Helping 58

انسانی زندگی میں تعاون باہمی کی اہمیت

خالق کائنات نے انسان کو سماجی زندگی گذارنے کے حوالے سے ایک دوسرے کا محتاج بنایا ہے،انسان ایک دوسروں کی مدد کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا، ایک دوسرے کی محتاجی کا عمل پورے معاشرے پہ محیط ہوتا ہے، اگر ایک عام سی بنیادی ضرورت ”روٹی”کے حصول پہ غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ کتنے سارے افراد مل کر ایک روٹی کو تیار کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، مثلاً گندم کی روٹی کے حصول کے لئے آٹے کی ضرورت پڑتی ہے، اس کے لئے گندم چاہئے اور گندم کھیت میں اگائی جاتی ہے۔اب دیکھئے کسان گندم کھیت میں اگاتا ہے، اس پہ کتنے لوگ محنت کرتے ہیں، اس کی بوائی ہوتی ہے، فصل تیار ہوتی ہے، اسے کاٹا جاتا ہے، پھر اس کو اکٹھا کرنے کا عمل ہوتا ہے، اس میں کئی لوگ شامل ہوتے ہیں اور پھر اسکے دانے اور بھوسہ الگ کیا جاتا ہے، یہاں تک تو کسانوں کی محنت ہوتی ہے، پھر یہ گندم پیک ہو کر مارکیٹ میں جاتی ہے،اس کے لئے ٹرانسپورٹ اور منڈی میں کئی افراد اپنی محنت ڈالتے ہیں اس طرح یہ منڈی سے ملوں تک پہنچتی ہے اور پھر ملوں میں کئی افراد کی محنت سے یہ آٹا کی صورت اختیار کرتی ہے، اس کے بعد پھر اسے پیک کیا جاتا ہے اور اسے دوبارہ مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا ہے، اور اس طرح مزید کئی افراد کی محنت اس پہ صرف ہوتی ہے۔ اور پھر یہ آٹا افراد معاشرہ خریدتے ہیں، اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کی بھی محنت بھی شامل ہوجاتی ہے، پھر اسے گھر لایا جاتا ہے اور گھر میں یا ہوٹل میں کسی بھی جگہ اس آٹے کو روٹی کی شکل دینے میں بھی افراد کی محنت شامل ہو جاتی ہے، اور پھر دستر خوان کی زینت بننے تک اس میں کسی نہ کسی کی محنت شامل ہوتی ہے، گویا صرف ایک روٹی مہیا کرنے کے لئے کسان، مزدور، ڈرائیور، مارکیٹنگ کرنے والے، سیلز مین، دوکاندار،خریدار وغیرہ نے مسلسل کام کیا اور اس کو ممکن بنایا،یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ انسانی معاشرہ کس طرح مل جل کر کام کرتا ہے اور ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرتا ہے، اس کا مزید تجزیہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ہم ایک دوسرے کے لئے کام کرتے ہیں، درزی ہمارے لئے کپڑے سیتا ہے، اور دوسرا انسان اس کے لئے روٹی، آٹے کا بندو بست کرتا ہے، کوئی اس کے لئے فروٹ پیدا کرتا ہے اور مارکیٹ تک لاتا ہے، ایک سائنسدان اس کے لئے دوا ایجاد کرتا ہے، ایک سیلز مین اس کو مارکیٹ تک پہنچاتا ہے،کوئی کار ڈیزائن کرتا ہے،کوئی اسے بناتا ہے اور کوئی اس کو چلاتا ہے، اور کوئی اس کی خرابی دور کرتا ہے، تو کوئی کتاب تخلیق کرتا ہے،کوئی اسے چھاپتا ہے،کوئی اسے پڑھتا ہے تو کوئی گھر بنانے کا ہنر جانتا ہے، تو کوئی کپڑا بنانے کے کارخانے لگاتا ہے، اس طرح تمام زندگی کے شعبے سب مل کر چلاتے ہیں، اور سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ خالق کائنات نے انسانوں کو ہر طرح کے علم وہنر کی صلاحیت اس لئے عطا کی ہے کیونکہ انسانی معاشرے میں انسان ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتے۔کوئی شخص تنہا نہیں رہ سکتا اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ خود اپنے لئے آٹا پیدا کرے، خود ہی گاڑی ڈیزائن کرے، اسے بنائے اور چلائے، خود اپنے لئے کپڑا بنانے کا کارخانہ بنائے، خودہی کی فصل کاشت کرے،خود ہی تمام سبزیاں اور فروٹ اگائے، اور اس طرح  ممکن نہیں کہ وہ تن تنہا تمام ضروریات زندگی پوری کرے،لہذا اس حقیقت کو ماننا پڑتا ہے کہ ہر انسان دوسرے کی مدد کا کسی نہ کسی طرح محتاج ہے۔لیکن اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب ایک دوسرے کی محتاجی کو دور کرنے کا یہ عمل تعاون باہمی کے اصول پہ ہو گا،یعنی معاشرے میں انسان ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال رکھیں، ایک دوسرے کے ساتھ مدد و تعاون کا رویہ استوار رکھیں، انسان دوسروں کی مدد و تعاون کے نظریئے پہ اپنے علم و ہنر کو معاشرے کے لئے وقف کرے، اور اس طرح سے معاشرے میں محنت کرے تاکہ دوسروں کو اس کا فائدہ پہنچے، اچھی اور معیاری اشیاء انسانوں کو میسر آئیں،اور ایسا کوئی بھی عمل معاشرے میں نہ ہونے دیں جس سے دوسرے انسانوں کے حقوق متاثر ہوں، اس سے معاشرے کے اندر ایک یکجہتی اور وحدت پیدا ہوتی ہے، ایک دوسرے سے تعلق مضبوط ہوتا ہے، ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی عادت بن جاتی ہے اگر معاشرہ

یہ بھی پڑھیں: -   کسان کی آواز سنو۔۔!

تعاون باہمی کے اصول پہ چل رہا ہے تو لوگ شیر وشکر ہو کر رہیں گے اور ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے۔ایسے ادارے بنائیں گے جو ان کی اجتماعی ضرورتوں کو پورا کریں گے اپنی ساری محنتوں کو اداروں کی شکل دیں گے اور اس طرح ایک قوم اور ملک کی سطح پہ تمدنی ترقی کے عروج تک پہنچیں گے۔اب ایک دوسرے کی ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تعاون باہمی کا اصول نہایت اہم ہو جاتا ہے، سماج کی تشکیل اور استحکام اسی میں ہے کہ انسان باہمی تعاون کے ساتھ اس پورے نظام کو چلائیں۔ لیکن جب تعاون باہمی کا یہ عمل کسی وجہ سے متاثر ہو جائے تو معاشرہ مشکل صورتحال سے دوچار ہو جاتا۔

 معاشرے کے اندر تعاون باہمی کے اس اصول کو قائم رکھنے کے لئے سیاسی اور معاشی نظام اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر معاشرے کے اندر کوئی گروہ یا طبقہ وسائل پہ کنٹرول کر کے، انسانوں کے ایک بڑے حصے کو لوٹنا شروع کر دے تو اس طرح سے معاشرے  کے اندر سے تعاون باہمی کا تصور رفتہ رفتہ ختم ہو جاتا ہے، اور اس کی جگہ طبقاتی کشمکش لے لیتی ہے، لوگ ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے میں لگ جاتے ہیں، ایک طرف اکثریتی طبقہ محنت کرنے کے باوجود بنیادی ضروریات کے لئے ترستا ہے اور دوسری طرف ایک فیصد طبقہ تمام نعمتوں سے مستفیض ہوتا ہے،کاشتکار، طرح طرح کی فصلیں، سبزیاں، فروٹ اگاتا ہے، پورے پورے خاندان کے ساتھ ز مینوں پہ مشقت کرتا ہے لیکن وہ خود اور اس کا کنبہ ان سے اچھی طرح مستفید نہیں ہو سکتا، اس کے اپنے گھر میں غربت کے ڈیرے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   ہمارے ملک میں ٹیکس کا کلچر نہیں

مزدور اپنے خون پسینے سے عمارتیں، محلات،سڑکیں، بناتے ہیں شہروں، قصبوں کو روشنیوں سے منور کرتے ہیں لیکن ان کے اپنے گھر روشنیوں سے محروم ہوتے ہیں۔اس طرح معاشرے کے ہر فرد کی محنت کا استحصال شروع ہو جاتا ہے۔

جب معاشی نظام اور قومی و ملکی وسائل پہ قابض طبقات معاشرے کو عدم تعاون کے اصول پہ چلاتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد و اہانت کا جو فطری تقاضہ تھا وہ معاشرے میں ناپید ہو جاتا ہے، زمینیں موجود ہوتی ہیں، لیکن روٹی کے لئے گندم کا حصول ناممکن بنا دیا جاتا ہے، کارخانے، ملیں، موجود ہوتیں ہیں ان میں لاکھوں مزدورں کو جانوروں کی طرح استعمال میں لایا جاتا ہے لیکن ان کے بچے اچھی تعلیم، صحت، خوراک اور رہائش کے لئے ترستے ہیں۔طبقاتی تقسیم معاشرے کو غربت و افلاس کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔انسانوں کی ایک بڑی آبادی فقط ایک چھوٹے سے طبقے کی ترقی اور بقاء کے لئے مصروف عمل بنا دی جاتی ہے۔اور یہ بڑی چالاکی سے کیا جاتا ہے، اس کے لئے ریاست کے سیاسی نظام کو اپنے کنٹرول میں کیا جاتا ہے، اوپھر ایک ایسا عدم مساوات پہ مبنی معاشی نظام رفتہ رفتہ مسلط کر دیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پہ وسائل ایک طبقے کے کنٹرول میں چلے جاتے ہیں۔اس طرح یہ طبقاتی نظام انسانی فطری تقاضوں کی نشوونما میں حائل ہو جاتا ہے، اور انسانی معاشرے کی فطری ترقی رک جاتی ہے۔ایسی صورتحال کا علاج یہ ہے کہ معاشرے کی اس فطری ترقی کو جاری و ساری رکھنے کے لئے اس فرسودہ طبقاتی سیاسی اور معاشی نظام کو معاشرے

یہ بھی پڑھیں: -   بند آنکھوں سے اکثر گھر کی دہلیز پر کھڑی ہوجاتی ہوں

سے ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ایسے وقت میں معاشرے کے پڑھے لکھے افراد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے کو تعاون باہمی کے اصول پہ لانے کے لئے اس نظام کی فرسودگی کے خلاف جدو جہد کریں، معاشرے کو یہ شعور دیں کہ وہ اپنے فطری حق کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، اپنے حقوق کی جدو جہد میں شریک ہوں، کسی فرد، گروہ یا طبقے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کی پیدا کی ہوئی نعمتوں سے محروم رکھے اور انسانوں کو اپنا غلام بنا کر رکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں