسی بھی برادری سے تعلق رکھتا ہو، کبھی اسے اس بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ وہ سب سرائیکی بولنے اور سرائیکی کہلانے میں ایک ہوجاتے ہیں۔ اور اگر ایک نہیں ہوتے تو اپنے حق کے مطالبے کےلیے ایک نہیں ہوتے۔ یہی ان کی کمزوری ہے اور یہی ان کی محرومی کی وجہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   انسانی زندگی میں تعاون باہمی کی اہمیت

میں پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اور صوبائی سطح پر ایک نیا صوبہ بنانے کی قرارداد پاس کی اور اس میں پاکستان مسلم لیگ نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ مگر 2013 کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی سرائیکی علاقوں سے قومی اسمبلی کی صرف ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوسکی، جس کی وجہ سے صوبہ بننے کا عمل بھی رک گیا۔

پھر پاکستان تحریک انصاف نے سرائیکیوں کو نیا صوبہ بنا کر دینے کا وعدہ کیا اور وہ بھی حکومت آنے کے سو دن کے اندر اندر، جس کا سرائیکی قوم نے خیر مقدم کیا اور 2018 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے سرائیکی علاقوں سے 50 میں سے 30 نشستیں جیت لیں اور یہی ان کی پنجاب میں اکثریت کا باعث بھی بنیں۔

اب تک پاکستان تحریک انصاف ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے اضلاع کےلیے ایک سیکریٹریٹ قائم کرسکی ہے۔ پہلے سو دن تو گزر گئے بلکہ اب تو پورے تین سال ہونے کو آگئے، مگر صوبہ بننے کا خواب ابھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔

حکومت نے 2 مارچ کو بلوچ کلچر ڈے تو سرکاری سطح پر شایان شان طریقے سے منایا مگر کیا 6 مارچ، جوکہ تقریباً پچھلی ایک صدی سے سرائیکی کلچر ڈے کے طور پر منایا جاتا رہا ہے، حکومت اسے بھی سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے گی؟

باوجود اس کے کہ صوبہ بھر میں سرائیکی تعداد میں تقریباً چار کروڑ کے لگ بھگ ہیں اور ان میں بلوچ بھی شامل ہیں، ان میں خود وزیراعلیٰ بھی شامل ہیں اور کئی کابینہ ارکان بھی شامل ہیں۔ تو کیا سرائیکی ثقافت کی ترویج کےلیے سرائیکی ثقافتی دن بھی سرکاری سطح پر منایا جائے گا یا صرف سوشل میڈیا پر مبارکبادیں ہی دی جائیں گی؟

یہ بھی پڑھیں: -   بنگلادیش نے آئی ایم ایف سے ساڑھے 4 ارب ڈالر قرض مانگ لیا

اردو ہماری اپنی اور پیاری زبان ہے اس کی قدر کیجیے۔
سوچ کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر دوسروں تک پہنچانا ہی میرا مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں